کیا ہوا تیرا وعدہ

کالم نگار  |  مسرت قیوم

پاکستانی قوم کے لئے کوئی اچھی خبریں نہیں آ رہیں۔ ہر طرف سے عوام کے لئے کھینچا تانی ہو رہی ہے۔ حکومت سے لے کر ریڑھی بان تک ایک دوسرے کے منہ سے آخری نوالہ تک چھین لینے کے درپے نظر آتے ہیں۔ پچھلے 5ماہ کے دوران مہنگائی کی خوفناک لہر نے تمام ریکارڈ مات کر دیے۔ حتیٰ کہ بازار سے نسبتاً بہتر نرخوں پر عوام کو اشیائے صرف کی فراہمی کے لئے قائم کردہ یوٹیلٹی سٹورز پر بھی 170اشیا کی قیمتوں میں 10فیصد تک اضافہ، عوام کو مزید عوام کو مزید بے حال کر گیا۔ اضافہ کی وجہ سپلائی میں کمی کو بتایا گیا۔ روپے کی قدر میں کمی کے باعث دالیں، سبزیاں، چنے مصالحہ جات، میدہ اور گڑ کی قیمتوں میں اضافہ کے علاوہ گندم کی سپلائی میں کمی بھی فی من ریٹ 100روپے بڑھا چکی ہے جبکہ رپورٹ ہے کہ رواں سال معیشت کی گروتھ 208فیصد رہنے کا امکان ہے۔ علاوہ ازیں امسال 10لاکھ ٹن گندم کم پیدا ہو گی جس کے نتیجہ میں 200ارب کا نقصان قوم کو برداشت کرنا ہو گا۔ یہ خبر بھی اچھی نہیں کہ اس سال چاول 55لاکھ ٹن پیدا ہو گا جبکہ عالمی سطح پر کپاس کے نرخ بہتر ہونے کے باوجود پاکستان میں ”مافیاز“ کی بالادستی کی وجہ سے 30لاکھ کم گانٹھیں ہوں گی۔ دوسری طرف بھارت میں کپاس کی پیداوار پچھلے سال کے مقابل 19فیصد زیادہ رہی۔ دو ماہ سے مارکیٹ میں آلو، پیاز کی نایابی و گرانی ہے۔ سبزی سے لے کر گھی تک ہر چیز اسی طرح عوام کی پہنچ سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ جس طرح وزیراعظم اکثریتی وقت ملک سے باہر ہوتے ہیں۔ مانیٹری پالیسی میں شرح سود 10فیصد کرنے کی وجہ سے بھی قیامت مچ گئی ہے۔ قرضے کی حد میں 4ارب ڈالرز کا اضافہ فیصلہ کی نفی کرتا ہے۔ میں کوئی اقتصادی ماہر نہیں بلکہ اقتصادیات کی ایک سٹوڈنٹ ہونے کی وجہ سے اکثروبیشتر معاشی امور پر تبصرے لکھنے کی جسارت کرتی آ رہی ہوں ”کشکول توڑنے کا وعدہ بھی اپنی تعبیر پانے کی راہ دیکھ رہا ہے ”ہمارے پاس معاشی ماہرین کی ایک بہترین کھیپ موجود ہے۔ سیاسی قیادت بھی بالغ نظر ہے۔ مگر ان ماہرین کی صلاحیتوں کو اس وقت نجانے کیوں زنگ لگ جاتا ہے جب وہ حکومتی ٹیم کے مشیر مقرر ہوتے ہیں۔ سفید عینک پہننے والے حکومتی چھتری تلے ہی کالی عینک پہن لیتے ہیں۔ عوامی حلقوں میں رہنے کے دوران ٹھوس حقائق بتانے والے اقتدار کی غلام گردشوں میں داخل ہونے کے بعد گنجلک اعداد و شمار کی ڈائریاں چھاپنا شروع کر دیتے ہیں۔ عوام میں رہ کر حکومت کو حل بتانے والے ”کرسی“ پر بیٹھتے ہی وعدوں، معاہدوں کے کیلنڈر شائع کرنا شعار بنا لیتے ہیں۔ یہ وہ صاحبان اور قیادت ہے جو فارغ وقت میں ہر لمحہ ٹی وی چینلز کو دستیاب ہوتے اور معاشی سدھار بابت مشورے دیتے نہیں تھکتے۔ مگر حکومت کا حصہ بنتے ہی اسی نامعلوم طویل میٹنگز میں مصروف ہوتے ہیں کہ جن کے نتائج سے قوم آج تک یکسر لاعلم اور ثمرات سے محروم ہے۔ ہر معاملہ میں سیاست بازی اور انتخابی وعدوں کی بھرمار نے ہماری تمام معاشرتی و اخلاقی اقدار کو سخت زک پہنچائی ہے۔ سیاسی قیادت بھی اس مرض کا شکار ہو چکی ہے۔ شور، واویلا مچانے پر تلے ہوئے دانشور، میڈیا، ان میں سے کوئی ایک بھی مسائل کا حل بتانے پر وقت ضائع کرنے کے لئے تیار نہیں۔ میڈیا اصل مسائل کو سامنے لانے کی بجائے فروعی باتوں، بے سروپا کہانیوں میں قوم کو الجھا رہا ہے۔ حکومت نے الیکشن میں عوام سے مہنگائی کم کرنے، بجلی بحران حل کرنے اور پاکستان کی بیٹی ڈاکٹر عافیہ کو واپس لانے کے وعدے کئے تھے مگر ہنوز تشنہ طلب ہیں بلکہ عوامی مشکلات، لاچارگی اور دکھ پہلے سے بھی چار گنا بڑھ چکے ہیں۔ وعدے خوشنما دلفریب باتوں میں لپٹے ہوئے سہی حل کرنے کا عزم اپنی جگہ مگر اس جانب سے سفر کی کوئی تیاری دیکھنے میں نہیں آرہی۔ موجودہ عہد حادثاتی عہدے داروں کا نہیں ایک باضابطہ عوامی تائید سے منتخب قیادت کا دور ہے۔ قیادت کو بلاتامل عوام کے لئے باعث آزار بننے والے عوامل عناصر کا سدباب کرنا چاہئے۔ حکومت نوٹس لینے یا بیانات جاری کرنے کی بجائے پرائس کنٹرول کمیٹیاں موثر طور پر فعال کرے۔ اس کام کے لئے مزید انتظامی ڈھانچہ کھڑا کرنے کی بجائے پہلے سے موجود محکموں، ذیلی اداروں کو مستعد افسران کے حوالے کر دے۔ ہماری کتاب کے مطابق مہنگائی روکنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ ذمہ دار (چاہے دکان، ہوٹل، یا سٹور) کو جرمانہ کی بجائے ہمیشہ کے لئے اس کا لائسنس ختم کر دیا جائے۔ املاک فوراً ضبط کر لی جائیں۔ ایک بھی کام اس قبیل کا سرے چڑھ گیا تو مارکیٹ میں دوسروں کے لئے حکومتی قوت نافذہ کا پیغام اثرات مرتب کرے گا تو ساتھ ہی حکومت کی نیت بارے شکوک بھی رفع کرنے کا موجب بنے گا۔ یقیناً کچھ افراتفری ہو گی جبکہ پہلے ہی کونسی کم ہے مگر بہر حال عوامی حکومت کو اپنے ووٹوں کا گوشوارہ بھی تو کچھ عرصے بعد بھرنا پڑے گا تو بہتر ہے کہ سابقہ وعدوں کو پورا کرنے میں مزید تاخیر نہ کریں۔
پس تحریر: حکومت کو تجویز کرتی ہوں کہ سانحہ پنڈی جیسے واقعات کے اعادہ کو روکنے کی خاطر محرم الحرام کے سلسلہ کی تمام مجالس کو امام بارگاہوں کے اندر منعقد کرنے کی پابندی لگا دے۔ ریلیوں، طول طویل جلوسوں پر پابندی لگا دے۔ تمام سرگرمیوں کو چار دیواری کے اندر کرنے کی اجازت ہونی چاہئے۔ تجویز کڑوی ضرور محسوس ہو گی بعض حلقوں کو مگر فرقہ وارانہ ہم آہنگی پیدا کرنے کا باعث ضرور بنے گا۔ انشااللہ!