پاکستان کو قوم اور قوم کو منزل کی تلاش

کالم نگار  |  مطلوب احمد وڑائچ

14 اگست 1947ء کو علامہ اقبالؒ کے خواب کو قائداعظمؒ نے پاکستان کی صورت میں حسین تعبیر سے معمور کیا تو آزادی کے مجاہدوں اور پاکستان کے باسیوں نے سکھ کا سانس لیا لیکن یہ آزادی ان کی منزل نہیں ان کے مقاصد کا پہلا سنگ میل تھی، ابھی حصول پاکستان کے مقاصد کی منزل کی طرف سفر تازہ شروع ہوا تھا، تقسیم ہند کے موقع پر پاکستان کو اپنے حصے کے مالیاتی اثاثے ملے اور نہ ہی دفاعی سازوسامان جو پاکستان کا حق اور بقاء کے لئے ضروری تھے پاکستان تو بن گیا لیکن ہم ایک قوم آج تک نہ بن سکے۔ آج بھی پاکستان کو ایک قوم اور بکھری ہوئی قوم کو منزل کی تلاش ہے، تقسیم کے موقع پر پاکستان کے حصے میں اور کچھ آیا یا نہ آیا جاگیرداروں اور نوابوں کی ایک کھیپ ضرور ’’جہیز‘‘ میں مل گئی۔ قوم کو قائداعظمؒ متحد اور مضبوط کر سکتے تھے لیکن زندگی نے وفا نہ کی اور ملک مخدوموں، نوابوں، لغاریوں، مزاریوں، سرداروں، جمالیوں اور چودھریوں کے ہتھے چڑھ گیا۔ طالع آزما بھی مارشل لاء کی صورت میں بندر بانٹ میں حصہ دار بن گئے۔ قیام پاکستان کا پہلا عشرہ بھی مکمل نہیں ہوا تھا وطن عزیز کو مارشل لاء کا سامنا کرنا پڑا اور پھر دو آمروں کی کرتوتوں کی وجہ سے پاکستان کا ایک بازو کاٹ کر الگ کر دیا گیا قوم شکست و ہزیمت کے سمندر میں غوطہ زن تھی۔ احساس شکست سے دل بوجھل لئے قوم کی ذوالفقار علی بھٹو شہید نے ڈھارس بندھائی ۔ انہوں نے ہر طبقہ کے لوگوں کے غم دور کرنے کی کوشش کی۔ ایٹمی ٹیکنالوجی کے حصول کے اپنی جان تک داؤ پر لگا دی لیکن اگلے الیکشن آئے تو جاگیردار نواب اور مخدوم جو زہر قاتل کی حیثیت رکھتے تھے پارٹی میں نقب لگانے میں کامیاب ہو گئے۔ نتیجتاً ایک محسن کش
جرنیل نے پھر طالع آزمائی کی اور جمہوریت کی بساط لپیٹ دی جس سے پہلے سے منتشر قوم کا مزید شیرازہ بکھر گیا تب سے آج تک شیرازہ بندی نہ ہو سکی۔ ہم آج 62 سال بعد بھی منزل تک تو کیا پہنچے منزل کا تعین ہی نہیں کر سکے۔
تعلیم کے بغیر کوئی قوم ترقی کے زینے طے نہیں کر سکتی۔ سرکاری اعداد وشمار کے مطابق ہماری آج بھی شرح خواندگی 30 فیصد سے اوپر نہیں جا سکی۔ ایسا معاشرہ ہی طالع آزما کے لئے کشش اور دلکشی رکھتا ہے یہی وجہ ہے کہ آمریت کے ساڑھے گیارہ سالہ دور کے بعد جمہوریت کے ساڑھے گیارہ سال مکمل نہیں ہوئے تھے کہ ایک اور طالع آزما نے شب خون مارا اور لولی لنگڑی جمہوریت کا بھی تیا پانچہ کر دیا۔ لمحہ فکریہ یہ ہے کہ قوم جیسی بھی ہے اس کے نمائندوں نے جمہوریت کو بچانے کے لئے اپنا کردار ادا نہیں کیا۔ آج مشرف سے چھٹکارے اور محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کو کھو دینے کے بعد کیا ان نمائندوں کو احساس ہے کہ انہوں نے 62 سال میں کیا کھویا اور کیا پایا۔ کیا آج بھی کچھ مفاد پرست طالع آزماؤں کو دعوت شوق نہیں دے رہے؟ وہ دل میں جمہوریت کی بساط محض مال غنیمت سمیٹنے کے لئے لپیٹ دیئے جانے کی خواہش پال رہے ہیں۔ ان لوگوں کو جمہوریت ہضم نہیں ہو رہی ہے یہ نت نئے روز دور کی کوڑی لا کر جمہوریت پسندوں کی بے چینی میں اضافہ کر رہے ہیں۔ ملک کی دونوں نمائندہ سیاسی پارٹیوں کو اپنی قربانیوں اور اذیتوں کا احساس ہے اس لئے وہ وقتاً فوقتاً جمہوریت کے بدخواہوں کے منہ پر طمانچہ رسید کر کے عوام کے لئے باد نسیم ثابت ہوتے ہیں۔ عوام ان سے ہمیشہ ایسے ہی کردار کی توقع رکھتے ہیں۔ طالع آزماؤں کو دعوت دینے والے دانشوروں کی تحریریں پڑھ کر میں لرز کر رہ جاتا ہوں۔ ایک طرف ملک کئی بحرانوں میں پھنسا ہوا ہے دوسری طرف سرحدیں اپنے اور دشمنوں کے ہاتھوں غیر محفوظ ہو چکی ہیں عسکری قیادت اس وقت حالت جنگ میں ہے۔ وہ ملک کی جغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں کو محفوظ بنانے کے لئے قربانیوں کی لازوال داستان رقم کر رہی ہے ایسے میں اسے جمہوریت کے خلاف اکسانا کہاں کی دانشمندی ہے۔ نظریہ پاکستان کے محافظ اور تحریک آزادی کے مجاہد جناب مجید نظامی سمیت میرے جیسے کروڑوں لوگ آج پریشان ہیں کہ 62 سال قبل ہم نے جو سفر شروع کیا تھا اس کی منزل کب ملے گی۔ ہم غیر متزلزل قوم کیوں نہیں بن سکے۔ منزل مراد تک کیوں نہیں پہنچ پاتے ہیں ہمیں یہ ادراک کیوں نہیں ہو سکا کہ بدترین جمہوریت بہترین آمریت سے ہزار درجے بہتر ہے۔