جو کاٹو گے وُہی لال نکلے گا

کالم نگار  |  نازیہ مصطفٰی
جو کاٹو گے وُہی لال نکلے گا

گیارہویں صدی عیسوی میں بارش ہوتی تو پیرس اور لندن سے مہینوں تک کیچڑ اور گندگی کا خاتمہ کرنا مشکل ہوجاتا تھا، ناقص پن کا یہ عالم تھا کہ یورپ کے بڑے شہر ہمہ وقت غلاظت سے لتھڑے رہتے، کوڑے کرکٹ کے ڈھیروں سے مہینوں تعفن اٹھتا رہتا، بدبو کے بھبھکے جب رعایا کا جینا حرام کردیتے تو تو اِن ڈھیروں کو آگ لگادی جاتی۔ کوئی شخص بیمار پڑتا تو کوئی طبیب ڈھونڈے سے نہ ملتا، یوں مریض ایڑھیاں رگڑ رگڑ کر مرجاتے،تعلیم کیلئے اسکول کالج توکجا پڑھے لکھے لوگوں کی ہی کمی تھی، رات پڑتے ہی شہر اندھیرے میں ڈوب جاتے، پانی کی کمیابی کے باعث نہانے اور طہارت کا ”رواج“ ہی نہ تھا، لیکن اُس سے دو سو سال پہلے یورپ کے ہی جنوب مغرب میں واقع ایک ملک یورپ کا خوشحال اور ترقی یافتہ ملک تھا، جہاں دنیا کی جدید ترین سہولیات دستیاب تھیں۔ جزیرہ نما آئبیریاکے اس ملک میں صفائی ستھرائی اور نکاسی کا جامع نظام موجود تھا۔ اس کے شہروں میں اگر مہینوںبھی بارش ہوتی رہتی تو بارش کے اختتام پردس منٹ میں شہر کی ساری سڑکیں اور گلیاں خشک ہوجاتی تھیں۔ بحیرہ روم کے ساحلوں کو چھونے والے اس ملک میں کے تمام بڑے شہروں کو رات کے وقت مکمل روشن کرنے کا نظام اور انتظام موجود تھا، ان ملک میں نویں صدی عیسوی میںبازاروں میںپبلک ٹوائلٹس اور حماموں کی سہولت دستیاب تھی، میلوں باہر سے پائپوں کے ذریعے شہروں کو فراہمی آب کا آغاز بھی یہیں سے کیا گیا۔ کوڑے اور فضلے کیلئے ہر چوراہے پر ڈھکن والے ڈرم موجود ہوتے تھے۔سارے یورپ کیلئے روشن مثال یہ ملک کوئی اور نہیں بلکہ ”مورش ہسپانیہ“، مسلم اسپین، یا اندلس تھا۔ اندلس جہاں مسلمانوں نے قرطبہ سے لے کر طلیطلہ تک اور اشبیلیہ سے لے کر غرناطہ تک شہریوں کا معیار زندگی یکسر تبدیل کرکے رکھ دیا تھا،صرف یہی نہیں بلکہ ریسٹورانٹ کی پہلی ”چین“ بھی مسلمانوں نے اندلس میں ہی قائم کی تھی، جہاں تین وقت انواع اقسام کے کھانے موجود ہوتے تھے۔ مثال کے طور پر ”زریاب“ نے نویں صدی عیسوی میں انواع و اقسام کے پکوانوں کوپہلی مرتبہ ”سوپ، کھانا اور سویٹ ڈِش“ کے تین بنیادی ”کورسز“ میں تقسیم کیا۔بارہ سو سال گزرنے کے بعد آج سیون سٹار ہوٹل بھی اس کورس میں تبدیلی یا اختراع نہیں کرسکے۔
یہ گیارہویں صدی عیسوی تھی اور اندلس کے مسلمان تھے اور حقیقت میں یہ اُنہی کا زمانہ تھا۔اندلس کے ماہرین فلکیات نے اپنی تحقیق سے ہزاروں سال سے راسخ بطلیموس کے نظریات میں سے بیشتر کو نہ صرف باطل ثابت کردیا بلکہ ایسے نئے اوردرست نظریات کی بنیاد رکھی، جن پر آج جدید علم فلکیات کی اساس قائم ہے۔ مثال کے طور پر الزرق علی نے گیارہویں صدی میں دریافت کیا کہ سیاروں کے مدار دائرہ نما نہیں بلکہ بیضوی ہیں۔ آنے والے زمانے میں بصریات پر جتنی بھی تحقیق ہوئی اور آج آنکھوں کے علاج کے حوالے سے سائنس ترقی کی جس معراج پرہے ،اس کی بنیاداسی سرزمین پر جنم لینے والے ماہر چشم ابو عبداللہ ابن معوذ کی تحقیقات پر ہے۔ گیارہویں صدی میں جب معوذ کی کتاب کالاطینی زبان میں ”لِبر دی کریپس کولیس“کے نام سے ترجمہ کیا گیا تو اہل یورپ کوپہلی مرتبہ آنکھ کی بنیادی ساخت، ہئیت اور فعل کا علم ہوا۔تیرہویں صدی میں ابو العباس النبطی نے علمِ نباتات کے سائنسی طریقہ کارکو شکل دی۔ انہی کے ایک شاگرد ابنِ الابیطار نے”کتاب الجامع فی الادویہ والمفرد“ کے نام سے طبی تاریخ کا سب سے ضخیم انسائی کلو پیڈیاتشکیل دیا،جسے صدیوں تک نباتات پر سند کی حیثیت حاصل رہی۔ اس کتاب میں ڈیڑھ ہزار سے زائد پودوں، اشیاءخورنی اور ادویہ کی تفصیل بھی شامل تھی، جن میں تین سو سے زائد ادویہ ابنِ الابیطار کی ذاتی دریافت تھیں۔ 1758ءمیں اس کتاب کا لاطینی زبان میں ترجمہ ہوا تو اس نے یورپ کی طبی دنیا میں تہلکہ مچا دیا۔عمودی پہیوں والی ہوائی چکی پہلی مرتبہ اندلسی مسلمانوں نے ایجاد کی۔852ءمیں عباس ابنِ فرنس نے بلندی سے نیچے اترنے کیلئے پہلی مرتبہ ”چوغہ“ یعنی پیراشوٹ تیار کیااور قرطبہ کے ایک بلند مینارسے چوغے کے ذریعے چھلانگ لگائی اور اُڑ کرنیچے اترنے کا عملی مظاہرہ کیا۔ ابنِ فرنس نے ہی پہلی مرتبہ گلائیڈر کے ذریعے پرواز کا بھی مظاہرہ کیا۔ طویل بحری فاصلوں کو ماپنے کے آلات بنانے اورسمندری فاصلے تیزی اور آسانی سے طے کرنے کیلئے بادبانی کشتیاں بنانے کا فن پرتگالیوں نے شمالی افریقہ سے اسپین آنے والے مسلمان تاجروں سے ہی سیکھا تھا۔اہل یورپ آج بھی ابو القا سم الزہروی کو بابائے سرجری قرار دیتے ہیں۔سر جان بیگٹ گلب لکھتا ہے ”دسویں صدی عیسوی میں ابو قاسم کے دور میں اکیلے قرطبہ میں پچاس سے زیادہ ہسپتال تھے، جہاں صرف اہل قرطبہ یا اہل اندلس کا علاج ہی نہ ہوتا تھا، بلکہ یورپ کے دور دراز ممالک سے بھی علاج کیلئے مریض اور طبی تعلیم کے حصول کیلئے طلبہ آتے اور شفاءاور علم کا نور لے کر واپس لوٹتے۔“ ابوقاسم نے انسانی اناٹومی اور فزیالوجی پر ”کتاب التصریف“ کی صورت میںتیس جلدوں میں طبی انسائی کلو پیڈیا لکھا۔ اس کتاب کا لاطینی زبان میں ترجمہ ہوا تو یہ کتاب صدیوں تک” طبی جامعات“ میںڈاکٹروں کی رہنمائی کا فریضہ سرانجام دیتی رہی۔ ابو قاسم کے تیار کردہ مادی اور تیکنیکی نمونے نیورو سرجری میں آج بھی استعمال کیے جاتے ہیں۔چودہویں صدی عیسوی میں اندلس میں طاعون پھیلا تو ابن الختیمہ اور ابن الخطیب نے دریافت کیا کہ انفیکشن والی بیماریاں دراصل اس وقت پیدا ہوتی ہیں جب کوئی انتہائی چھوٹا جرسومہ انسانی جسم میں داخل ہوکر اندرونی نظام میں خلل اور رکاوٹیں پیدا کرتا ہے۔ ابنِ ظہر نے دماغ سے متعلق درجنوں بیماریوں کی وجوہات اور ان کا علاج دریافت کیا،جو آج تک طبی سائنس کے شائقین کیلئے مشعل راہ ہے۔
نویں صدی میں اندلسی مسلمانوںنے رومی ماڈل کی جگہ زراعت کا جدید اور سہل نظام پیش کیااور کپاس، چاول، لوکاٹ، کھجور، گنااور سٹرس فروٹ سمیت کئی پھلدار پودے اور اجناس اندلس میں متعارف کرائیں۔ اس سے پہلے اہل یورپ صرف گندم کاشت کیا کرتے تھے۔اہل اندلس کی زیادہ تعداد غریب تھی اور انہیں تجارت کیلئے سرمائے کی کمی کا سامنا تھا۔ مسلمانوں نے انہیں کمیشن اور کریڈٹ پر تجارت کے فن سے روشناس کرایا۔ڈاکو¿وں سے بچنے کیلئے بغداد اور اسپین کے درمیان پہلی مرتبہ بین الابراعظمی بینک قائم کئے گئے، جن کی بدولت بغداد میں جمع کرائی گئی رقم اندلس کے مختلف شہروں میں کیش کرائی جاسکتی تھی۔ادب اور فنون کی دنیا کو ہی لے لیں ،بارہویں صدی میں ابنِ طفیل نے ” حدیثِ بیاض و ریاض“ لکھ کر رومانوی ناول نگاری کی بنیاد رکھی۔اندلسی مسلمان زبان اور ابلاغ کی نزاکتوں اور باریکیوں کو خوب سمجھتے تھے۔ اس لئے انہوں نے طلیطلہ میں ترجمہ کے اسکولوں کی بنیاد رکھی، جہاں عربی اور یونانی علوم کا مقامی زبانوں میں ترجمہ کیا جاتا تھا۔ اکیلے کریمونہ کے جیراڈ نے ستاسی اہم ترین عربی اور یونانی علمی خزانوں کا ترجمہ کیا اور یوں علم کی روشنی یورپ کے دوسرے ممالک اور علاقوں تک پہنچی۔
قارئین محترم!!گذشتہ دو صدیوں کو چھوڑ کر یوں تو اسلامی تاریخ کا ہر دور ہی روشنی کا مینارہ رہا ہے، لیکن اس میں اندلس صندل کی خوشبوکی طرح ہے، جو پڑھنے والے کو کشاں کشاں ایسے دور کی جانب کھینچ لے جاتی ہے، جہاں جزیرہ نما اندلس پورے یورپ کے لیے روشنی اور رہنمائی کا مینار اور ترقی کااستعارہ تھا۔اسلامی تاریخ کے مختلف ادوار اور پہلووں کو حالات حاضرہ کے تناظر میں دیکھنے کا مقصد محض یہ بتانا ہے کہ ہم کوئی تہی دست نہ تھے، بلکہ دنیا ہمارے در سے ہی اپنے دامن بن کر آج ترقی کی اِس معراج پر پہنچی ہے۔ اسلامی تاریخ کے یہ باب ”پیڑے“ امرودوں کی طرح ہیں کہ جو کاٹو گے، وہی لال نکلے گا، لیکن افسوس کچھ لوگ اس میں سے بھی کیڑے نکالنے سے باز نہیں آتے۔