جنرل راحیل کا شمشیر و سناں اول!

کالم نگار  |  نازیہ مصطفٰی

واقعہ کربلا کو سینتیس برس بیت چکے تھے اور اموی مدینہ اور مکہ کو خاک و خون میں نہلاکر اپنی طرف سے خاندان بنو امیہ کیلئے آخری خطرے کی صورت میں موجود حضرت عبداللہ بن زبیرؓ کی خلافت کا بھی خاتمہ کرچکے تھے، لیکن اس کے باوجود عوام کے دل میں بنو امیہ کی محبت راسخ نہ ہوسکی۔ ایک کروڑ پچاس لاکھ مربع میل پر پھیلی ریاست میںرعایا اموی عمال اور گورنروں کے ظلم و ستم سے تنگ آئی ہوئی تھی۔ عراق میں حجاج بن یوسف سب سے سخت گیر اموی گورنر تھا، جس کے ظلم سے تنگ عراقی علاقہ چھوڑ چھوڑ کر جارہے تھے، ان میں سے اکثریت کا رُخ مدینہ کی جانب تھا، جہاں واحد اموی گورنرمظلوموں اور غریبوں کا سہارہ بنا ہوا تھا۔یہ گورنر خلیفہ ولید کا چچا زاد بھائی بھی تھا۔ حجاج نے مدینہ کے گورنر کی مقبولیت دیکھی تو اموی خلیفہ ولید بن عبدالملک پر دباو¿ ڈال کر مدینہ کے اِس گورنر کو معذول کرادیا، لیکن تب تک مدینہ کا یہ خوش پوشاک گورنر پوری اسلامی دنیا میں ایک باوقار مقام حاصل کرچکا تھا، بنو امیہ کے اقتدار میں آنے پر چونکہ خلافت وراثتی ہوچکی تھی، اس لیے ولید کے بعد اُس کا بھائی سلیمان خلیفہ بناتو سلیمان نے اپنے بیٹے ایوب کو اپنا ولی عہد مقرر کردیا، ایوب اسی سال انتقال کرگیا تو سلیمان نے اپنے دوسرے کم سن بیٹے کو ولی عہد نامزد کرنے کا فیصلہ کرلیا، لیکن اس فیصلے کی راہ میں خاندان آڑھے آگیا۔ یوں خاندان کے اصرار پر سلیمان نے اپنے چچا زاد بھائی اور مدینہ کے سابق اور برطرف گورنر کو ولی عہد مقرر کردیا۔ سلیمان اگلے برس انتقال کرگیا تو آٹھویں اموی خلیفہ نے منصب سنبھالا۔ نئے خلیفہ نے آتے ہی اوپر سے لے کر نیچے تک سب کچھ تبدیل کرکے رکھ دیا۔ بنو امیہ کی حقیقت میں چیخیں اُس وقت نکلیں جب خلیفہ نے اشرافیہ کے قبضے سے زرخیز چراہ گاہیں اور شکار گاہیں چھڑواکر کھیتی باڑی کیلئے کسانوں میں بانٹ دیں، لیکن دوسروں کو اس عمل پر مجبور کرنے سے پہلے خلیفہ نے اپنی مثال پیش کی کہ مدینہ سے روانگی کے وقت جس شخص کا استعمال کا زاتی سامان صرف ستر اونٹوں پر لادا گیا تھا، خلافت کے تین برسوں کے دوران اُس کے پاس کپڑوں کے دو جوڑوں کے سوا کچھ باقی نہ بچا تھا۔ مملکت خداداد کو ایک مرتبہ پھر اسلام کے قالب میں ڈھالنے والا یہ بطل حریت کوئی اور نہیں بلکہ خلیفہ دوم حضرت عمر ؓ بن خطاب کے بیٹے حضرت عاصم کا نواسہ حضرت عمر بن عبدالعزیز تھا۔
حضرت عمر بن عبدالعزیز خلافت کے متمنی تھے نہ ہی وراثتی قطار میں کسی شمار میں آتے تھے یہی وجہ ہے کہ جب اُنہیں دمشق طلب کیا گیا تو حضرت عمر نے بڑی پس و پیش کے بعد یہ گراں ذمہ داری اٹھانے کا وعدہ کیا ۔حضرت عمر نے اپنے تین سال سے بھی مختصر دورِ خلافت میں ایک کامیاب ریاست چلانے کے اصول وضع کردیے۔ حضرت عمر نے کاروبار مملکت اور تجارت کے الگ الگ اصول متعین کیے اور عمال اور حکام پر کسی بھی قسم کے کاروبار یا تجارت میں حصہ لینے پر پابندی عائد کردی۔ حضرت عمر نے اساتذہ کیلئے وظائف مقرر کیے اور تعلیم کو فروغ دیا۔ خلیفہ نے شراب، عریانی اور مخلوط حماموں پر پابندی عائد کرتے ہوئے زکواة کی منصفانہ تقسیم کیلئے باقاعدہ قوانین تیار کیے۔ خلیفہ نے ایران، خراسان اور شمالی افریقہ میں بڑے پیمانے پر ترقیاتی کام کرائے۔خلیفہ نے نہ صرف سڑکیں، نہریں ، ہسپتال ، یتیم خانے اور سرائے تعمیر کرائیں بلکہ بغیر اجرت مزدوری کو بھی غیر قانونی قرار دیدیا۔حد تو یہ ہے حضرت عمر کے حسنِ حکمرانی اور درویشی کی وجہ سے خارجی بھی ان کے دور میں پرامن اور مطمئن رہے۔
تاریخ میں اچانک بھاری ذمہ داری سنبھالنے والے عمر بن عبدالعزیز تنہا نہیں ہیں، بلکہ تاریخ شاہد ہے کہ قدرت جب بھی کسی سے کوئی خاص کام لینا چاہتی ہے تو قرعہ ہمیشہ ”ڈارک ہارس“ کے نام ہی نکلتا ہے۔ اسی طرح کا ایک قرعہ موجودہ آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے نام بھی نکلا ہے۔ جی ہاں! اٹھائیس نومبر سے پہلے جتنے بھی تجزیے پیش کیے گئے یا جتنے صحافی حضرات نے بھی ”ذرائع“ کے نام پر آئندہ آرمی چیف کی خبر بریک کرنے کاکریڈٹ لینے کی کوشش کی ، اس میں کسی بھی خبر یا تجزیے میں کسی عام سے دانشور اور نو آموز تجزیہ کار نے بھی جنرل راحیل شریف کا نام نہیں لیا۔ شاید اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ اقتدار کی غلام گردشوں میں جنرل راحیل شریف کا کوئی نامہ بر بھاگتا پھرتا دکھائی نہیں دیا۔ حد تو یہ ہے اس بار کسی ”چڑیا“ کو بھی خبر نہیں ہوسکی کہ ایک ”شاہین“کو منتخب کیا جارہا ہے، جس کا بسیرا کبھی قصر سلطانی کا گنبد نہیں ٹھہرا۔
قارئین محترم!! بلاشبہ حضرت عمر بن عبدالعزیز اور جنرل راحیل شریف کا آپس میں کوئی جوڑ ہے نہ ہی کوئی مقابلہ بلکہ ان دونوں کے درمیان کسی مقابلے کا سوچنا بھی یقینا حماقت ہوگی،لیکن یہاں عمر بن عبدالعزیز کی مثال دینے کا مقصد محض یہ ہے کہ تین برس کا وقت اتنا کم بھی نہیں ہے کہ اس میں کچھ کیا نہ جاسکے۔ اسلام کے یہ روشن ستارے اسی لئے ہر گام پر سنگ میل کی صورت میں موجود ہیں کہ جہاں کہیں راہ سجھائی نہ دے تواِن سے رہنمائی لی جائے۔ عمر بن عبدالعزیز کے تمام کارنامے بیان کرنے کیلئے تو اِس کالم کا دامن بہت چھوٹا ہے، لیکن خلافت کی گراں ذمہ داری اٹھانے کے بعد عمر بن عبدالعزیز نے اپنے قول و فعل سے ثابت کیا کہ ایک مسلمان حکمران کو کیسا ہونا چاہیے؟بالکل اُسی طرح موجودہ آرمی چیف بھی اپنے تین سالہ دور میں اپنے قول و فعل سے ثابت کرسکتے ہیں کہ ایک پروفیشنل سپاہی کو کیسا ہونا چاہیے؟ علاوہ ازیں آرمی چیف کا عہدہ اگرچہ تاج و تخت تو نہیں ہوتا لیکن قوت کا منبع ہونے اور پاکستانی تاریخ میں مارشل لاو¿ں کے افسوسناک ابواب کی وجہ سے کسی صورت تاج و تخت سے کم بھی نہیں سمجھا جاتا۔ تھوڑے سے خراب ملکی حالات اور ایک سو گیارہ بریگیڈ کی معمولی سی حرکت کے بعد آرمی چیف کیلئے طاو¿س و رباب کے دروازے کھل جاتے ہیں۔ موجودہ آرمی چیف کو بھی اُن کی اصل راہ سے بھٹکانے والے حالات یقینا پیدا ہوں گے اور یہی حالات دراصل جنرل راحیل کے پروفیشنلزم کا اصل امتحان بھی ہوں گے۔جنرل راحیل شریف نے بھی ” طاو¿س و رباب آخر“ کا راز پالیا تو حضرت عمر بن عبدالعزیز کی طرح اپنے مختصر سے دور میںوہ بڑے کارہائے نمایاں سرانجام دے سکتے ہیں۔تاریخ جنرل راحیل کے سامنے ہے اور قلم بھی جنرل راحیل کے ہاتھ میں ہے، سپہ سالار چاہے تو ”شمشیر و سناں اول“ پر عمل کرتے ہوئے اپنی تاریخ بھی خود لکھ سکتا ہے۔