وزیرِ اطلاعات ،عکسی مفتی اور مزاح نگاری

کالم نگار  |  عتیق انور راجا

یوں تو مزاح نگاری پر بات کی جائے تو پاکستان میں مزاح نگاری پر کئی مضمون لکھے جا سکتے ہیں۔ ایک طویل فہرست ہے اچھے ناموں کی اور اچھے مضامین کی بھی مگر مسئلہ یہ ہے کہ مزاح کو سمجھنے اور اس سے محظوظ ہونے کے فن سے ہم ابھی تک بے بہرہ ہیں۔ یا ہماری اکثریت کے نزدیک مزاح بھونڈی تحریروں اور فقرہ بازی پر مشتمل ہے۔ مزاحیہ شاعری میں بھی یہی ٹرینڈ عام ہو رہا ہے ۔ علاوہ ازیں اس سے بھی بڑے دُکھ کی بات یہ ہے کہ ، کہ ہمارے ہاں مزاح نگار نثر میں اظہار کرے یا شاعری میں اس کا ہدف ہمیشہ عورت ہی ہوتی ہے ۔پچھلے دنوں الحمراء ادبی و ثقافتی کانفرنس کے مزاحیہ سیشن کی صدارت وزیرِ اطلاعات پرویز رشید کو یوں عنایت ہوئی کہ اس محفل کے اصل صدر یعنی مشتاق احمد یوسفی تشریف نہیں لا سکے تھے۔ بہرحال کچھ لوگوں نے مشتاق احمد یوسفی کی جگہ پرویز رشید کا نام سُن کر حیرانی کا اظہار بھی کیا ۔تا ہم توقع تھی کہ اس ادبی کانفرنس میں سیاسی مزاح نگاری سننے کو ملے گی۔ مگر وزیرِ اطلاعات صاحب بڑی محویت اور دلچسپی سے تمام شرکاء کے مضامین اور شاعری سنتے رہے۔اسکے علاوہ کلاسیکل روایت کے حامل اور برصغیر کے عظیم مزاح نگاروں کی تحریریں بھی پڑھ کر سنائیں گئیں مگر حاضرین کی حامشی کو دیکھ کر اندازہ لگایا جا سکتا تھا کہ اب انٹرنیٹ اور تیز رفتار دور میں قاری اور سامعین کا ذوق مزاح تبدیل ہو چکا ہے۔ وہ ایک پورا پیرا گراف پڑھ کر ایک فقرے میں اس کے اختتامی منظر نامے سے لطف اندوز ہونے کی بجائے ہر فقرے کو مزاح میں رنگا ہوا دیکھنا چاہتے ہیں۔ تاہم خطبہء صدارت جس کے بارے میں سب کو امید تھی کہ سیاسی رنگ ڈھنگ کا ہو گا اور سیاسی چٹکلوں سے بھر پور ہو گا مگر اُنکی گفتگو ایک مکمل مزاحیہ خاکہ ضرور تھی لیکن اس میں سیاست کا کوئی عمل دخل نہیں تھا۔ انہوں نے پہلے جملے سے آخری لفظ تک ایک بھرپور مزاحیہ خطاب کیا اور حاضرین سیشن کو غیر محسوس طریقے سے یہ سوچنے کی طرف ترغیب دی کہ مزاح صرف دوسروں کی تذلیل کا نام نہیں اور یہ کہ طنز اور مزاح کے معنی کیا ہیں۔ انھوں نے مزاح پیدا کرنے کے لئے اپنی ذات کو ہدف بناتے ہوئے کہا کہ چونکہ وہ اور سید ضمیر جعفری کے صاحبزادے جو ان کے دوست اور ہمسائے ہیں کتاب سے زیادہ پیار نہیں کرتے تھے اس لئیے وہ وزیر بنے اور جعفری صاحب کے بیٹے کرنل۔ حالانکہ ایک دنیا جانتی ہے کہ پرویز رشید علم و ادب اور کلچرسے گہری وابستگی رکھتے ہیں۔بات مزاح کی چلی ہے تو عکس مفتی کا ’’کا غذ کا گھوڑا‘‘ بھی اس سلسلے کی کڑی ہے۔ عکسی مفتی نے اس خوبصورت کتاب میں اپنے چالیس تلخ سالہ تجربات رقم کئے ہیں جو انھیں بیورو کریسی کے طفیل نصیب ہوئے۔ فیصل ناشران نے ایک غیر رسمی ، ایک تعارفی تقریب منعقد کی جس کی صدارت اس عہد کی بے مثل ادیبہ بانو قدسیہ نے کی۔ مقررین نے ملٹری اور سول بیورو کریسی کے حوالے سے اظہارِ خیال کرتے ہوئے اس تحریرکو سراہا۔ اس تقریب میں ایک ریٹائرڈ بیورو کریٹ اکرم ذکی صاحب اور ایک حاضر سروس افسر اوریا مقبول جان بھی مدعو تھے۔ اوریا صاحب نے بیورو کریسی سمیت سیاستدانو ں کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ میں نے زندگی میں ذوالفقار علی بھٹو اور اکبر بگٹی کے علاوہ کسی حکمران کو فائل کا مطالعہ کرتے نہیں دیکھا ۔ ہمارے جیسا کوئی افسرانھیں جس طرح چاہے بریف کر کے سائن کر سکتا ہے۔کیونکہ حکمران تو دستخط کرنے کے بھی روادار نہیں ہیں۔جبکہ اکرم ذکی صاحب کا کہنا تھا کہ مسائل دونوں طرف موجود ہیں۔ حکمران فائل پر اس لئے دستخط نہیں کرتا کہ بعد میں وہ کسی بھی ذمہ داری سے مُکر سکے۔مسئلہ یہ ہے کہ کیا تمام افسران ایک جیسے ہیں یا ہم پوری بیوروکریسی کو بُرا کہہ کر خود کو کس حوالے سے پرکھ رہے ہیں بطور قوم ہماری شناخت کیا ہے۔ ہم کیا کیا دعوے کرتے ہیں مگر ہمارا اصل کردار اور عمل کیا ہے۔ عکسی مفتی نے جو حقیقی واقعات درج کئے ہیں وہ بھی معاشرے کے ساتھ ایک مذاق کی طرح ہیں۔ اس سے بڑی زیادتی اور کیا ہوگی کہ اتنے بڑے بڑے ثقافتی اداروں پر ایسے افسران تعنیات کئے جاتے رہے ہیں جنہیں اپنے کلچر اور اقدار سے آگاہی نہ تھی۔اس کتاب کی خوبصورتی یہ ہے کہ کئی مقامات ایسے ضرور آئیں گے جب آپ کی ہنسی ایک گہرے طنز کا روپ دھار لے گی اور آپ کی آنکھوں سے آنسو جھانکنے لگیں گے۔امید ہے قریہ قریہ گھوم کر دانش کے موتی تلاشنے والے عکسی مفتی ان بیوروکریٹس پر بھی ایک کتاب ضرور لکھیں گے جن سے کبھی اُن کا واسطہ نہیں رہا مگر اُنہوں نے اپنے شب و روز کی محنت اور دیانت سے اس ملک کو خوشحال بنانے کی تگ و دو کی ہے۔