سانحہ پشاور اور پنجاب پولیس

کالم نگار  |  غلام عباس
سانحہ پشاور اور پنجاب پولیس

سانحہ پشاور نے پوری قوم کو ہلا کر رکھ دیا ہے ۔ 136 پھولوں کو جس بے دردی سے دہشتگردوں نے مسل کے رکھ دیا ہے ۔ یہ ایسا صدمہ ہے جسے بھولنا ممکن نہیں ۔یہ وہ سانحہ ہے جس نے گورکن کو بھی پھوٹ پھوٹ کر رونے پر مجبور کر دیا۔ معصوم پھولوں کی شہادت ہنوز خون کے آنسو رلا رہی ہے ۔ قلم ہے کہ دہشتگردوں کی اس سفاکانہ کارروائی پر سراپا احتجاج ہے ۔ علم کی دولت سمیٹنے کیلئے کوشاں ستاروں کو خون میں نہلا دیا گیا۔ مائیں بچوں کی اچانک شہادت پر ششدر رہ گئیں ۔ پاکستان کا بچہ بچہ دہشت گردوں کی اس بزدلانہ کارروائی کے خلاف اٹھ کھڑا ہوا۔ پاک آرمی اور پولیس ہائی الرٹ کر دی گئی ۔ انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب مشتاق احمد سکھیرا نے پولیس افسران و جوانوں کو چوبیس گھنٹے چاک و چوبند رہنے کا حکم دیدیا۔ بذریعہ وائرلس ہر آدھ گھنٹے بعد مشکوک افراد کی پکڑ دھکڑ کیلئے خصوصی اقدامات کے احکامات صادر ہو رہے ہیں ۔ موثر ناکہ بندی جاری ہے ۔ پٹرولنگ دن رات جا رہی ہے ۔ پوری قوم انسداد دہشتگردی کیلئے اٹھ کھڑی ہوئی ہے ۔ حکومت کے دہشتگردی سے نمٹنے کے انقلابی اقدامات قابل صد ستائش ہیں ۔ دنیا بھر سے اہل دل اور حساس لوگ اس دہشتگردی کی واردات کی مذمت کر رہے ہیں ۔ ریجنل پولیس آفیسرگوجرانوالہ سید دلاور عباس ‘سٹی پولیس آفیسر محمد وقاص نذیر بذات خود فیلڈ میں پولیس افسران و جوانوں کی ڈیوٹیاں پڑتال کرتے ہیں اور موقع پر ضروری ہدایات دیتے ہیں ۔ ٹریفک پولیس ٹریفک کا بہائو قائم کرنے کیساتھ ساتھ شرپسند عناصر کی سرکوبی کیلئے پولیس کے شانہ بشانہ فرض نبھا رہی ہے ۔ چیف ٹریفک آفیسر محمد آصف ظفر چیمہ کی ہدایت و نگرانی میں پہلوانوں کے شہر کی ٹریفک پولیس نے سینکڑوں بلا نمبری ‘غیر نمونہ نمبر پلیٹ والی گاڑیوں کیخلاف کارروائی عمل میں لائی ہے ۔ یہ سلسلہ جاری ہے  حکومت نے جس دلیری سے دہشت گردوں کو تختہ دار پر لٹکایا ہے وہ قابل داد ہی نہیں بلکہ یہ انسداد دہشت گردی کیلئے کارگر ہتھیار بھی ہے ۔ دہشتگردوں کو پھانسی دینے سے جرائم کا گراف بھی کم سے کم ہو گا۔ پوری قوم دہشت گردوں کو عبرتناک انجام تک پہنچانے کیلئے پاک فوج اور پولیس کیساتھ ہے ۔ پشاور میں شہید ہونیوالے بچوں کی یاد میں ملک بھر میں شمعیں روشن کی گئیں ۔ پاکستان بھر کے شہری سانحہ پشاور سے متاثر ہوئے ۔ غم کی تصویر بن گئے ۔ ایک د وسرے کو ایس ایم ایس ارسال کرتے رہے ۔ اب یہ ہے کہ شہریوں کو اردگرد حالات پر کڑی نگاہ رکھنی چاہیے ۔ دہشتگردوں کی روک تھام کیلئے عوام کو بھی بھرپور کردار ادا کرنا ہو گا۔ گلی محلے میں رہنے والوں کی سرگرمیوں کا دھیان رکھا جائے۔ کرائے پر مکان دینے سے پہلے ضروری پڑتال کرلی جائے۔ اجنبی اور نامعلوم افراد کو ہرگز کرائے پر مکان نہ دیا جائے ۔ شک پڑنے پر فوری پولیس کو اطلاع فراہم کی جائے تاکہ بروقت ضروری کارروائی عمل میں لائی جا سکے ۔ گلی محلے میں اجنبی اشخاص کی آمدورفت محسوس ہو تو فوری تھانہ یا رسیکیو 15 پر اطلاع دی جائے ۔ ہر شہری کے پاس پولیس افسران کے نمبر ہونے چاہیں تاکہ فوری رابطہ ممکن ہو سکے ۔ یوں کسی بھی ناخوشگوار واقعہ کا تدارک ہو سکتا ہے ۔ پولیس شبانہ روز جرائم کے قلع قمع کیلئے سرگرم عمل ہے ۔ سچ یہ ہے کہ پولیس اورفوج کو عوام کے تعاون کی قدم قدم پر ضرورت ہے ۔ خوش آئند امر یہ ہے کہ پوری قوم دہشتگردی کیلئے اٹھ کھڑی ہوئی ہے ۔