’’موت کا دھرنا‘‘

کالم نگار  |  مسرت قیوم
’’موت کا دھرنا‘‘

کل کی بات معلوم ہوتی ہے 2014ء کی آمد گزشتہ سال کے اہم واقعات پر تبصرے، تجزیے لکھے جا رہے تھے۔ آج 3 جنوری 2015ء ہے سال گزشتہ کو سانحات کا سال کہتے ہوئے لمحہ بھر کو بھی قلم نہیں رُکا۔ سال کے آخر میں کراچی اور لاہور میں دو اہم شاپنگ مراکز میں لگنے والی خوفناک آتشزدگی نے سینکڑوں گھر ویران کر دیئے۔ سسٹم کی کمزوری تھی۔ انسدادی سامان کی کمی یا پھر خفیہ دشمنی وجہ کچھ بھی ہو ریاستی نظم کی خرابیاں درست نہیں ہو سکیں۔ ایک بڑے مالی جھٹکے کے ساتھ قوم کو ’’نیا سال‘‘ مبارک ہو، پٹرولیم کی قیمتوں میں ’’ 5 فیصد‘‘ سیلز ٹیکس بڑھ گیا۔ قیمتوں میں کمی کے اثرات مرتب نہیں ہوئے اور نہ ہی مزید کمی کے حوصلہ بخش نتائج دیکھنے کو ملیں گے بلکہ دیگر اقدامات کے ذریعے 150 ارب کا خسارہ پورا کرنے کا بندوبست سوچا جا رہا ہے۔ سال گزشتہ کا اہم فیصلہ ’’افغانستان‘‘ میں ’’13 سالہ اتحادی دھرنا‘‘ ختم ہو گیا۔ ملکی سکیورٹی مقامی فورسز کے حوالے۔ اپنی تاریخ کا پُراسرار، خود تراشیدہ دشمن کیخلاف خیالی خطرات کے تانے بانے سے بنا گیا ’’موت کا دھرنا‘‘ کامیابی کے سوالات کے ساتھ اس طرح اختتام کو پہنچا کہ تاریخ انسانی میں بے گناہ انسانوں کے وحشیانہ انداز میں قتل عام کو فروغ ملا۔ ’’مہاتر محمد‘‘ کا قول ہے کہ ’’مسلمان اس لئے ترقی نہیں کر سکا کہ ہر پڑوسی مسلمان دوسرے پڑوسی مسلمان کو غریب دیکھنا چاہتا ہے اس کمزوری سے ’’شیطانی قوت‘‘ نے فائدہ اٹھایا مڈل ایسٹ مسلم ایشیائی ممالک کے وسائل، قوت ایک دوسرے کی دشمنی، مخالفت اور بے نام و نامراد لڑائیوں میں راکھ بن گئے ’’القاعدہ… داعش، طالبان‘‘ در حقیقت مسلم دنیا کی نسل کشی ہے۔ مسلمانوں کی صفوں میں اپنے ایجنٹ داخل کر کے فساد کی جڑیں گہری کی گئیں اور اب نوبت ’’قتل عام‘‘ تک پہنچ چکی ہے۔ ’’پشاور ٹریجڈی‘‘ اسکی کڑی ہے۔ بدلہ، انتقام کے جذبات ایک بڑے پروگرام، بھیانک انجام سے منسلک ہیں۔ 2014ء بہت سارے بھیانک، برے واقعات کے ساتھ ’’قوم کے مستقبل‘‘ کے ضیاع کے حوالے سے بھی نہیں بھولے گا تھر میں جاری موت کا دھرنا ’’88 دن‘‘ میں ’’300 بچوں‘‘ کی جان لے چکا ہے تھر میں موت، بھوت کا راج ہے ذمہ داروں نے گندم دینے سے انکار کر دیا ہے دوسری طرف ’’وفاقی وزیر خوراک‘‘ کا بیان تھا کہ ملک میں وافر گندم موجود ہے برآمد کر کے زر مبادلہ کمائیں گے سندھ حکومت نے سرپلس گندم برآمد کرنے اور ’’بوڑھی ہڈیوں‘‘ کو جھٹکوں سے بچانے والے ہیلی کاپٹر خرید لیا۔ پاکستان میں کیا کچھ موجود ہے بیرونی دنیا کو سب علم ہے نہیں جانتے تو صرف ہمارے حکمران امریکی میگزین انرجی انفارمیشن کیمطابق پاکستان میں 105 کھرب کیوبک گیس اور 9 ارب بیرل تیل کے ذخائر ہیں محض ڈیڑھ ارب ڈالر کی سرمایہ کاری اور تھوڑی سی حکومتی توجہ سے ہم توانائی میں خودکفیل ہو سکتے ہیں وسائل کے اعتبار سے ہمارا شمار خوش نصیب ممالک میں ہے مگر قسمت اور لیڈر شپ کے لحاظ سے بدقسمت ترین اقوام کے زمرہ میں آتا ہے۔ قرضہ لینے کی احتیاج بھی نہ رہے اگر حکومت بیرونی بینکوں میں پڑے ’’200 ارب ڈالر‘‘ کی واپسی کے مبینہ معاہدے پر عمل کر ڈالے… ذاتی مفاد کے کاموں میں مستعدی، فرض شناس کا جذبہ دکھائی دیتا ہے مگر قومی مفاد کے فیصلوں کو اتفاق رائے کا پیراہن بنانے کے نام پر صبح، شام طویل میٹنگز، کمیٹی پر کمیٹی کا دھرنا سجایا جاتا ہے‘ چولستان میں پانی،چارہ ختم ہے، بیماریوں کا راج ہے، نقل مکانی کا جبر شروع ہے، سرگودھا، لاڑکانہ، فیصل آباد میں بچے مر رہے ہیں تو کسی کو کیا غم ’’سرگودھا ہسپتال‘‘ کا گیس کنکشن عدم ادائیگی بنا منقطع ہے مزید براں ناکافی سہولیات، کچھ یہی وجہ قرار دے لیں مگر اس خبر کے ساتھ صورتحال کو میچ ضرور کریں بجل کے بعد گیس چوری کے بڑے کیسز دبائو کے تحت خاموش کرا دیئے گئے ہیں قانون کے شکنجے صرف عام آدمی چڑھتا ہے تھر میں 122 ڈسپنسریاں، مراکز صحت عملہ نہ ہونے کی وجہ سے بند پڑے ہیں ایسے میں اگر ’’200 ڈاکٹر‘‘ کو دھکے دیکر ’’تھر‘‘ سے نکالا گیا تو غم کاہے کو۔ مریض دوائی اور مکین خوراک اور پانی کو ترس رہے ہیں تو اچھالنے کی ضرورت کیا تھی؟ کیا قوم کیلئے یہ اطمینان بخش پیغام نہیں ’’150 بچوں‘‘ کی نعشوں پر سجنے والی کانفرنس کی مچھلی، کباب، چکن، چاول، مٹن پالک، گاجر کے حلوے سے تواضع کی گئی۔ ظاہر ہے لیول قومی ہے تو مینیو بھی اس مرتبہ کا ہو گا۔ ناکافی غذا سے مرنے والے چند ماہ کچھ سالوں کے بچوں کی اموات ’’کسی بھی بڑے‘‘ کا دل پسیجنے میں ناکام کیوںہیں؟ صرف تھر میں ’’600 بچے‘‘ بے حسی کی نذر ہو چکے ہیں ہر سال قحط پڑتا ہے آج سے نہیں صدیوں سے خشک سالی کا شکار ہے انسانی حیات کی بنیاد ’’بارش پانی‘‘ پر ہے رحمت برستی ہے تو لوگ ذخیرہ کر لیتے ہیں کیا حکومت یا مقامی نمائندے اس سے لاعلم ہیں؟ ہرگز نہیں بلکہ ہمارے پالیسی ساز اداروں اور قیادت نے کبھی بھی ٹھوس مربوط، باعمل اور طویل مدتی فائدوں کو سامنے رکھ کر پلاننگ نہیں کی بچے غذائی قلت سے نہیں بلکہ اہل اقتدار کی شکم پروری کے باعث موت کی وادی میں جا سوئے 2014ء کے ابتدائی ماہ ’’دوروں‘‘ میں بقیہ ’’دھرنوں‘‘ کی مذمت میں گزار دیئے پر انتظامی لاپرواہی کا سارا ملبہ ان پر پھینک کر بری الزمہ ہو گئے۔ ریگستان میں تو کوئی دھرنا نہیں تھا۔ ’’تھر، چولستان‘‘ کے راستے تو کھلے تھے۔ نہ دور دراز علاقے، نہ آمدورفت میں کوئی دقت، اموات کی روک تھام کیلئے ٹھوس کاوشیں عنقا رہیں۔ صحت پر ’’اربوں روپے‘‘ خرچ کرنے کے دعوئوں میں ہمیں ہسپتالوں پر صرف ’’موت کا دھرنا‘‘ نظر آتا ہے۔ ہمارے لیڈر اس مواد سے بنے ہی نہیں جو قوم کیلئے کچھ کر گزرنے کا جذبہ پیدا کرتا ہے۔ نہ مسلم ممالک کے پاس وسائل کی کمی ہے نہ اجتماعی دانش، بصیرت کا فقدان ہے کہ قتل عام کو روک سکیں نہ ہی یہ دھرتی اتنی بے وسیلہ، یتیم ہے کہ اپنے رہائشیوں کا پیٹ ہونے سے عاجز ہو جائے جس زمین پر موت رقصاں ہے اسکے بطن میں ’’اربوں ڈالرز‘‘ کے خزانے دفن ہیں۔ ’’پشاور سانحہ‘‘ نے بحران وقتی طور پر ٹال دیا تھا مگر اب زیادہ شدت کے ساتھ ابھرتا نظر آ رہا ہے۔ دہشتگردی کا معاملہ ہو یا ’’دھاندلی‘‘ کا حکومت کسی رو رعایت احباب نوازی کی بجائے فوری سخت فیصلے کرے اور عملدرآمد یقینی بنائے امید ہے کہ 2015ء میں دہشتگردی کافی حد تک ختم ہو جائیگی مگر ’’فوجی عدالتیں‘‘ زیادہ مؤثر کردار میں نظر نہیں آ رہیں۔ گرمیوں میں بجلی بحران عوامی غیض و غضب بڑھائے گا۔ انرجی بحران باعث صنعتی بندش، بے روزگاری بڑھائے گی صنعتی بندش کے معاملہ کو اگر حکومت نے سنجیدگی سے نہ لیا تو پیٹ کو راضی رکھنے کی خاطر جرائم کا گراف اوپر جا سکتا ہے۔ مجموعی طور پر حالات دگرگوں، برے نظر آتے ہیں۔ ’’وللہ اعلم‘‘