لاہور چیمبرز آف کامرس میں محبان وطن

کالم نگار  |  عزیز ظفر آزاد

ہم بطور قوم گمراہی و بداعمالی کی دلدل میں پھنستے جا رہے ہیں ۔ ہماری اشرافیہ ملاوٹ ، ذخیرہ اندوزی ، منافع خوری کے گھناﺅنے دھندوں میں ملوث ہیں ۔ ریاست کے مال کو حیلے بہانے سے ہڑپ کرنا ، سرکاری زمینوں کو ہتھیانا ، غیر ملکی دورے ،سرکاری خرچ پر حج اور عمرے کرنا ، غریب عوام سے لئے ٹیکس سے بیرون ملک چھوٹی بیماری پر بڑے خرچے کرتے ہیں یہی حال متوسط اور نچلے طبقے کا ہے ۔ حسب توفیق چھوٹے بڑے گناہ سے گریز نہیں کرتے ۔ حلال حرام کی تمیز جاتی رہی ۔قانون کا پاس ہے نہ اخلاقیات کو ملحوظ رکھتے ہیں ۔ قومی اقدار کا خیال ہے نہ ملکی وقار پیش نظر ہے ۔ مملکت خداداد کو پسپائی اور زوالی کیفیت سے دو چار کر دیا ۔ ناامیدی کے ان اندھیروں میں کچھ اہل جنوں آس کے چراغ جلاتے اجتماعی ضمیر کو جھنجھوڑتے ، ہواﺅں کا رخ موڑتے اور اسلاف سے رشتہ جوڑتے دکھائی دیتے ہیں ۔ ایسی ایک تقریب 23نومبر کو لاہور چیمبر آف کامرس کے جناح ہال میں منعقد تھی جس میں ملک بھر سے دردمندان محبان قوم و ملک امید کی شمعیں روشن کرتے اپنی تدبیر سے ملت کی تقدیر بدلنے کا عزم ثمیم کرتے پیروجواں یک زباں تھے کہ ہم نے گلشن کے تحفظ کی قسم کھائی ہے ۔
لاہور چیمبر آف کامرس میں سندھ طاس واٹر کونسل اور تنظیم ، قوت ، اخوت عوام کے اشتراک سے سیمینار کالا باغ ڈیم کی تعمیر کے عنوان سے چیمبر کے صدر انجینئر سہیل لاشاری کی زیر صدارت منعقد تھا جہاں ملک گیر انجینئرز تنظیمیں معروف ماہر معاشیات اور آبی امور سے متعلق حضرات شامل تھے ۔ سابق وزیر اعلیٰ سرحد اور ماہر آبی امور جناب شمس الملک کی وزیر اعظم کے ہمراہ مصروفیت کے باعث ٹیلی فونک خطاب ہو سکا جس میں انہوں نے باور کرایا کہ کالا باغ ڈیم کی تعمیر سے لوڈشیڈنگ کا خاتمے کے ساتھ زراعت صنعت کے فروغ میں انقلابی تبدیلی واضح ہوگی ۔صرف صوبہ سرحد کی آٹھ لاکھ ایکڑ بنجر زمین زیر کاشت آسکتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایک عرصہ سے کالا باغ ڈیم کی تعمیر کی افادیت بتا رہے ہیں مگر اس پر حکومت توجہ دیتی ہے نہ سیاست دان سنجیدہ ہیں جس کے باعث ملک کی بقا داﺅپر لگی ہے ۔ سابقہ وزیر خزانہ ڈاکٹر سلمان شاہ نے کہا کہ یہ پروجیکٹ قلیل عرصہ میں سستی بجلی پیدا کی جاسکتی ہے ۔ ملک کو وسیع تر معاشی فوائد کے علاوہ سندھ کی معیشت مستحکم ہو نے سے بڑے پیمانے پر روزگار فراہم کرنے زرعی پیداوار میں نمایاں اضافہ اور غربت کے خاتمے میں اہم کردار ادا ہوگا ۔ کرنل عبدالرزاق بگٹی (ر) نے ملٹی میڈیا کی مدد سے پورے ملک میں پھیلی ویران بنجر زمینوں کے عکس ، دریاﺅں کے بہاﺅ اور کٹاﺅ کے علاوہ سندھ و بلوچستان کو کالا باغ سے ملنے والی خوشحالی کو ایک سکرین کے ذریعے دکھایا ۔ ان کا کہنا تھا کہ کالا باغ ڈیم واحد منصوبہ ہے جس سے بارانی سیلاب کی ہلاکت خیزی سے بچایا جاسکتا ہے ۔ اس سے مشرقی صحرا جنوبی سندھ اور تھر کی قابل کاشت زرعی زمینوں کےلئے نہری پانی مہیا کیا جاسکتا ہے ۔ ڈی آئی خان سے پروفیسر مخدوم صفدر نثار نے اپنے علاقے کے مظلوم عوام کی حالت زار کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ہم لوگ بارش کے گندے پانی کو پینے کےلئے دور دراز سے حاصل کرتے ہیں ۔ ہمارے علاقے کو کالا باغ کے سوا پانی میسر آنے کا کوئی راستہ نہیں ۔ مخدوم صفدر نثار پشاور ہائی کورٹ میں رٹ دائر کئے ہوئے ہیں ۔ صدر پاکستان انجینئر رنگ کانگریس ریاض احمد خان نے کہا کہ توانائی کے بحران نے صنعت و تجارت کو تباہ کیا ۔ بجلی کی قیمتوں میں اضافہ جس سے اشیائے صرف کی قیمتوں نے عوام کی کمر توڑ دی ۔ سرمایہ کار بھی متاثر ہے ۔ تمام بحرانوں سے نجات کا واحد حل کالا باغ ڈیم ہے ۔ سابق چیف انجینئر واپڈا (پاور) چیئر مین آئی ای پی خالد سجاد نے بتایا کہ جب آئی پی پی سے حکومت معاہدہ کررہی تھی تو انسٹی ٹیوٹ آف انجینئرنگ پاکستان نے مخالفت ہی نہیں کی بلکہ لاہور ہائی کورٹ میں اس کے خلاف رٹ دائر کی جس کافیصلہ آج تک نہ ہو سکا ۔یو آئی ٹی کے پروفیسر ڈاکٹر زاہد احمد صدیقی نے کہا کہ غیر ملکی قرضوں کے سہارے منزل تک رسائی ممکن نہیں ۔ غیر ملکی قرضوں کی شکل ایسٹ انڈیا کمپنی جیسی ہے جو اپنے مخصوص مقاصد کے علاوہ شرمناک شرائط پر دے کر جکڑ لیتے ہیں ۔ہماری یونیورسٹیاں بہترین انجینئر اور ٹیکنو کریٹ پیدا کررہی ہیں جن کی صلاحیتوں کا اعتراف دنیا میں کیا جارہا ہے ۔ اگر مقامی یونیورسٹیوں کو ٹاسک کے ساتھ ریسرچ کی سہولیات فراہم ہوں تو ہم ہائیڈرل ، سولر ، ونڈ سمیت ہر شعبہ میں ٹیکنالوجی اور رہنمائی مہیا کر سکتے ہیں ۔ سندھ طاس واٹر کونسل کے چیئر مین سلمان خان نے کہا کہ کالا باغ کی سائیڈ دیکھیں یہ قدرت کا انمول تحفہ ہے ۔ ڈیم کی تعمیر کا ابتدائی کام مکمل ہے ۔ مشینری موقع پر موجود پاور ہاﺅس کی بلڈنگ اور ملازمین کی کالونیاں بن چکی ہیں ہمیں حکومت سے رقم چاہیے نہ بیرونی سرمایہ کاری درکار ہے ۔ 1991ءمیں اتفاق رائے ہو چکا حکومت صرف ہم کو این او سی جاری کرے تو ہم فنڈ ریزنگ کے ذریعے تین سال میں ڈیم کھڑا کر سکتے ہیں ۔
لاہور چیمبر آف کامرس کے صدر جناب سہیل لاشاری نے کہا کہ کالا باغ ڈیم سیاسی ایشو بن گیا حالانکہ یہ ملک کی معاشی بقا کا معاملہ ہے ۔ سیمینار سے ایگری فورم کے چیئر مین ڈاکٹر ابراہیم مغل ، انجینئر طفیل ملک ، نذر حسین دریشک (ر) میجر صدیق ریحان تنظیم قوت اخوت عوام کے رہنما طاہر انجم کے علاوہ دیگرمحبان وطن نے خطاب کیا ۔
قارئین کرام ! میانوالی ہائیڈرل پروجیکٹ کا افتتاح حضرت قائداعظم نے کیا تھا ۔ آپ کی نگاہ دور رس اس چھوٹے سے پروجیکٹ کو بڑھتے ہوئے ایک وسیع ڈیم کا نظارہ کر رہی ہو گی ۔ اس کی وسعتوں کا اندازہ لگا رہی ہوگی ۔ اس سے حاصل شدہ بجلی پانی سے ملکی زراعت صنعت و تجارت میں بے پناہ اضافے کے ساتھ چلتے کارخانے اور جلتے قمقموں میں اپنے غریب عوام کی خوشحالی عالم تصور میں محسوس کررہے ہونگے جو خواب میرے قائد نے عطا کیا ہم نفاق اور انتشار کا شکار ہوگئے ۔ گمراہ ہوکر منزل سے بھٹک گئے ۔ اے قائد ہم شرمندہ ہیں ہم تیرے خواب کی تعبیر نہ دے سکے ۔ ہم کشمیر حاصل کر سکے نہ میانوالی پاور پروجیکٹ کی توسیع کے ذریعے وہ نعمتیں حاصل کیں جو آپ کے تصور و ادراک میں تھیں ۔ ہم عہدکرتے ہیں کہ ہم مملکت خداداد کو آپ کی سوچ و فکر کے مطابق ایک اسلامی جمہوری اورفلاحی ریاست کے روپ میں ڈھال کر دم لیں گے ۔