دو قومی نظریہ اور نریندر مودی

کالم نگار  |  عزیز ظفر آزاد
دو قومی نظریہ اور نریندر مودی

نواز شریف نے 1999ءواجپائی نواز ملاقات سے بات کو جوڑ کر آگے بڑھنے کی خواہش کے ساتھ تصادم سے گریز کرتے ہوئے تعاون کی شاہراہ پر چلنے کی دعوت دی مگر تنگ نظر ہندو نے آداب میزبانی کو بھی بالائے طاق رکھتے ہوئے ممبئی حملوں کی چارج شیٹ بڑے حاکمانہ انداز میں سامنے رکھ دی۔ کاش میاں صاحب کو مسلم لیگ میں موجود بزرگ بالخصوص بھارت یاترا میں ہم رقاب سرتاج عزیز ہندو ذہنیت سے آگاہ کرتے کہ بنیا کمزور کے سامنے زبردست ہوتا ہے، بہادر ہوتا ہے، ظلم و ستم کے نئے نئے ہتھکنڈے ایجاد کر لیتا ہے مگر حاکم اور ظالم کے سامنے دست بستہ حکم کا غلام بنا رہتا ہے۔ سرتاج عزیز اور راجہ ظفرالحق ہندی تاریخ بتاتے کہ سر سید، علامہ اقبال اور خود قائداعظم عرصہ دراز تک ہندو مسلم اتحاد کے داعی رہے۔ حضرت قائدکو تو ابتدا ہی میں ہندو مسلم اتحاد کے سفیر کا خطاب دیا گیا مگر یہ عظیم ہستیاں اس نتیجے پر پہنچیں کہ ہندو ایک الگ قوم ہے اور مسلمان علیحدہ قومیت کے حامل ہیں۔ دونوں مل کر نہیں بس سکتے۔ مولانا محمد علی جوہر نے تو تحریک خلافت کی قیادت کا تاج گاندھی کے سر پر سجایا تھا مگر کراچی جیل سے رہائی کے بعد آپ نے تاریخی جملہ کہا جو ضرب المثل کی حیثیت اختیار کر گیا۔ آپ نے فرمایا (کیمونسٹ ہندو دراصل نیشنلسٹ ہوتا ہے اور کیمونسٹ مسلمان خود غرض ہوتا ہے) ہندو کے تعصبانہ رویوں نے ہی مسلمانان ہند کو علیحدہ تشخص اختیار کرنے پر مجبور کیا۔ کانگریس جو سیکولر ہونے کا دعوی کرتی تھی قیام پاکستان کے بعد کی پالیسیوں میں کہیں مسلم ملت کو ملیا میٹ کرنے سے گریز نظر نہیں آیا۔ کانگریس نے ہی تقسیم کے بعد پاکستان کے حصے کے اثاثے نہ دیے۔ 1965ءکی جارحیت کانگریس کے دور میں ہوئی کیا مشرقی پاکستان بھارت کی بے جا مداخلت کے بغیر جدا ہو سکتا تھا؟
آج ہندوستان کی ہندو اکثریت نے ایک ایسی جماعت کو جو مسلم دشمنی کا منشور رکھتی ہے اور ایسی شخصیت کو جو گجرات میں ہندو بربریت سے مرنے والے ہزاروں مسلمانوں کے بارے میں افسوس کے اظہار کیلئے یہ جملہ استعمال کرتا ہے (گاڑی چلاتے ہوئے کوئی کتے کا پلا کچلا جائے تو افسوس تو ہوتا ہے)۔ اس انتہا پسند گجراتی قیادت کو پورے بھارت نے بھرپور اعتماد دے کر ثابت کر دیا کہ بھارت سیکولرنہیں ہندو ریاست ہے۔ اب کی بار خاص بات یہ ہے کہ دو قومی نظریے کے شدید مخالف اس کے احیا کیلئے سرتوڑ سرگرم ہیں۔ اب بھارت میں سکھ اور مسلمان ہی نہیں بلکہ للت بھی غیر محفوظ ہونے کے سبب اپنے حقوق کیلئے منظم ہو رہے ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ یوپی سے لیکر بہار تک ہندوﺅں میں یادیو لینڈ کا تصور بھارت کے اندر بھارت نمودار ہونے کےلئے بے چین ہے۔ لوگوں کا تجزیہ ہے کہ مودی کی پالیسیوں کے باعث بھارت میں ایک نیا پاکستان جنم لے گا۔ راقم کا خیال ہے کہ نئے پاکستان کے علاوہ خالصتان کے ساتھ بھارت میں کئی بھارت جنم لیتے محسوس ہو رہے ہیں ۔
وزرات عظمیٰ کے حلف کسی مہمان سربراہ کو مدعو کرنا بھارت کی روایت نہیں۔ بھارت نے حلف وفاداری خاص قومی ایام میں ہوتی ہے نامعلوم کس دباﺅ کے تحت پاکستانی وزیر اعظم کو بلانا پڑا تو بڑی چالاکی سے سارک کا پلیٹ فارم استعمال کیا وہاں اس دن جو کچھ ہوا اس پر بہت لکھا جا چکا اس کے بعد کے رویے مسلم امہ خصوصا پاکستان میں ان عناصر کی آنکھیں کھولنے کےلئے کافی ہیں جو امن کی آشا کے جھانسے میں بھارت سے دوستی ہی نہیں بلکہ ایم ایف این کا درجہ دینے کےلئے بے تاب ہیں۔ بی جے بی کی فتح کے فوراً بعد پہلا کام یہ ہوا کہ بنگلور میں فجر کی اذان پر پابندی کیلئے جلوس نکلے۔ دیکھیں یہ بات کتنی جلدی کہاں تک پہنچتی ہے؟ ہیوی مینڈیٹ کے نشے میں بی جے بی کے رہنما نے کھلم کھلا کہنا شروع کر دیا کہ پاکستان داﺅد ابراہیم کو ہمارے سپرد کرے ورنہ اس کو پاکستان سے ایسے حاصل کیا جائے گا جیسے امریکہ نے اسامہ بن لادن کو اٹھایا۔ نئی منتخب حکومت نے کشمیر کے حوالے سے اہم فیصلے کے مطابق عمل کا آغاز کر دیا۔ وزیر مملکت برائے وزیراعظم جتندر سنگھ نے کہا کہ موجودہ حکومت بھارتی آئین کے آرٹیکل نمبر 370 کو ختم کرنے کےلئے فریقین سے رابطے میں ہے اسے آئین سے حدف کرنے کو یقینی بنائے گی تاکہ کشمیر بھارت کا حصہ بن سکے جس پر مقبوضہ کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور معروف کشمیری رہنما محبوبہ مفتی بھی منصوبہ کو مسترد کر کے مذمت کرنے پر مجبور ہو گئے۔ انہی واقعات کے نمودار ہونے کے سبب بادشاہی مسجد دہلی کے امام کا کہنا ہے کہ لفظ اقلیت کا مفہوم جتنا کھل کر اب سامنے آیا ہے پہلے کبھی ایسا نہ تھا۔ راقم کو اصرار ہے کہ بھارتی پالیسیوں نے دو قومی نظریے کو ایک بار پھر زندہ کر دیا۔ موجودہ منظرنامے میں بھارت سے تعلقات میں بہتری نہایت ضروری ہے مگر اس سے اہم اپنے ملکی سطح پر قومی اتحاد کا اہتمام کرنا ہو گا کیونکہ دشمن کے عزائم کا مقابل قوم سیسہ پلائی دیوار بن سکے۔ یہ بھی درست ہے کہ تمام مسائل یکدم حل نہیں ہو سکتے مگر مذاکرات میں درجہ بندی طے کرنا ضروری ہے تاکہ یہ تاثر ختم ہو سکے کہ ہم اہم امور سے پسپائی اختیار کر رہے ہیں۔ ہمارے حکمرانوں کو زمینی حقائق کے ادراک کے ساتھ عوامی امنگوں اور قومی وقار کی ہر صورت پاسداری کرنی ہو گی۔ یاد رہے بھارت ہماری مجبوری نہیں نقشہ عالم پر ہماری جغرافیائی حیثیت بھارت سمیت تمام ہمسایہ ممالک کی ضرورت بھی ہے اور مجبوری بھی۔ پاکستان کی حفاظت اللہ کرے گا ہمیں اپنے آپ کو اللہ کا سچا سپاہی ثابت کرنا ہو گا۔