اندھی گولی

کالم نگار  |  مسرت قیوم
اندھی گولی

”عمران خان“ نے آرمی چیف سے مذاکرات کرانے کی اپیل کرتے ہوئے انتباہ کیا ہے کہ ”شمالی وزیرستان“ کو ملک سے علیحدہ کرنے کا سوچا جا رہا ہے۔ یہ امریکی جنگ ہے۔ ہماری تاریخ ایسے الزامات سے بھری پڑی ہے۔ کبھی سندھو دیش، جناح پور اور کبھی بلوچستان بارے بغاوت اور علیحدگی کے الزامات لگتے رہے۔ انہی الزامات کے سائے میں ہماری ایک پود بوڑھی ہو کر اپنا اختیار دوسری پود کو منتقل کر چکی ہے۔ ”نئی پود“ کافی ہوشیار، معاملہ فہم اور قانون گو طبقے سے تعلق رکھتی ہے اور بجا طور پر توقع کرتی ہے کہ ثبوت سامنے لائے جائیں۔ ہمارا کردار پاکستان کے تسلیم شدہ دشمنوں سے بالکل مختلف ہونا چاہئے۔ بچپن میں کبھی کبھار اور آجکل اکثر ٹی وی یا اخبار میں ایک دو خبریں پڑھنے کو ملتی تھیں کہ ”فلاں شہر “ میں ایک نوجوان لڑکی اور فلاں جگہ پر فلاں شخص نامعلوم ”اندھی گولی“ سے ہلاک ہو گیا۔ اس وقت لوگ بہت زیادہ دکھ محسوس کرتے۔ خبر دوسرے لوگوں تک منتقل کی جاتی، پھر اس خبر پر تبصرے ہوتے۔ بعد میں عقدہ کھلتا کہ ”ایک اندھی گولی“ گھر کی عزت بچانے اور دوسری ”اندھی گولی“ خاندان کی غیرت کے اُبلتے جوش کو ٹھنڈا کرنے میں استعمال ہوئی تھی۔ اس وقت پاکستان کی اندرونی صورتحال کا منظر بھی کچھ ایسا ہی دکھائی دے رہا ہے۔ ہم سب ہی کسی ”اندھی گولی“ کا شکار ہو چُکے ہیں۔ چہار جانب گُھپ اندھیرا، مایوسی ہے۔ ایک دوسرے پر اعتماد، بھروسہ کی بجائے بدظنی، نفرت، شک کی سُرخ آندھیاں چل رہی ہےں۔ 67 سالوں میں مختصر سا عرصہ نکال کر زیادہ تر ہم پر ”بُرا وقت“ہی غالب رہا۔ ہمارے وہ لیڈر جو آج کسی بھی بڑے شہر کے برابر ذاتی محلات کے ٹھنڈے ماحول میں فروکش ہیں۔ اُن کی طرف سے عوام کو ریلیف ملنا تو دُور کی بات، کبھی خیر بھلائی کی باتیں بھی سُننے کو کان ترس گئے ہیں۔ اداروں کے مابین چپقلش، دشمنی، عناد تک پہنچ چکی ہے۔ مثبت طاقت اچھے اثرات پےدا کرتی ہے جبکہ بے مہار طاقت معاشرتی اقدار، خاندان اور بسا اوقات ممالک کے خاتمہ کا بھی باعث بن جاتی رہی ہے۔ کہنا یہ ہے ہر چیز ایک ”فریم ورک“ کے اندر ہو نی چاہئے۔ یہ کس طرح کا ملک بنتا جا رہا ہے کہ پروفیشنل کلاس (وکیل، ڈاکٹرز، نرسنگ وغیرہ) سڑکوں پر پولیس سے مار کھا رہی ہے اور عوام اپنے ”منتخب نمائندوں“ سے ادارہ جاتی تصادم، سیاسی اختلافات، الزام تراشیاں ”میڈیائی“ گندے کپڑے“ سرِ بازار دھونے کا المناک منظر ۔۔۔ کوئی ایک طبقہ بتا دیں جو اس گند، جنگ سے محفوظ رہا ہو؟ ایک مرکزی کمانڈکی موجودگی میں بھی ایسی افراتفری انتشار کی کیفیت، بغاوت کے آثار، علیحدگی کے خدشات، تو جناب عالیٰ ”عوام “ کدھر جائیں؟ کیا اُن نمائندوں کے پاس جو ووٹ لیکر خود تو آسودہ حال ہو گئے مگر عوام کی حالت پہلے سے بھی پتلی کر چُکے ہیں۔ عزم و حوصلہ میں کمزور قیادت عوام، معاشرے کی تقسیم کا باعث بنتی ہے۔ ایسی ”لیڈر شپ“ کے وجود پر اس وقت سوالیہ نشان لگ جاتا ہے جب وہ اپنے عوام کو اول درجے کا معیار زندگی فراہم کرنے میں ناکام ہو جائے۔ پاکستان کے وسیع علاقے زندگی کی لازمی ضروریات سے بھی محروم ہیں۔ ان علاقوں کی تعلیمی، طبی، سماجی پسماندگی، ”مہذب معاشرے“ پر کلنک کا ٹیکہ ہے۔ مگر صد حیف کہ ضروری امور پر توجہ دینے کی بجائے ہمارا ملک ”اندھی گولی“ کا نشانہ بن دیا گیا ہے۔ یہ ضرور ہے کہ معاشرے میں بُرائی، بدعنوانی، وطن دشمنوں کے خلاف مزاحمت پیدا ہو چکی ہے مگر اس سوچ کو ایک منظم پیرائے میں ڈالنے کیلئے کوئی مو¿ثر تنظیم کی صورت نظر نہیں آ رہی۔ حالات متقاضی ہیں کہ ہر فرد، ادارہ، سنجیدہ خود احتسابی کا آغاز کرے۔ حد سے متجاوز، پرےشان کن اڑیل پن، ضد کو چھوڑ دے۔ ہم سب ہی کچھ معاملات میں یکسو، پُرعزم، متفق ہیں۔ مگر شرارتی عناصر کی کارستانی شیطانی کھیل کو بڑھاوا دے رہی تھی۔ ایک دوسرے سے 67 سالوں کے کشیدہ لمحات کو دھونے کا سوچنے والے بہتر ہے کہ اپنی سوچ بدل لیں --- دونوں ”وزراءاعظم“ کی ملاقات کے چند گھنٹوں بعد ”انڈین فوج“ نے بٹل سیکڑ میں ہماری امن کی خواہش کو بھرپور سلیوٹ پیش کیا جبکہ ”ناپاک ٹھاکرے“ نے ”مودی“ کو ہدایت دی کہ وہ اس بٹن کو دبا دے جس سے ایٹم بم پاکستان پر جا گرے۔ ”ٹھاکرے“ مت بھولو کہ ہم نے ”ایٹم بم“ ہاتھ باندھ کر ”پراتھنا“کرنے کیلئے نہیں بنایا۔ امن کوششوں کو ناکام بنانے میں نمک حرام ”کرزئی“ کی زہر افشانی بھی فضا پر چھائی تو رہی مگر مستقبل کے منظرنامہ کو اُجاگر کر گئی۔ دورے مےں ہماری خیرسگالی، جذباتی باتوں کے علاوہ ڈھیر سارے قیمتی تحائف بھی تھے جبکہ دوسری طرف سے چارج شیٹ پڑھ کر سُنا دی گئی۔ ہم کس سے کیا توقع کر رہے ہیں؟ ذرا سوچئے گا ضرور۔ ہمارا رویہ شرمندگی، احسان والا تھا جبکہ لگتا ہے جیسے کسی کو ”سمن“ وصول کروانے کے لئے ہی بلایا گیا تھا۔ دو برادر ہمسایوں میں جذباتی والہانہ پن ممکن ہے مگر آگ اور خون کے دریا سے گُزر کر دو حصو ں میں بٹنے والے 67 سالوں کے تسلیم شدہ دشمنوں میں ایسی باتیں وقت اور وسائل دونوں کا ضیاع ہے۔ اب بات رقبے، وسائل کی نہیں رہی برابر کی بات والا معاملہ ہے۔ دونوں ایٹمی قوت سے لیس ہیں۔ اس لئے عددی قوت، رقبہ اب یاد کروانے کی چیز نہیں رہا۔ طاقت کے فلسفہ کو ماننے والوں سے طاقت کی زبان میں ہی بات کرنا زیب دیتا ہے۔ ہم امن کے دشمن نہیں، تحریریں گواہ ہیں مگر یہ ضرور چاہتے ہیں کہ انڈیا ”بٹوارے“ کو دل سے تسلیم کر لے تبھی مسائل کا حل ممکن ہے۔ دعا ہے خدا کرے کہ یہ کاوش بھی کسی” اندھی گولی“ کا نشانہ نہ بن جائے۔