دھر میں اسم محمدﷺسے اجالا کر دے

کالم نگار  |  نذیر احمد غازی
دھر میں اسم محمدﷺسے اجالا کر دے

تجدید فکر اور تجدید عمل سے نئی قوتیں جنم لیتی ہیں اور طبیعت میں تازگی کے ولوے پیدا ہوتے ہیں۔ کائنات میں وقت ہی ایک ایسی حقیقت ہے جو ہماری زندگی کی حقیقت کو قیمتی بناتی ہے اور اسی قیمتی قوت کو ہم اپنی زندگی اور وقار کا معیار بناتے ہیں۔ اسی لئے یہ مقولہ مشہور ہے کہ وقت وقت کی بات ہوتی ہے۔ مسلمانوں کی زندگی کا قیمتی ترین لمحہ وہ ہوتا ہے جب انکی فکر و عمل کی دنیا میں حضرت محمدؐ سے وابستگی مضبوط سے مضبوط تر ہوتی جاتی ہے اور تعلق کی یہ مضبوطی مسلمان کو انسانی معاشرے کا وہ بلند قامت انسان بنا دیتی ہے کہ وہ مدار کائنات نظر آنے لگتا ہے مسلمان کی روشن تاریخ میں اس امر عظیم کے حوالے بہت کثرت سے نظر آتے ہیں مسلمانوں کے دور جدید میں باریک بین مفکر حضرت اقبالؒ نے بہت گہرے اور طویل فکری تجزیے کے بعد اس دوامی پیغام خداوندی کو شعر میں ڈھالا ہے…؎
قوت عشق سے ہرپست کو بالا کر دے
دھر میں اسم محمدؐ سے اجالا کر دے
قوت عشق جب متحرک ہوتی ہے تو لیت و بالا کے تصورات میں نئی زندگی آتی ہے اور جب قوت عشق کو جمود کا سامنا ہوتا ہے تو پھر مایوسی، پر مژدگی اور سراسمیگی کا ماحول قوموں کی زندگی کا حصہ بن جاتا ہے ہر جگہ راہ فرار کا قصہ گردش کرتا ہے۔اس وقت پوری امت مسلمہ عموماً اور ملت پاکستانیہ بالخصوص معاشرتی بے راہ راوی اور فکری افلاس کی شدید ترین دھند کی لپیٹ میں ہے وقت کے سنہری دلکش مناظر جب جلوہ گاہ کے تصورات میں پہنچے ہیں تو پھر رحمت اللعالمینؐ کی خیرات فرمان تابناک ذہن و دل کو ایک لمحے کیلئے روک لیتی ہیں اور اس کریم النفس رسول رحمتؐ کے احسانات قلوب کو ہمت، قوت اور جذبات صالحہ کی نعمت عطا کرتے ہیں اس سرکار کونین مدارؐ کا ذکر ہی آنکھوں کو اشکوں کے وہ پھول عطا کرتا ہے جو قلوب تک اپنی مہک پہنچاتے ہیں اور مایوسی کے بادل چھٹتے ہیں امیدوں کے چاند اندھیروں کو مات کرنے لگتے ہیں۔فضائے وطن میں تخریب کے اٹھتے ہوئے شعے اسی ذکر رحمت سے سرد ہو جائیں گے قتل و غارت کے اس انسانیت کش ماحول کو محبت رسولؐ کی ٹھنڈک نصیب ہو گی۔’’اے رسولؐ ہم نے آپ کا ذکر بلند فرما دیا‘‘۔جو شخص اس ذکر بلند سے وابستہ ہو گا، اسی کو بلندی نصیب ہو گی اسی کو رحمت کی نعمت سے ہر طرز کی نعمت حیات نصیب ہو گی۔ رحمت کی نعمت ہی تو سب سے بڑی نعمت ہے۔ اور اسی نعمت عظمی کو خالق و حدہ لاشریک نے۔ رحمت اللعالمین قرار دیا ہے۔قرار دیا ہے اب جو شخص کائنات ظاہر اور کائنات باطن کا ملاحظہ کریگا تو اسے سیدنا محمدؐ کی رحمت ہی سے واسطہ پڑیگا انسان اور انسانیت کا کوئی پہلو اس رحمت مدارؐ کی رحمت سے خالی نہیں ہے اس دربار رحمت کو چھوڑ کر کسی اور جگہ سے امن و سلامتی کی نعمت میسر نہیں آئیگی۔ اسی ذات قاسم رحمتؐ سے صادق جذبوں والی محبت درکار ہے۔ محض زبانی اور فکری دعوئوں سے کبھی بھی چمنستان دھر میں کلیاں مسکراہٹ پیدا نہیں کرتیں اور نہ ہی سکون و سلامتی کے پھول مہکتے ہیں اور نسبت رحمت کو بھول کر کبھی بھی معاشروں کو امن نصیب نہیں ہوتا ہے۔ اتنی وقت ابلیسی جن نے ہمارے وطن کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ قربانی پر قربانی کا مرحلہ آتا جا رہا ہے لیکن روشنی پھر بھی ناراض ہی نظر آتی ہے۔بس اس ایک دامن نور افزا کی ہوائے خیر درکار ہے۔ جس دامن سے لپٹ کر گناہ جھڑ جاتے ہیں اور خدا کی ناراضگی معافی میں بدل جاتی ہے۔ دلوں کی قساوت کو نرم خوئی میں بدل جانے کی بشارت نصیب ہوتی ہے۔وہ رحمت کونینؐ کی معجزاتی حیات طیبہ ہے جہاں پر انسانی زندگی کو انسانیت کی نظر سے دیکھا جا سکتا ہے۔غزاوت، جہاد، قتال انسانوں سے انسانوں کی پنجہ آزمائی کے مواقع بلاشبہ اسلامی تاریخ ہی کا ناقابل انکار حصہ ہیں لیکن حالت جنگ میں بھی بدترین دشمن کیلئے بہر حال انسانیت کے منشور کو پیش نظر رکھنا بہت بڑی وسعت فکر و نظر اور احسان عمل کا نمونہ ہے غزاوت میں روانگی سے پہلے ایک اہم خطبہ جنگی قوانین پر ہمیشہ ارشاد ہوتا تھا کہ دیکھو بچوں کو قتل مت کرنا، عورتوں کی عزت و عصمت کوخدائی امانت جاننا اور بوڑھوں سے لڑنا جوانوں کا شیوہ نہیں ہے۔ یہ رحمت اللعالمینؐ کا خطبہ نباتات کی حیات تک کو تحفظ فراہم کرنے کی ضمانت بخشا ہے جب بقائے حیات کے محافظؐ یہ فرماتے ہیں کہ دوران جنگ کھیتیاں برباد نہ کی جائیں اور درختوں کو بے ضرورت نہ کاٹا جائے۔کائنات کا ہر وجود اسی رحمت کونینؐ کی کفایت رحمت کا اعتراف کرتا ہے اور پناہ حیات تلاش کرتا ہے ایک مرتبہ ایک اونٹ بلکتا سسکتا خدمت اقدس میں حاضر ہوا احترام سے سر نیاز بارگاہ رحمت قرار میں رکھ دیا، آنکھوں سے آنسو رواں تھے۔ رحمت اللعالمینؐ سے رہا نہ گیا بہت مضطرب تھے کہ وہ اونٹ رحمت کی خیرات مانگ رہا تھا بھوکا تھا اسے قلت خوراک کی شکایت تھی۔ مالک بے پرواہ تھا۔ شکایت کرنے سے فریاد رسی کی توقع نہ تھی۔ فوراً اونٹ کے مالک کو طلب کیا گیا اور فرمایا کہ یہ اونٹ کم خوراک کی شکایت کرتا ہے اسے اسکے حق کا چارہ دیا جائے۔یہ رحمت حیوانات، نباتات کو اس طرح محیط ہے کہ انسان ان کریمؐ کی غلامی کا دم بھرتا ہے۔ لیکن علمی رعونت اور عملی سرمایے کے سائے میں اس نسبت رحمت کو بھول جاتا ہے۔غزوہ احد میں حضرت ابو دجانہؓ محبت خدا و مصطفیؐ میں سرشار شجاعت کے جوہر دکھا رہے تھے کہ ایک بہت بڑا دشمن تلوار کی زد میں آگیا۔ انہوں نے تلوار کو سونتا مگر یک لخت پہلو بدل لیا کیونکہ وہ دشمن ایک عورت تھی۔ اگرچہ عورت تھی لیکن اسلام کی شدید دشمن ہندہ تھی۔ ابودجانہؓ کے پیش نظر فکر و رائے کے سب پہلو سامنے تھے لیکن انکے فکر و عمل پر رحمت پر دو جہاںؐ کی رحمت افزا یہ ہدایت تھی کہ عورتوں کو مت مارنا۔ ہندہ تو بہت ہی تکلیف دیا کرتی تھی ابودجانہؓ تو رحمت اللعالمینؐ کے سپاہی تھے اسی سرکار خیر مدارؐ کے پرستار تھے اس لئے اپنے جذبات کو رحمت رسولؐ کے حصار میں رکھا۔ جو اس کریمؐ کی رحمت سے وابستہ ہو جاتا ہے۔ ظلم و تکبر جہالت، رعونت اور سفاکیت اس کے عقیدہ دین سے خارج ہو جاتی ہے۔ہندہ نے تو بہت پیارے چچا سیدنا حمزہؓ کا کلیجہ چبایا تھا لیکن پیکر رحمتؐ نے معاف فرما دیا۔ اور یہ معافی بہت ہی بڑے حوصلے کا تقاضہ رکھتی ہے۔ یہ حوصلہ صرف اور صرف رحمت کونینؐ کا امتیاز ہے۔آج کا وقت اسی رحمت کونینؐ کو یاد کرنے، یاد رکھنے اور دل میں بسانے کا ہے۔ تاکہ دلوں میں رحمت، نرمی، ترس اور انسانی محبت کے جذبات پیدا ہوں اور انسانوں سے محبت کا حقیقی دینی شعور پیدا ہو اور انسانیت اپنی منزل کے درست راستوں پر گامزن ہو جائے۔ نبی آخر الزماںؐ کو اللہ تعالی نے ہمیشہ کیلئے رحمت کونین بنا کر بھیجا ہے۔ انسانوں میں باہمی شفقت اور نرم خوئی کا رویہ اسی رحمت اللعالمینؐ کی یاد اور محبت سے پیدا ہو گا۔ جس کا ذکر اور محبت کا تذکرہ تمام آسمانی کتابیں کر رہی ہیں۔ سیرت کا یہ پیغام قرآن کریم کی تعلیمات کاسرنامہ ہے۔