’’وزیر اعظم نواز شریف کے نام کھلا خط‘‘

’’وزیر اعظم نواز شریف کے نام کھلا خط‘‘

انتہائی قابل ِاحترام جناب میاں محمد نواز شریف صاحب، وزیراعظم پاکستان السلا م و علیکم !
 2013کے انتخابات کے بعد جب آپ نے وزارت عظمیٰ کی ذمہ داریاں سنبھالی تھی تواُس نازک موقع پرملک کا سیاسی، اقتصادی، معاشی نقشہ ایک آزمائش سے دوچار تھا۔ پہلی دفعہ ایک پُر امن انتقالِِ اقتدارکے ذریعے ایک منتخب جمہوری حکو مت نے اپنی پانچ سالہ آئینی ٹرم پوری کر تے ہوئے ایک دوسری منتخب جمہوری حکو مت کو اقتدار منتقل کیا تھا۔ جس کی قیادت آپ نے سنبھالی تھی اورآپ نے در پیش بہت سے بحرانوں سے قو م کو نجا ت کی اُمید دلائی تھی لیکن حالات کے جبر اور بعض علا قائی اورگلو بل مسائل کے علاوہ نئی لیڈر شپ کی طرف سے Good Governance کی طرف پوری توجہ نہ دے سکنے اور دہشتگردی کے علاوہ انتہا پسندی پر قا بونہ پاسکنے کے باعث عوام کی توقعات پوری ہونا تودرکنار عام شہری امن وامان اور اپنی جان ومال کے تحفظ سے بھی مایوس ہو نے لگے ہیں۔ چنانچہ جگہ جگہ احتجا ج، جلسے، جلوس اور احتجاجی دھرنے ایک ناخوشگوار صورتحال کا باعث بن گئے جن کی تفصیلات میںجانا ضروری نہیں ہے۔ سیاسی سطح پر ایک بڑی تبدیلی یہ پیش آئی کہ مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلزپارٹی کے علاوہ عمران خان کی، پاکستان تحریک انصا ف (PTI) ایک تیسری سیا سی قوت بن کر وجود میں آئی اور اُس نے 2013کے عام انتخابات میں دھاندلی کے الزامات لگا کر مختلف انتخابی حلقوں میں تحقیقات یا Audit کی ملک گیر تحریک شروع کر دی۔ عین اس موقع پر ماڈل ٹاؤن میں ہونیوالے سانحہ کے باعث ڈاکٹر طاہر القادری کی پاکستان عوامی تحریک (PAT) بھی عمران خان کے دھرنوں میں شامل ہوکر حکومتی مشینری کیلئے دردِ سر بن گئی اس دوران جبکہ بڑھتی ہوئی دہشت گردی کے باعث فوج کی توجہ آپریشن ضرب عضب کی طرف مبذول ہو گئی۔ سندھ اور بلوچستان میں صوبائی حکومتیں امن و امان بحال رکھنے میں بُری طرح ناکام رہی ہیں۔ اور صوبہ پنجاب میں بھی وزیراعلیٰ جناب میاں محمد شہباز شریف بھی ذاتی بے پناہ کاوشوں کے باوجود صوبائی حکومت کی توجہ مختلف محاذوں پراس حد تک تقسیم اور مصروف ہوچکی تھی۔ حکومت کا فوکس پوری طرح Good Governance کی طرف ترجیحی بنیاد پر قائم نہ رہ سکا جس میں فلاحی سکیمیں محکمہ ریونیو میںکمپیوٹرائزڈ نظام کے نفا ذکی کامیابی، بجلی کے بحران اور مہنگائی کے طوفان میں دب کر رہ گئے ہیں۔ اسی دوران ایک خصوصی میڈیا کے حلقہ میں بھی DGISI کیخلا ف بے بنیاد الزامات کی مہم چلا کر جلتی پر تیل پھینکنے کا کردار ادا کیا۔ جس سے سول ملٹری تعلقات کی فضاء کا تاثر مزید مکدر ہوگیا۔ سانحہ پشاور کے 150معصوم بچوں اور اُنکے اساتذہ کا خون رنگ لا نے لگا ہے جس کے باعث آپ نے آل پارٹیز کانفرنس فوری طور پر بلا کر فوجی قیادت کے مشورے اور تعاون سے دہشت گردی اور انتہا پسندی کو جڑ سے اُکھاڑ دینے کا پرعزم اعلان فرمایا ہے ۔ اس سلسلہ میں گزشتہ چندروز کے دوران آپ نے تمام سیاسی جماعتوں اور فوجی قیادت کے بھرپور اور غیر مشروط تعاون کے ساتھ جن اقدامات کا اب تک اعلان کیا گیا ہے۔ پاکستان نیشنل فورم چند ایک تجاویز اور سفارشات کے ساتھ بھر پور خیر مقدم کرتا ہے۔ یہ سفارشات مندرجہ ذیل ہیں-:(i)آل پارٹیز کانفرنس اور فوجی قیادت نے دہشتگردی اور انتہاپسندی کیخلاف جس جنگ کوامریکہ کیخلا ف جنگ قرار دیتے تھے اب اس بات پر متفق ہیں کہ یہ پاکستان کی اپنے تحفظ کی جنگ ہے اس لیے حکو متِ پاکستان دہشت گردی کے خلا ف جنگ کا با ضا بطہ طور پر اعلان کرے تاکہ اس جنگ کے تقاضے حکومتی اور قومی سطح پر پورے کیے جاسکیں۔.(ii)دہشتگردی اور انتہا پسندی کو جڑ سے اکھاڑنے کیلئے جس اعلیٰ سطحی قو می ایکشن پلان کا اعلان کیا گیا ہے اُس کی چو ٹی کی کنٹرولنگ Umbrella Committee کے چیئرمین جناب وزیراعظم خود ہیں جوکہ درست اقدام ہے لیکن جناب وزیر اعظم نے اس Umbrella Committee میں جودس ممبران نامزدکیے ہیں وہ سب کے سب حکو متی افراد ہیں اوراسلیے حکومت سے باہر حلقے ان ممبران کو King's Men کہنے پر مجبور ہیں بہتر ہوگا اگر جناب وزیراعظم سوائے ایک دوممبران کے اس Umbrella Committee میں باقی ممبران دوسری بڑی سیاسی جماعتوں میں سے ایکشن کمیٹیوں سے نگرانی کیلئے Umbrella Committee کو قومی رنگ دینے پرغور فرمائیں ۔ .(iii)موجودہ ایکشن پلا ن میں مختلف ورکنگ گروپس پندرہ کمیٹیوں پر مشتمل ہیں بے شک ان کمیٹیوںکے سپرد سارے ایشوز فوری توجہ کے محتا ج ہیں لیکن نہایت ادب سے عرض کیا جا تا ہے کہ ان ایشوز اور امورکو فی الحال فوری توجہ طلب امور تک محدودکر تے ہوئے چار پانچ یا زیادہ سے زیادہ سات آٹھ کمیٹیوں کے ورکنگ گروپس تک، ایک ہفتہ سے لیکر تین ہفتہ کے اندر اپنا کام ختم کر نے کی ہدایت کی جائے اور تین ہفتے سے لیکر دو مہینے تک ختم ہونیوالے امور اور سفارشات کیلئے دیگر سات آٹھ کمیٹیاں علیحدہ مقرر کی جائیں تاکہ فوری امورکوحل کرنے میں غیرضروری تاخیر نہ ہو۔ .(iv)چار پانچ فوری کمیٹیوں میں مندرجہ ذیل ایشوزکو ترجیح دی جائے (الف) دہشتگردی کیخلاف ورکنگ گروپ(ب) فوجی سپیشل عدالتوں کے قیام کے بارے میں ورکنگ گروپ(ج)مدارس کے پیچیدہ ایشوز کے حل پر ورکنگ گروپ(د)ایکشن پلان پر متفقہ اور طے شدہ امور پر بحث و مباحثہ اور میڈیا یا دیگر سطح پر Debate پر پابندی مثال کے طور پر جب فیصلہ کر لیا گیا ہے کہ غیرمعمولی حالات میں غیر معمولی اقدامات کیے جائیں گے تو اسکے بعد سپیشل عدالتوں پر بحث و مباحثہ اور معصوم بچوں کو بعض حلقوںکی طرف سے قتل کر نے کے بارے میں جواز پیش کر نے کی بحث کو سختی سے پابندی عائد کرنے کیلئے قوانین واضع کیے جائیں۔ اسی طرح سپیشل عدالتوں کے بارے میں آئین میں ضروری تبدیلی میں تاخیر نہ کی جائے۔ (ہ)سیاسی سطح پر احتجا جی سیا ست میں جنگ بندی (سیز فائر) کرنے کیلئے بلا تاخیر جوڈیشل کمیشن کے قیام پر وزیراعظم ذاتی توجہ دیں۔ (خ)وزیراعظم اپنی ترجیحات میں گُڈگورننس اور اپنی دیرینہ اندازِ حکو مت میں انقلابی تبدیلیاں لانے کیلئے بھی ایک خصوصی ورکنگ گروپ تشکیل دیں۔