ولی کا مزار اور زمین پر سوئے انسان!(دلی سفرنامہ 5)

کالم نگار  |  روبینہ فیصل
ولی کا مزار اور زمین پر سوئے انسان!(دلی سفرنامہ 5)

 آپ کینیڈا سے روبینہ فیصل ہیں؟ پہنچ گئیں؟ وغیرہ وغیرہ جیسے سوال جواب شروع ہوگئے۔ پتہ نہیں آبگینہ کی دفتری ڈیوٹی تھی یا اس کا اپنا پیار ۔۔۔ کانفرس کے باقی دو دن اس پیاری سی خاتون نے مجھے اکیلا نہیں چھوڑا میری چھوٹی چھوٹی باتوں کا دھیان رکھا اور میں قومی کونسل کی میزبانی جو میرے تک آبگینہ کی صورت پہنچی تھی سے بہت متاثر ہوئی۔ ہال کے اندر گئے تو سٹیج پر خواجہ اکرام الدین جو قومی کونسل اور اس عالمی کانفرس کے روح رواں تھے ان سے ملاقات ہوئی۔ وہ اتنے عاجزانہ انداز سے کھڑے تھے کہ میں انہیں ہی پوچھ رہی کہ اکرام صاحب کہاں ہیں۔ میرا خیال تھا ڈائریکٹر ہیں، تو بڑی توپ چیز ہوں گے کیونکہ ابھی تک ان سے رابطہ ای میل یا فون سے ہی تھا۔ انہیں میں نے بہت متحرک اور منظم پایا۔ کانفرس کے انتظامات بہت اعلی پائے کے تھے۔ یہ ایک مکمل طور پر سنجیدہ اور علمی کانفرس تھی، کہیں فضول قسم کی نمود و نمائش نظر نہیں آ رہی تھی، ہال نوجوان طالبعلموں صحافیوں اور مہمانوں سے بھرا ہوا تھا۔ ایک بڑی مثبت قسم کی فضا تھی جسکی روشنی شاید ڈاکٹر اکرام کے وجود سے نکل کر سب مہمانوں اور مندوبین تک پہنچ رہی تھی۔ پروفیسر ابوالکلام قاسمی، ڈاکٹر تقی عابدی اور سید محمد اشرف جیسے مقررین کو سن کر معلوم ہوا ہندوستان کی تقریر کا روایتی حُسن کسے کہتے ہیں۔ بہادر یار جنگ بھی کیا ایسی ہی تقریر کرتے ہونگے؟ کانفرس کے باقی شرکا کے پیپرز بھی سُننے کے قابل تھے۔ سب کے مراسلے چونکہ چھپ چکے تھے اس لئے مختصر بیان کرنے پر اکتفا کیا گیا۔ مہمان نوازی لنچ ٹائم ، ٹی ٹائم میں بھی عروج پر تھی۔ کانفرس کا دوسرا روز بھی ختم ہوا۔ شام ڈھل چکی تھی اور میرے پاس دلی دیکھنے کے بھی بس یہی دو دن تھے۔ جب ہوٹل واپس پہنچے تو کم وقت میں زیادہ سے زیادہ دلی دیکھنے کا لالچ مگر ہوٹل ریسپیشن سے پتہ چلا کہ رات کو بڑی ٹیکسی ملنا بہت مشکل ہے۔ اتنا ترقی یافتہ دلی اور ٹیکسی کی یہ صورتحال بات سمجھ میں نہیں آ رہی تھی ۔میرے پاس دلی دیکھنے کا زیادہ وقت نہیں تھا اور بڑی ٹیکسی کے انتظار میں وقت ضائع ہونے لگا اس وجہ سے ڈاکٹر تقی عابدی جھنجلاہٹ کا شکار ہونے لگے۔ خیر جیسے تیسے کرکے ہمیں وہی ٹیکسی ملی جس کا ڈرائیور وہی شام تھا جس پر میں ایک پورا کالم لکھ چکی ہوں۔ اب ہم پہلے ڈنر کے مقام کریم مغلئی ریستوان پہنچے۔ یہ تاریخی ریستوران 1913ء میں بنا تھا۔ مین برانچ پرانی دلی میں تھی۔ حسب ِ معمول ڈاکٹر تقی کی مہمان نوازی یہاں بھی عروج پر تھی۔ میں اپنے ایرانی ساتھیوں وفا اور علی کو تیز مصالحے کھاتے دیکھ کر حیران ہو رہی تھی۔ بلاشبہ یہ ہماری زندگی کا ایک یادگار کھانا تھا۔انڈیا گیٹ جانا ہے ۔ ٹیکسی میں بیٹھتے ہی شام کو کہا گیا ۔رات کے اندھیرے میں اس "جنگ کی یادگار" کو محسوس کرنے کی کوشش کی۔ یہ گیٹ ان 82000 فوجیوں کی یاد میں بنایا گیا تھا جو (1914-21) پہلی جنگ ِ عظیم میں متحدہ ہندوستان کیطرف سے لڑتے ہوئے جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔ بعد میں اندر ا گاندھی نے 1972 میں یہیں پر امر جوان جیوتی کا افتتاح بھی کیا۔ یہ 1971 میں بنگلہ دیش کی آزادی کی لڑائی میں انڈین فوجیوں کی جان سے جانے کی یاد میں مستقل آگ کے آلائو کی صورت میں انڈیا گیٹ میں ایک اضافہ ہے۔ ری پبلک ڈے پر مارچ راشٹر پتی بھون سے شروع ہوتی ہے اور انڈیا گیٹ سے گزرتی ہے۔ ہر شام سات بجے سے ساڑھے نو تک اسے روشن کر دیا جاتا ہے۔ آپ کو انڈیا کا سب سے بڑا جھنڈا دکھاتا ہوں اور شام اپنی من مانی کرتا ہوا ہمیں کناٹ پیلس لے گیا۔ وہاں پر 5 3 کلو گرام وزنی 5400sq ft چوڑا اور 207 فٹ اونچے پول پر انڈین ترنگا آزاد فضا میں جھوم رہا تھا ۔ راستے میں آتے ہوئے سگنل پر کھڑی ہماری گاڑی کی کھڑکی سے چپکے فقیر بچوں نے تھوڑی دیر کیلئے شام کو خاموش کروایا تھا مگر اس جھومتے ترنگے کے آگے ہماری تصویریں کھینچتے ہوئے شام کی آنکھوں میں وہ عزم اور فخر جھلکتا تھا ، جو 31 دسمبر 1929 کو جواہر لال نہرو نے دریائے روای لاہور (جو اس وقت متحدہ ہندوستان کا شہر تھا) کے کنارے تین رنگی انڈیا کا جھنڈا لہرا کر ہر ہندوستانی کو بخشا تھا۔ اس جھنڈے کو آندھی بھی اپنی جگہ سے نہیں اکھاڑ سکتی۔ شام نے بتایا ۔اندھیرے کے شر سے بچانے کیلئے مسٹر جنڈال نے جو کوڈ آف انڈین فلیگ بنا رکھا ہے کہ رات کے اندھیرے میں پرچم کو لہرانے نہ دیا جائے۔ مگر اس بڑے پرچم کو ہر ہندوستانی کے دل میں گاڑنے کیلئے یہ اصول توڑا گیا اور ہم نے دیکھا رات کے اندھیرے میں یہ بھاری بھرکم پرچم بہت بلندی پر لہرا رہا تھا، شاید اسی کے ذریعے ہندوستانی قوم کو خود اعتمادی اور مضبوطی کا سبق دیا گیا ہے۔ برٹش راج کے زمانے میں بننے والا یہ کناٹ پیلس اب دنیا کے بڑے تجارتی مراکز میں شمار ہوتا ہے اور رسمِِ دنیا کے مطابق اس کے چوکوں کے نام راجیو چوک اور اندر گاندھی کے ناموں میں بدلے جا چکے ہیں۔
 دلی پر ایک خاص قسم کا صوفیانہ رنگ چھایا نظر آتا ہے ۔ یوں لگتا ہے جیسے جو نظر آرہا ہے ، وہ نہیں ہے ، اس کے در پردہ کچھ ہے ۔ ایک اسرار ہے ، ایک ان کہی کہانی ہے ۔ کوئی سیاح اسے کھوجتا ہو گا ، کوئی کھوج کر آگے نکل جاتا ہو گا ، دنیا کو بتا نا بھول جاتا ہو گا ،کوئی دنیا کو بتاتا بھی ہو گا توپو را سچ نہیں ، دلی کا پورا سچ کہنا بہت مشکل ہے ، دلی کی ہوائوں میں ایک سحر ہے ۔ وہ آپ کو جھکڑتا ہے ۔ آپ سے کہتا ہے" بوجھو تو جانیں ؟"یہ اس وقت شروع ہوتا ہے جب کناٹ پلیس سے خواجہ نظام الدین اولیا ء کے مزار کی طرف ٹیکسی کا سفر شروع ہوتا ہے ۔ کناٹ پیلس کا جہاں اور تھا یہاں کا اور ۔ پرسراریت دلی کی ترقی میں تھی یا ترقی میں پوشیدہ غربت میں ؟   حضرت نظام الدین اولیاء برصغیر کے صوفی بزرگ ہیں ۔ جن کا ایمان تھا کہ خدا بھی انسان میں ہوتا ہے ۔ یہ وہ لوگ تھے جن کا مذہب انسان اور انسانیت ہوتا ہے ۔مزار کے باہر سائیکل رکشہ نظام الدین اولیاء کی تعلیمات کا مذاق اڑا رہے ہیں ۔ایک انسان اپنی ٹانگوں کے زور پر دوسرے انسانوں کی سواری بنا ہوا ہے ۔ یہ ہے سائیکل رکشہ ۔میں نے اس منظر کو اکیسویں صدی کے تناظر میں دیکھا ۔ اس صدی میں جہاں مجھے یہ پیغام دیا جارہا کہ انسان کو اب مذہب اور عقیدے کو چھوڑ کر امن کی بات کرنی ہے ۔ مگر اس صدی کا جو سب سے بڑا المیہ ہے اس سے سب آنکھیں چرا رہے ہیں کیونکہ قانون اور پالیسیاں بنانے والوں کے حق میں یہ بات نہیں جاتی ۔ وہ اس حقیقت کو نظر انداز کر رہے ہیں کہ اگر انسان کو مذہب اور زبان اور رنگ کے فرق سے بے نیاز کرکے ایک کر بھی دیا جائے تو پھر بھی کام نہیں بنتا۔ یہ کشتی اس وقت پار لگے گی جب تک کم خو راکی سے پیداہونیوالی قبض اورکثیر الخوراکی سے جنم لینے والے پیچش کا علاج نہیں ہوجاتا ۔ انسان نعروں سے ایک نہیں ہو سکتے ۔ (جاری)