ایک دن عمران خان کے دھرنے میں

کالم نگار  |  فاروق عالم انصاری

صحت بھی کچھ ٹھیک نہیں رہی۔ اب لمبے سفر سے تکان ہو جاتی ہے۔ لیکن ہم پھر بھی نہ رہ سکے اور عمران خان کا نیٹو سپلائی کے خلاف دھرنا میں شرکت کیلئے پشاور جا پہنچے۔ یہ قصہ پچھلے ہفتے کا ہے لیکن ہم آپ کو سُنائیں گے ضرور۔ میری پشاور جلسہ گاہ میں پہنچنے پر پہلی نظر اپنے شہر گوجرانوالہ کی مس شاہین رضا پر پڑی۔ آپ مس کے لفظ پر چونکئے نہیں، یہ خاتون میری ہم عمر نہیں مجھ سے ایک برس بڑی ہیں۔ سمارٹ، چاق و چوبند، پاکیزہ اور پڑھی لکھی سماجی خاتون۔ ان کی ایسے جلوسوں میں ”خجل خوار“ ہوتے پوری عمر بیت گئی ہے لیکن اسمبلیوں کیلئے خواتین کی مخصوص نشستوں کے ٹکٹ بامُراد اور بااختیار سیاسی گھرانے اپنے گھروں کی چار دیواری سے باہر کہاں نکلنے دیتے ہیں۔ اس لئے یہ ابھی تک محض ناہید نعیم رانا ایم پی اے کی مصاحبت کے درجے تک ہی پہنچ پائی ہیں۔ سو یہ ان کے پیچھے پیچھے بڑے اہتمام سے سٹیج کی جانب جا رہی تھیں۔ پچھلے دنوں ہندوستان سے آئے ہوئے ایک اخبار نویس کے منہ سے یہ سُن کر بہت خوشی ہوئی کہ پاکستان اور ہندوستان کے بالکل ایک سے حالات ہیں۔ پٹوار خانوں کا ماحول، پولیس تھانوں کا کلچر اور سیاستدانوں کی کرپشن، سب کچھ بالکل ایک جیسا۔ ہندوستان کے شہر بدایوں کے رہنے والے عرفان صدیقی کے شعر سے پتہ چلتا ہے کہ دونوں ملکوں کے جلسے جلوسوں کا رنگ ڈھنگ بھی ایک سا ہے۔ وہی دوڑ لگی ہوتی ہے سٹیج پر چڑھنے کی
اسے بھی فکر ہے سٹیج تک پہنچنے کی
جو شخص صفِ آخر کے حاضرین میں ہے
ناہید نعیم رانا پی ٹی آئی کی یہ خاتون رکن اسمبلی گوجرانوالہ تحریک انصاف کے ضلعی صدر رانا نعیم الرحمان خان کی نصف بہتر ہیں۔ ہم نے انہیں پہلی مرتبہ دیکھا تو ادب سے سلام کیا۔ رانا نعیم الرحمان خان الیکشن ہار گئے تھے۔ یہ اسمبلی پہنچ گئی ہیں۔ گوجرانوالہ میں تحریک انصاف کے بیشتر امیدواروں نے پولنگ ایجنٹوں کے بغیر ”اللہ توکل“ الیکشن لڑا۔ الیکشن کے روایتی طریقوں، اسلحہ بارود، تیر و تفنگ، حتیٰ کہ ڈنڈوں سوٹوں کے بغیر ہی ”مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی“ --- دیہاتی علاقہ سے تعلق رکھنے والے ایک ٹکٹ ہولڈر نے ریکارڈ کم ووٹ حاصل کئے۔ راوی غیر معتبر ہے وہ پولنگ کے روز اپنے گاﺅں تو کیا، اپنے گھر سے باہر بھی نہیں دیکھے گئے۔ خیر، اس دھرنے کا اہتمام پشاور کے رنگ روڈ پر کیا گیا تھا۔ سٹیج کے پیچھے سے سیدھی سڑک ہنگو کو جاتی ہے۔ یہاں سے ہنگو کا فاصلہ 100 کلو میٹر ہے، آخری ڈرون حملہ یہیں ہُوا تھا۔ اس دھرنے میں تحریک انصاف، جماعت اسلامی، عوامی جمہوری اتحاد، دفاع پاکستان کونسل اور عوامی مسلم لیگ کے رہنماﺅں، کارکنوں اور خواتین سمیت بڑی تعداد میں شہری شریک تھے۔ عمران خان نے ”میرے پاکستانیو!“ سے آغاز کلام کیا۔ شرکاءکا جوش و خروش دیدنی تھا۔ نصیر احمد ناصر کے لفظوں میں ”مجھ کو اپنی موت کی دستک نے زندہ کر دیا ہے۔“ ڈرون حملے ہماری قومی زندگی کا سامان بن گئے ہیں۔ لوگ جاگ اُٹھے ہیں۔ جلسہ گاہ میں ہر طرف پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی کے جھنڈے تھے کہ لہرا رہے تھے۔ عمران خان کو طالبان خان تک کہا گیا، لیکن وہ طالبان کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے دہشت گردی کے خاتمہ کے علاج پر بھی بضد کھڑے ہیں۔ اب طالبان ڈرون حملوں کی موجودگی میں مذاکرات پر تیار نہیں۔ عمران خان اس بات پر احتجاج کر رہے ہیں کہ امریکہ ہماری سرزمین پر ڈرون حملوں سے باز رہے۔ اس سلسلہ میں وہ نیٹو افواج کیلئے سپلائی بند کرنے پر تُلے ہوئے ہیں۔ ایک فدائی فوج کی سپہ سالاری کرتے ہوئے صلح حدیبیہ سے نبی آخر الزمان نے انسانیت کو کچھ ایسا ہی پیغام دیا تھا کہ ہوشمندی، صبر اور سفارتکاری بہرحال جنگ و جدل سے بہتر ہے۔ اللہ بے شک جبار اور قہار ہے لیکن رحمة للعالمین کے معنی یہی ہیں آپ سراپا رحمت ہیں، ان زمانوں کیلئے بھی جو ابھی آگے آنے والے ہیں۔ ’جولی‘ بلاول بھٹو نے بچوں کی سی بات کہی ہے۔ ہفتہ کے روز نیٹو ٹرک چلتے ہی نہیں، جیسے عمران خان کا یہ سارا شور شرابا اور ہنگامہ صرف ہفتہ کے روز سعید تک کیلئے ہے۔ شیخ رشید اپنے مخصوص انداز میں میاں نواز شریف سے پوچھ رہے تھے کہ ”میاں ٹماٹر کا بھاﺅ جانتے ہو“ لیکن یہ بھاﺅ ہمارا کوئی لیڈر بھی تو نہیں جانتا حتیٰ کہ خود شیخ صاحب بھی نہیں۔ وہ تو ابھی تک گھر گرستی کے بکھیڑوں سے بھی آزاد ہیں۔ ادھر ہمارے سیاسی لیڈروں کا رہن سہن بادشاہوں جیسا ہے۔ اُدھر بادشاہوں کا دیس ایران ہی تھا جہاں اپنی معیاد پوری کرنے والا صدر مملکت ایوان صدر سے بڑی سادگی سے اپنے موٹر سائیکل پر رخصت ہو گیا۔ یورپ کے حکمرانوں کے رنگ ڈھنگ بھی ایسے ہی سادہ ہیں۔ ناروے کا وزیراعظم حالات کی آگاہی کیلئے تین دن ٹیکسی چلاتا رہا۔ ادھر بقول کالم نگار احتشام ضمیر نہ ہی عوام کی بس چل رہی ہے اور نہ ہی ان کا کوئی بس چل رہا ہے۔ اب ہماری وہ سیاسی قیادت خواب و خیال ہوئی کہ مولانا حسرت موہانی کے مختصر سے مکان کی ڈیوڑھی میں بی بی سی کا نمائندہ انٹرویو کیلئے بیٹھا تھا کہ آپ بولے ”میں پہلے کارپوریشن کے نل سے اپنے گھر کیلئے پانی بھر لاﺅں، پھر پانی کا وقت ختم ہو جائے گا۔“ میاں نواز شریف نے کہا تھا کہ وہ جمہوریت کیلئے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔ پھروہ آصف زرداری کی کرپشن کی آخری حد تک چلے گئے۔ ادھر اگرچہ قاضی حسین احمد اور جنرل جاوید ناصر، گلبدین حکمت یار اور برہان الدین ربانی سے اپنی بات منوانے میں ناکام رہے۔ جنرل محمود احمد مُلا عمر کے سامنے بے بس تھے۔ ادھر طالبان حکیم اللہ محسود کے بعد انتقام اور مذاکرات نہ کرنے کا اعلان عام کر رہے ہیں۔ پھر بھی عمران خان قیام امن کیلئے طالبان کے ساتھ مذاکرات کیلئے کسی بھی حد تک جانے کو تیار بیٹھے ہیں۔ اللہ ہمیں دہشت گردی کے قومی مرض سے شفا دے، وگرنہ اب تک تو حکیم الامت کے دیس کے سبھی حکیم کچھ نیم حکیم ہی ثابت ہوتے ہیں۔ آپ اسے دھرنا کہیں یا جلسہ عام، اس کا دورانیہ کوئی دو گھنٹے کے قریب تھا۔ جلسہ بخیر و خوبی ختم ہو گیا۔ لاہور میں شاعروں اور ادیبوں کے شاندار اجتماع میں نواز شریف نے کہا کہ وہ انڈیا کو ویزہ فری ملک دیکھنا چاہتے ہیں۔ ہمارے وزیراعظم سب سے پہلے بلوچستان، سندھ اور خیبر پی کے کو ہی ”ویزہ فری“ کر لیں تو بڑی بات ہے۔ میں پشاور قصہ خوانی بازار جا کر قہوہ پینا چاہتا تھا، دیکھنا چاہتا تھا کہ پرانے زمانے کے وہ کپ اور ”چینکیں“ جنہیں سُنا ہے لوہے کے پیوند لگے ہوئے ہوتے ہیں، ابھی تک زیر استعمال ہیں یا نہیں۔ لیکن میں ”ویزہ“ نہ ہونے کے باعث وہاں نہ جا سکا۔ مجھے دھرنا میں اپنے ساتھ بیٹھے ہوئے ایک اجنبی نے بتا دیا کہ وہاں ماحول کچھ محفوظ نہیں۔ مجھے اس اجنبی سے بندے کا ماحول کو غیر محفوظ کہنا کچھ اور بھی خطرناک اور غیر محفوظ محسوس ہُوا اور میں پشاور میں گھومے پھرے بغیر ہی پشاور سے لوٹ آیا۔