زمینی خداﺅں کا تصادم اور جمہور

زمینی خداﺅں کا تصادم اور جمہور

قدیم یونانی روایت کے مطابق جب طاقتور ترین خدا سے دوسرے خداﺅں نے مل کر طاقت چھینی تو اُن کے درمیان زیادہ طاقت کے حصول کا خوفناک تصادم شروع ہوا اس میں فتح مند تو وہی ہوا جو زیادہ طاقت رکھتا تھا لیکن اس تصادم کے نتیجہ میں عوام کو کچل کے رکھ دیا گیا۔ اس تصادم کی جھلک ہمارے موجودہ حالات میںکافی حد تک نظر آتی ہے۔ لیکن ان حالات کو دیکھ کر ہمیں حیران نہیں ہونا چاہئے کہ ہم وہی فصل کاٹ رہے ہیں جو ہم بوتے رہے اور جس کی آبیاری کرتے رہے۔ آج کے معاشی اور معاشرتی نظام کی شکست و ریخت ہماری اُسی سوچ کی بدولت ہے جس کو ہم پروان چڑھاتے رہے ہیں نتیجتاً آج ریاست کو ان مشکل حالات کا سامنا ہے اس کے ساتھ ساتھ اُن پاک دامنوں کو بھی خطرات کا سامنا ہے جو ہمیشہ پتھر پھینکنے میں پہل کرتے رہے ہیں۔ اگر دشنام طرازی کی اس روایت کی آغاز میں ہی حوصلہ شکنی کی جاتی تو آج سرِ بازار عزتوں کی نیلامی یوں نہ کی جاتی۔ آج زمینی خداﺅں کی یہ جنگ ایک مضبوط میڈیا گروپ (جو بلاشبہ پاکستان کا سب سے بڑا اور مضبوط میڈیا ہاﺅس ہے) اور پاکستان کی سب سے بہترین اور مضبوط انٹیلی جنس ایجنسی کے درمیان ہے اور موجودہ حکومت کا کردار نہایت منافقانہ اور احمقانہ ہے اور ”صاف چھپتے بھی نہیں سامنے بھی آتے بھی نہیں“ کے مصداق دوہری پالیسی پر گامزن ہے۔ موجودہ حکومت کے ذمہ داران کے روےے اور بیانات نے جمہوریت کے استحکام کےلئے کی گئی جدوجہد خصوصاً گزشتہ 6 سال کی محنت کو زک پہنچائی ہے۔ حکومتی وزراءخود تو حکومت میں ہوتے ہوئے ریاستی اداروں کے خلاف بے دھڑک ہو کر بیانات تو دیتے ہی رہتے ہیںلیکن جب وہی باتیں ایک میڈیا گروپ کی طرف سے ہوتی ہیں تو وہی وزیر ریاستی اداروں کا محافظ بن کر شکایات لےکر پیمرا پہنچ جاتا ہے اور پس پردہ دوہرا کردار ادا کرتا ہے۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی تاریخ پر نظر رکھتے ہوئے ان تاریخی غلطیوں کو سدھاریں جس نے ہمیں اس تشویشناک صورتحال میں مبتلا کر رکھا ہے۔
تاریخ سے سبق سیکھتے ہوئے اسی گٹھ جوڑ کے خلاف جمہور کے حقوق کو مدنظر رکھ کر محترمہ بےنظیر اور میاں نواز شریف نے میثاق جمہوریت پر دستخط کےے تاکہ ملک میں جمہوریت کے استحکام کےلئے کام کیا جائے جمہورہی کی جدوجہد کے ذریعہ ملک میں عدلیہ کو آزادی اور میڈیا کوخود مختاری حاصل ہوئی اور طاقت کے نئے مراکز قائم ہوئے۔ افتخار چوہدری کے دور میں عدلیہ اور میڈیا کہ درمیان ایک اتحاد نظر آیا اور عدلیہ جو کہ اپنے فیصلوںکے ذریعے بولتی ہے بریکنگ نیوز اور اخبارات کی شاہ سرخیوں کے ذریعے خطاب کرنے لگی۔ جمہوری حکومت آئی ایس آئی کو وزارت داخلہ کے ماتحت لانے کی کوشش کرے یا امریکہ سے امداد سول اداروں کے ذریعے لانے کی بات ہو تو طاقت کے ان تمام مراکز کے درمیان اتحاد دیدنی تھا۔ ”کیری لوگر بل“ ہو یا ”میمو ایشو“ طاقت کی یہ تمام مراکز متحد رہے۔ ریاست کے سب سے اعلیٰ عہدے پر براجمان صدر آصف علی زرداری کو غدار تک ثابت کرنے کےلئے سازش کرتے رہے۔ حکومتی عہدےدار دن کے وقت عدلیہ کے کٹہرے میں کھڑے رہتے اور رات کو میڈیا کی عدالتوں میں حاضر ہوتے۔ 2013ءکے انتخابات سے قبل پیپلز پارٹی کو طالبان کی دھمکیوں کے باعث آزادانہ انتخابی مہم چلانے میں مشکلات کا سامنا تھا اس پر میڈیا کہ بڑے حصے نے رائے عامہ کو باور کرانے کی کوشش کی کہ مقابلہ صرف 2 کھلاڑیوں میاں نواز شریف اور عمران خان کے درمیان ہے۔ اپنے تجزیوں میںبھی انہی جماعتوں کو فوقیت دی جاتی رہی۔ طالبان کی طرف سے بھی اپنی ہمدرد جماعتوں کو کھل کھیلنے کی مکمل آزادی تھی جبکہ میڈیا کہ بڑے حصے نے بھی اس تاثر کو دانستہ اور غیر دانستہ پھیلانے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ صرف ایک سال کے اندر اس کھیل کے یہ تمام کردار دست و گریباں ہےں۔ جو اس تمام کھیل کے مرکزی کردار تھے وہی دھاندلی کا شور مچا رہے ہیں۔ وہ سب جو ہمیشہ بغیر ثبوت کے الزام لگانے کو اپنے فرائض منصبی کا حصہ سمجھتے تھے آج ایک دوسرے سے ثبوت مانگ رہے ہیں۔ حق تو یہی ہے کہ بغیر ثبوت الزام نہ لگایا جائے اور کسی بھی معتبر ادارے کو بدنام نہ کیا جائے۔
مسلح افواج اس وقت جانوں کی قربانیاں دے کر سب سے مشکل جنگ لڑ رہی ہے اس کے اداروں کو بدنام کرنا ریاست کے حق میں نہیں۔ میڈیا کے افراد کی غیر ذمہ داری کا مطلب یہ نہیں کہ اظہار رائے کی آزادی کے حق پر کوئی قدغن لگائی جائے۔ دھاندلی کا شور مچا کر نظام کی تبدیلی کا فریب دے کر ملک کو ایک بار پھر غیر جمہوری نظام کے سپرد کروایا جائے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اُسی میثاق جمہوریت سے رہنمائی لی جائے جس کے ذریعے آمریت سے جمہوریت اور جمہوریت سے جمہوریت تک کے سفر کا معجزہ اس ملک کے اندر رونما ہوا۔ پارلیمان کو چاہئے کہ ایک ٹروتھ اینڈ ری کنسیلیشن کمشن قائم کرے جہاں پر تمام ادارے اور افراد سچ بولیں اور اعتراف جرم کریں تاکہ ہم اس پیچیدہ صورتحال سے نکل سکیں اور تاکہ نئے دور کا آغاز ہو۔ شاید ایسے ہی ہم تاریخ کا دھارا بدل سکیں اور زمینی خداﺅں کے اس تصادم سے جمہور فتح مند ہو اور ہم وہ دن دیکھ سکیں....
جب ارضِ خدا کے کعبے سے
سب بُت اٹھوائے جائیں گے
سب تاج اُچھالے جائیں گے
سب تخت گرائے جائیں گے
اور راج کرے گی خلقِ خدا