متحدہ عرب امارات کی ترقی میں حکمرانوں کا کردار

کالم نگار  |  محمد سلیمان خان

2 دسمبر1971کو آزادی حاصل کرنے والے متحدہ عرب امارات میں 43 واں یوم آزادی منایا جا رہا ہے۔ 83,600 مربع کلومیٹر پر مشتمل7 ریاستوں کے اس چھوٹے سے ملک نے 42 برسوں میں جو کمال ترقی کی۔ اس کے پیچھے ان کے حکمرانوں کا ویژن.... ان کی وطن سے گہری وابستگی، جذبہ حب الوطنی اورخلوص چھلکتا نظر آتا ہے۔ کوئی ملک کوئی علاقہ اپنے صاحب بصیرت وبصارت منتظم کے بغیر ترقی کی منازل طے نہیں کر سکتا۔ یو اے ای کی طویل تاریخ کا ذکر کئے بغیر یہ کہا جا سکتا ہے کہ جب سے شیخ زاید بن سلطان النہیان نے بہ حیثیت صدر امارات کا انتظام ہاتھ میں لیا تو اس خطہ کی تقدیر بدل گئی۔ عرب امارات کی ریت سونا بن گئی۔ صحراﺅں میں گل و گلزار کھلانے کا اصل مفہوم سامنے آیا اور حالات بدلتے چلے گئے اب گزرے واقعات کی تصویر تاریخ کے فریموں میں نظر آتی ہے۔ اب یہاں کے ہر شعبہ زندگی میں مستعدی ہے، ٹھہراﺅ بھی ہے، ترقی بھی اور عظمت بھی۔ تعلیمی لحاظ سے بڑے بڑے ادارے اور یونیورسٹیاں قائم ہیں۔ سرکاری اداروں اور نجی دفاتر میں کام اور کارکردگی کا معیار بلند ترین ہے۔ ہسپتال میں علاج معالجہ کی سہولتیں ہیں۔ صحت و صفائی کا یہ عالم ہے کہ آئنہ محو حیرت ہے، امن و امان کی فضا ہے۔ چوری چکاری کا کوئی خطرہ نہیں۔ دکانیں کھلی ہیں، کسی کی جرا¿ت نہیں کہ کچھ اٹھا لے۔ پولیس صحیح معنوں میں عوام کی محافظ اور ٹریفک پولیس کا نظام مربوط و ہمدردانہ اور تسلی بخش ہے۔ دنیا بھر سے آئے لو گ بلا تخصیص مطمئن و شاداں ہیں۔ یہ سب یو اے ای کے حکمرانوں کی قیادت عظمیٰ کے طفیل ہے۔
یہ وہ جنت ارضی ہے جو 1970ءسے پہلے صرف ایک خواب تھا۔ یہ وہی خطہ ہے جو 1930ءکی دہائی میں صرف موتیوں کی تجارت پر موقوف تھا۔ اس عرصہ میں موتیوں کی مارکیٹ کریش ہوئی تو پہلے سے غریب یہ ریاستیں عسرت و یاس کی تصویر بن گئیں۔ اس وقت شیخ زائد نو عمری کے دور سے گزر رہے تھے۔ جب ان تمام ریاستوں میں کوئی ایک سکول بھی نہ تھا۔ طرز زندگی بدوآنہ تھا۔ ان کے دل میں اس طرز زندگی سے نکلنے کی پوری تڑپ تھی۔ پھر جب برطانوی استعمار نے اعلان کیا کہ 1971ءکے آخر میں9 ریاستوں کو آزاد کر دیا جائے گا۔ تو آپ کو منزل کی جھلک نظر آنے لگی۔ وہ عمل کی دنیا میں کودنے کیلئے تیار ہو گئے۔ ریاستوں کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے کی کوششکی گئی۔ 9 ریاستوں کے باسی اپنا فیصلہ کرنے کیلئے آزاد تھے۔ اتحاد میں بڑی طاقت ہوتی ہے۔ سب حاکم مل بیٹھے، قطر اور بحرین اپنا آزاد تشخص الگ چاہتے تھے چنانچہ 7 ریاستوں نے آپس میں اتحاد کا علم بلند کیا۔ شیخ زائد بن سلطان النہیان کو صدر چنا گیا اور شیخ مکتوب بن راشد (حاکم دوبئی) کو نائب صدر اور وزیراعظم منتخب کیا گیا۔
آزادی حاصل کرتے ہی دنیا بھر سے ماہرین معاشیات و حسابات کو دعوت دی گئی تاکہ خطہ کی ترقی کیلئے لائحہ عمل تلاش کیا جائے۔ ملک کی جغرافیائی حالت سے فائدہ اٹھانے کا فیصلہ کیا گیا کہ ایکطرف پورا خطہ عرب اس کے مغرب میں افریقہ و یورپ اور مشرق ہیں پورا ایشیا ہے۔ اس طرح دبئی نہ صرف گیٹ وے آف دی مڈل ایسٹ بن سکتا ہے بلکہ یورپ، افریقہ اور ایشیا کی درمیانی منڈی کی حیثیت سے ٹریڈ سٹی کی حیثیت حاصل کر سکتا ہے چنانچہ آزاد معیشت کا سلوگن اپنایا گیا۔ سرمایہ کو تحفظ ملا تو پوری دنیا کے سرمایہ کار اُمڈ کرآئے، خوب منافع کمایا گزشتہ عالمی کساد بازاری میں جب پوری دنیا کے بڑے بڑے ادارے زمین بوس ہو رہے تھے یو اے ای میں بھی بحران آیا مگر حکمرانوں کا جذبہ حب الوطنی دیکھئے شیخ زاید مرحوم کے بیٹے اور موجودہ فرمانروا ہز ہائی نس شیخ خلیفہ بن زائد النہیان نے ذاتی طور پر بھاری سرمایہ کاری کر کے کئی اداروں کو ڈوبنے سے بچایا۔ آزاد معیشت کا سلوگن بھی برقرار رکھا۔ جس کی وجہ سے دنیا بھر کے انوسٹرز کا اعتماد مزید مضبوط ہوا جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ آئندہ چند سالوں میں یو اے ای دنیا کی ایک بڑی معاشی قوت بن جائے گا۔
 پاکستان کے ساتھ یو اے ای کے حکمران گہرے روابط رکھتے ہیں۔ یو اے ای کی تعمیر میں پاکستانی ماہرین ٹیکنو کریٹس، انجینئرز کے علاوہ محنت کشوں کی بڑی تعداد نے حصہ لیا۔ شیخ زائد پاکستان اور پاکستانیوں سے بہت محبت رکھتے تھے۔ پاکستان میں شیخ زائد ہسپتال سمیت بڑے بڑے ادارے ان کی محبت کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ پاکستان پر جب بھی کوئی آفت آئی۔ یو اے ای کے حکمرانوں کا جذبہ قابل دید رہا ہے۔ ہم دل کی گہرائیوں سے عرب امارات کے یوم آزادی پر یو اے ای کے حکمرانوں اور عوام کو مبارکباد دیتے ہیں اور امید کرتے ہیں ہمارے یہ تعلقات مزید گہرے ہوں گے۔ یو اے ای کے حکمرانوں کا جذہ حب الوطنی، ان کا ویژن ہم سب خصوصاً پاکستانی حکمرانوں کو ان سے سبق حاصل کرنا چاہئے۔ یہ دیکھا جائے کہ پاکستان کن مسائل میں گھرا ہوا ہے اور کس ذریعہ سے ہم اپنے مسائل پر قابو پا سکتے ہیں اس کیلئے ہم آہنگی بہت اچھی بات ہے لیکن یہ ہم آہنگی کسی بھی صوبائی یا لسانی تعصب سے پاک ہونی چاہئے۔