قومی ایکشن پلان

کالم نگار  |  رابعہ رحمن
قومی ایکشن پلان

آرمی پبلک سکول پشاور میں دہشتگردی کے سفاکانہ واقعہ نے ہر انسان کا دل دہلا کر رکھ دیا ہے۔ ملک کے علاوہ دُنیا بھر سے اس سانحہ کی بھرپور مذمت کی گئی ہے۔ اس واقع نے ملک کے اندر اتحاد و یگانگت کی ایک فضا پیدا کر دی ہے جس کی ہمیں اشد ضرورت تھی۔ پاکستان گذشتہ ایک دہائی سے زیادہ عرصہ سے دہشتگردی کا شکار ہے جسکے نتیجے میں 40 ہزار سے زیادہ قیمتی جانوں کا ضیاع بھی ہوا ہے۔ دہشتگردی کی اس جنگ میں ہم سے زیادہ قربانیاں اور کسی نے نہیں دیں مگر بد قسمتی سے نہ تو دُنیا کو اس کا احساس ہے اور نہ ہی ہمارے اپنے ملک میں اس بارے میں مکمل اتفاقِ رائے پایا جاتا تھا مگر پشاور کے واقع نے آخرکار قوم کو متحد کر دیا ہے۔ گذشتہ چند ماہ سے ملک کے اندر پائی جانیوالی سیاسی بے چینی بھی وقتی طور پر تھم گئی ہے اور وہ لوگ جو کسی نہ کسی حوالے سے دہشتگردوں کے ہمدرد کہلاتے ہیں وہ بھی بوجہ خاموش ہیں۔ حکومتی سطح پر کُچھ کرنے کی جہد نظر آتی ہے۔ تمام قومی سیاسی جماعتوں نے اتفاقِ رائے سے دہشتگردی کیخلاف ایک ایکشن پلان کی منظوری دی ہے جسے قومی ایکشن پلان کا نام دیا گیا ہے۔ اس ایکشن پلان کو فوج اور قومی سلامتی کے دوسرے اداروں کی بھی بھرپور حمایت اور تائید حاصل ہے۔ اس میں کُچھ ایسے اقدامات تجویز کئے گئے ہیں جو کہ غیر معمولی کہے جا سکتے ہیں جن میں دہشت گردوں کو جلد از جلد سزا دینے کیلئے فوجی عدالتوں کا قیام شامل ہے۔ ملک کے معروضی حالات کے پیشِ نظر یہ ایک ضروری قدم تھا جسے بعض سیاسی و سماجی حلقے خلافِ آئین بھی کہتے ہیں مگر اُنہوں نے بھی حالات کے نزاکت اور ضرورت کے تحت اسے قبول کیا ہے۔ فوجی عدالتوں کا تجربہ ماضی میں بھی کیا جا چُکا ہے مگر عدلیہ اور بعض سیاسی و سماجی حلقوں کی مخالفت کے باعث یہ کامیاب نہیں ہو سکا۔ اب اُمید کی جانی چاہیے کہ اتفاقِ رائے کی بدولت اس سے مطلوبہ نتائج حاصل ہو سکیں گے۔ قومی ایکشن پلان میں تجویز کردہ بعض نکات کو قانونی اور آئینی تحفظ دینے کیلئے نہ صرف قانون سازی کی جا رہی ہے بلکہ آئین میں ضروری ترمیم بھی متوقع ہے۔ وزیرِاعظم نے اس ایکشن پلان پر عملدرآمد کو یقینی بنانے اور مانیٹر کرنے کیلئے پندرہ سے زائد ورکنگ گروپس بھی بنائے ہیں جو اس سلسلے میں ہونیوالی پیش رفت سے وزیرِاعظم کو باقاعدگی سے آگاہ رکھیں گے۔ مزید برآں حالات کی ضرورت کو سمجھتے ہوئے وزیرِاعظم نے ازخود اس ایکشن پلان پر عملدرآمد کو مانیٹر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ قوم سے اپنے خطاب میں اُنہوں نے دہشتگردی کیخلاف اس فیصلہ کُن جنگ کی قیادت خود کرنے کا بھی اعلان کیا ہے جو کہ ایک انتہائی حوصلہ افزا بات ہے۔ اگر دیکھا جائے تو اس قومی ایکشن پلان میں تجویز کردہ تقریباً تمام نکات اور اقدامات وقتی اور قلیل مُدتی ہیں جن سے وقتی نتائج تو حاصل ہو سکتے ہیں مگر دہشتگردی اور انتہا پسندی کی اس لعنت سے مکمل اور مستقل چھٹکارا حاصل کرنے کیلئے ہمیں طویل مدتی اقدامات کی ضرورت ہے جس کیلئے نظام میں بھی بُنیادی تبدیلیوں کی ضرورت ہے تا کہ اسے وقت کے تقاضوں کے ہم آہنگ بنایا جا سکے۔ اس غیر معمولی صورتِحال میں ہم روایتی طریقوں سے کامیاب نہیں ہو سکتے۔ قومی ایکشن پلان میں ٹیکٹا کے ادارے کو فعال اور مضبوط بنانے کا کہا گیا ہے جو کہ ایک بُنیادی ضرورت ہے۔ سال گذشتہ کے شروع میں حکومت نے قومی سلامتی پالیسی کا اعلان تو کیا مگر اس پر من و عن عمل نہیں ہو سکا جس کی وجہ سے مسائل وہیں کے وہیں ہیں۔ ہمارا ملک اس وقت بہت سے مسائل سے دوچار ہے جن سے نبرد آزما ہونے کیلئے جہد، ولولے اور مضبوط عزم کی ضرورت ہے۔ اس وقت ملک میں پائی جانیوالی اتحاد و یگانگت کی فضا کو استعمال کرتے ہوئے حکومت کو چاہیے کہ وہ زندگی کے دوسرے شعبوں میں تبدیلی کیلئے بھی ایکشن پلانز کو ترتیب دے جو کہ وقت کی اہم ضرورت بھی ہے۔ تعلیم، صحت، پولیس، نظامِ عدل اور گورننس کے نظام میں بُنیادی تبدیلیوں کی ضرورت ہے تاکہ عوام کو درپیش بے پناہ مشکلات کا ازالہ کیا جا سکے۔  حکومت کو قومی اسمبلی میں دو تہائی اکثریت حاصل ہے اور آنیوالے سینٹ انتخابات کے بعد ایوانِ بالا میں بھی اُسے اکثریت مل جائے گی جس کی وجہ سے کوئی سیاسی مشکل بھی آڑے نہیں آ سکتی۔ حزب احتلاف بھی ان معاملات پر حکومت کی مدد کو تیار ہو گی اور عوام تو ویسے ہی اسکے شدت سے حامی ہیں۔ وزیرِ اعظم کو عوام نے تیسری مرتبہ اس عہدے پر فائز کیا ہے لہٰذا اُنہیں چاہیے کہ وہ عوام کی اُمنگوں کیمطابق نظام کی درُستگی کیلئے فوری اقدامات کریں یہ نہ ہو کہ وقت گزرنے کیساتھ ساتھ یہ فضا اور جذبہ بدل جائے اور پھر وہی روایتی مشکلات آڑے آ جائیں۔ صرف کمیٹیاں اور ورکنگ گروپس بنانے سے کام نہیں چلے گا بلکہ عملاً اور فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔ جو بھی اقدامات اُٹھائے جائیں اُن پر عمل درآمد کو یقینی بنانے اور بر وقت مانیٹر کرنے سے ہی اصل مقاصد حاصل ہو سکیں گے۔ انتظامیہ اور سول سرونٹس کو بھی اس معاملے میں متحرک کرنے اور حالات کے تقاضوں کیمطابق ڈھالنے کی ضرورت ہے۔ مختصراً یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ قومی ایکشن پلان کو صرف دہشتگردی کیخلاف جنگ تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ اسکا دائرہ زندگی کے دوسرے اہم شعبوں تک پھیلایا جائے تا کہ نظام کو ٹھیک کیا جا سکے۔ اس سلسلے میں روایتی چہروں اور بیوروکریٹس پر زیادہ انحصار کرنے کی بجائے معاشرے میں میسر بے شمار ماہرین کی خدمات بھی لی جا سکتی ہیں۔ ہمیں اپنی ترجیحات بدلنا ہونگی اور جنگی بُنیادوں پر کام کرنا ہو گا تاکہ اس غیر معمولی صورتحال کا سامنا کیا جا سکے بصورتِ دیگر عوام میں پائی جانے والی مایوسی اور عدمِ اعتمادی خطرناک صورتحال اختیار کر سکتی ہے۔ اگر وزیرِاعظم اپنی حکومت کے باقی ماندہ عرصے میں اس سلسلے میں اہم اور معنی خیز پیش رفت کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو یقیناً وہ عوام کا وہ قرض کسی حد تک چُکا سکتے ہیں جو اُس نے تیسری مرتبہ منتخب کر کے اُن کو دیا ہے۔