ڈاکٹر طاہر القادری کا نیا انقلابی سفر ....

کالم نگار  |  طاہر جمیل نورانی

اسلام آباد کے تاریخی کامیاب دھرنے پر ”آدھی کامیابی“ حاصل کرنے والے عوامی تحریک اور منہاج القرآن کے قائد علامہ، پروفیسر اور ڈاکٹر طاہر القادری نے حاصل کی، اپنی آدھی کامیابی کو پوری کامیابی میں تبدیل کرنے کا ایک بار پھر فیصلہ کرلیا ہے....!! ان کا کہنا ہے کہ ”بلٹ پروف کنٹینر“ کے حوالہ سے حاصل کی گئی وہ تاریخی کامیابی جس کا ایک حصہ بوجہ ملکی حالات اور انتخابات التواءمیں ڈالناناگزیر تھا، اسے مکمل کرنے کا وقت اب آپہنچا ہے....!!
اپنے دونوں صاحبزادوں کو ہدایات جاری کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ اب صرف محرم الحرام کے الوداع ہونے کا انتظار ہے، اِ س ماہ مبارک کے اختتام کے فوراً بعد حکومت کے خلاف ملک گیر تحریک چلانے کا آغاز کردیا جائے گا....!! اس سلسلہ میں ان کا کہنا تھا کہ نظام کی تبدیلی کے لئے سب سے پہلے ملک میں ایک کروڑ غازیوں کی تیاری ناگزیر ہے، اس لئے کارکنان اور قوم ادائیگی نماز کے لئے اپنے آپ کو فوری تیار کرلیں.... جب تک قوم میں غازی پیدا نہیں ہوں گے.... نظام میں تبدیلی لانا ممکن نہیں ہوسکے گا....!!
ڈاکٹر طاہر القادری نے اپنے دوسرے پیغام میں جو ویڈیو کانفرنس سے دیا، کارکنان کو مزید ہدایات دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں ”سبز انقلاب“ کے فائنل معرکے کے لئے وہ تیار ہوجائیں....!! سبز انقلاب کے لئے کی گئی قومی جدوجہد میں کوئی جانی نقصان ہوگا اور نہ ہی قانون کو اپنے ہاتھ میں لیا جائے گا....!!! یہ تاریخ یانقلاب خالصتاً اسلامی انقلاب ہوگا....!! اس لئے کارکنان میدان عمل میں اترنے کے لئے اپنی تیاری مزید تیز کردیں تاکہ ملک میں بلاتاخیر نظام مصطفےٰ اور دین حق کا سورج طلوع ہوسکے....!!
اس بات سے بھی انکار ممکن نہیں کہ ڈاکٹر طاہر القادری کو بات کرنے.... بات سمجھانے.... اور بات جھلانے کا خوب ڈھنگ آتا ہے.... وہ لفظوں کو درست جگہ استعمال کرنے کے گُر سے بھی آشنا ہیں....!! اسلامی نظام.... دین مصطفوی کے نفاذ اشتراکیت.... ملوکیت.... اور حقیقی اسلامی ریاست کے ماخذ بیان کرنے پر بھی انہیں دسترس حاصل ہے.... ان کا حالیہ یہ اعلان کہ آئندہ چند ہفتوں میں وہ ”سبز انقلاب“ کے لئے تحریک چلانے جارہے ہیں، ان کی سیاسی اور دینی سوچ کا مظہر ہے مگر مجھے ذاتی طور پر ڈاکٹر صاحب کے اس سبز انقلاب کی اس لئے بھی سمجھ نہیں آرہی کہ ڈاکٹر صاحب ہوم ورک کئے بغیر انقلاب کے نفاذ کے لئے کیسے متحرک نظر آنے لگے ہیں....!! ڈاکٹر صاحب بلاشبہ سکالر ہیں.... انہیں یہ بات بھی ذہن نشین رکھنا ہوگی کہ پاکستان کے مسائل کا واحد حل صرف ”سبز انقلاب“ ہی نہیں بلکہ حقیقی اسلامی معاشرے کے وجود کے لئے ابھی مزید بہت کچھ کرنا باقی ہے....!!! غازی تیار کرنے کے لئے جب ”تعداد“ کا سہارا لیا جانے لگے تو ایسے حالات میں کسی مخصوص انقلاب کے بارے میں سوچنا قبل از وقت ہو جاتا ہے.... قوم کو ”غازی“ بننے میں آخر کونسی رکاوٹ درپیش ہے....؟؟ ”اسلامی انقلاب“ لانے سے قبل یہ بھی تو ضروری ہے کہ وہ لیڈر جنہیں آج تک ”پاکستان“ کے ”مطلب“ کا پتہ نہیں چل سکا.... انہیں مفہوم پاکستان کا درس دیا جائے....!!! اسلامی جمہوریہ پاکستان جن مقاصد کے تحت عمل میں آیا.... ان کا قومی سطح پر اگر ادراک ہوجائے تو ملک میں کسی ”سبز یا سرخ انقلاب“ کی ضرورت ہی باقی نہیں رہتی.... ”انقلاب“ اور تحریکیں اس وقت چلائی جاتی ہیں جب لیڈر قوم کی رہنمائی اور قوم کے مسائل حل کرنے میں ناکام ہوجائیںمگر قوم کو باخبر.... متحرک اور اپنے حقوق کے حصول کی جنگ لڑنے کے علاوہ انصاف مہیا کرنا اور پھر قوم کی جان و مال کا تحفظ بلاشبہ ہر قومی لیڈر اور سربراہ مملکت کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ مگر افسوس! جن لیڈروںاور سربراہوں کو قوم پر مسلط کیا گیا ہے آج وہ خود اپنی ”جان“ اور ”مال“ بچانے کی فکر میں سرگرداں ہیں....! 2011ءمیں بین الامذاہب امن کانفرنس کے سلسلہ میں وہ لندن آئے.... پریس کانفرنس کی.... مگر نہ جانے مجھے ان کے افکار میں وہ تڑپ کیوں نظر نہ آئی....!! جسے میںاکثر محسوس کیا کرتاتھا۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ میری طرح انہیں بھی وطن چھوڑے طویل عرصہ ہونے کو ہے....!!! ان کے ”سبز انقلاب“ سے اگر ٹماٹر اور آلو اپنی اصل قیمت پر آجائیں.... ڈرون حملے بند.... دہشت گردی بند.... اور بیرونی بینکوں میں رکھی رقم واپس آجائے.... تو ڈاکٹر، پروفیسر، شیخ الاسلام طاہر القادری کی سیاسی سو چ کا میں بھی حامی ہو جاﺅں گا۔