ویتنام سے بھی بد تر شکست کا سامنا

کالم نگار  |  جنرل (ر) مرزا اسلم بیگ

جنرل (ر) مرزا اسلم بیگ ......
تاریخ کا فیصلہ ہے کہ جو بھی حملہ آور افغانستان میں داخل ہوا وہیں اسکا قبرستان بن گیا۔ ۰۸ء کی دہائی میں روس پسپا ہو کر شکست و ریخت کا شکار ہوا اور اب امریکہ ‘ یورپی یونین ‘ بھارت اور اتحادی ذلت آمیز شکست سے دوچار ہیں۔گذشتہ تیس سالوں سے بیرونی طاقتوں کی اس جارحیت اور اس کیخلاف رد عمل کے سبب ہمارے خطے کی صورتحال انتہائی مخدوش ہو چکی ہے جس سے علاقائی اورعالمی سطح پر ایسے اثرات مرتب ہورہے ہیں جو دوسری عالمی جنگ کے اثرات سے کم نہیں ہیں۔پچھلے تیس سالوں کی عالمی دہشت گردی کی یادیں ہمارے ذہنوں میں تازہ ہیں مثلأ افغانستان پر روسی لشکر کشی اور افغانیوں کی آٹھ سالہ جنگ آزادی کے نتیجے میں روس کو افغانستان سے ذلت آمیر پسپائی اختیار کرنا پڑی اور اسکے ٹکڑے ٹکڑے ہوگئے؛ آٹھ سالہ ایران۔عراق جنگ؛ دس سالہ افغان خانہ جنگی؛ ۱۰۰۲ء میں افغانستان پر امریکی جارحیت؛ ۳۰۰۲ء میں عراق پر امریکی جارحیت؛ ۵۰۰۲ء میں اسرائیل کی لبنان کیخلاف جنگ؛ ۸۰۰۲ء میں غزہ کی جنگ اور افغانستان میں جاری خونی جارحیت‘ ایسے واقعات ہیں جنہوں نے تاریخ کا رخ بدل دیا ہے۔ اس تیس سالہ ظلم و بربریت کے سبب ستر لاکھ سے زیادہ مسلمان شہید کئے جا چکے ہیں جو ظلم کی انتہا ہے اور ظالم اور مظلوم کے درمیان تفریق واضح ہو چکی ہے اور یہی وہ حقیقت ہے جو مظلوموں کے حق میں ’’مداخلت ایزدی‘‘ کو دعوت دیتی ہے۔ ماضی قریب میں مداخلت ایزدی کے دو مظاہر پیش کئے جا سکتے ہیں۔مثلأ طاقت کے نشے میں ہٹلر نے اپنی قوم کو اقوام عالم سے برتر اور حکمرانی (Lebensraum) کا اہل سمجھتے ہوئے عالمی امن کو تہہ و بالا کرڈالا۔ مظلوم اقوام نے اس ظلم کیخلاف متحدہ محاذ بنایااوراس مداخلت ایزدی کے سبب صرف پندرہ سال کے اندر اندر نہ صرف شکست جرمنوں کا مقد ر بنی بلکہ انکے اتحادیوں کی طاقت بھی نیست و نابود ہو گئی۔اسی طرح سویٹ یونین کے ٹوٹنے کے بعد امریکیوں نے عالمی برتری کے زعم میں مبتلا ہوکر عالم اسلام کے خلاف جارحانہ کاروائیوں کا آغار کیا ۔یہاں ’مداخلت خداوندی‘ عالمی اسلامی مدافعتی قوت کی شکل میں پاکستان اور افغانستان کی سرزمین سے ابھری جس نے صرف پندرہ سالوں کے عرصے میں جارحیت کا ارتکاب کرنیوالوں کے ارادے خاک میں ملا دئیے اور اب انہیں ایک بدترین شکست سے دوچار کر دیا ہے ۔
اسلامی مدافعتی قوت کامرکز پاک افغان سرحد کا پشتون اکثریتی علاقہ ہے جہاں سے یہ قوت ابھری اور بعد میں ستر ممالک کے جہادی اس میں شامل ہوئے جن کا بنیادی مقصد’ محکوم ومظلوم مسلمان ممالک کی آزادی ہے‘ یعنی افغانستان کی آزادی‘ عراق‘ فلسطین ‘ صومالیہ‘ لبنان اور کشمیر کی آزادی۔ان کا مقصددیگر ممالک میں اسلام نافذ کرنا ہرگز نہیں ہے اس لئے کے اللہ تعالی کی رضا کثیر المرکزی نظریاتی نظام ہے۔ اسلامی مدافعتی قوت نہ تو ۱۱؍۹ کے واقعہ میں ملوث تھی اور نہ ہی کسی اور دہشت گردی کے واقعے میں ملوث ہے لیکن القاعدہ کی اپنی الگ شناخت ہے ۔ اس ٹکرائو کی کیفیت سے پشتون پاور نے جنم لیا ہے جو کہ اب پاکستان سے کوہ ہندوکش تک پھیل چکی ہے۔یہ ہماری طاقت ہے۔ سابق امریکی سکیورٹی ایڈوائزر ڈیوڈ کلکلن (David Kilkullen) نے پشتون پاور کو امریکی مفادات کیلئے سب سے بڑا خطرہ‘‘ قرار دیتے ہوئے اسے جلد از جلد ختم کرنے پر زور دیا ہے۔اسی طرح ایران ‘ عراق‘ بحرین‘ سعودی عرب اور پاکستان میں شیعہ پاور بھی ایک حقیقت بن کر ابھری ہے یہ بھی ہماری طاقت ہے جسے امریکہ نے پشتون پاور کے مد مقابل لانے کی منصوبہ بندی کررکھی ہے اور اس طاقت کو خلیج کی سنی العقیدہ ریاستوں کے مد مقابل بھی لانا چاہتا ہے۔واضح رہے کہ امریکہ پہلے ہی شیعہ پاور یعنی ایران سے نمٹنے کیلئے خلیجی ریاستوں کو ۰۲۱ بلین ڈالر کا اسلحہ اورعسکری سازوسامان بیچ چکا ہے۔
اسلامی مدافعتی قوت امریکہ کے ’عالمی برتری‘ کے خواب کی راہ میں رکاوٹ بن چکی سے جس سے دنیا کا یک قطبی نظام اب سہ قطبی نظام کی صورت اختیار کرچکا ہے جبکہ روس اور چین تیسری طاقت کا محور و مرکز ہیں اور امریکہ اور اسکے مد مقابل چین اور روس سرد جنگ کی تنازعی کیفیت (Mindset)سے دوچار ہیں۔ یہ اسلامی مدافعتی قوت ہی ہے جس نے نئے ابھرتے ہوئے عالمی نظام کے خدوخال مرتب کئے ہیں‘ جارح قوتوں کی طاقت کو محدود کر دیا ہے۔ ظلم کے ہاتھ باندھ دیے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ آزادی کی خاطر چلائی جانیوالی ان تحریکیوں کی آڑ لے کر القاعدہ اور اسی قسم کی کئی دہشت گرد تنظیمیں ابھر ی ہیں۔ اس قسم کے دہشت گرد پاکستان میں بھی ہیں جو اپنا قد کاٹھ بڑھانے کیلئے خود کو ’طالبان‘ کہلوانا پسند کرتے ہیں جبکہ حقیقت میں وہ طالبان نہیں ہیں۔ یہ لوگ وزیرستان ‘ سوات ‘ دیر اور باجوڑ کے ہمارے اپنے ناراض قبائیلی ہیںجو غربت اور نا انصافی کے سبب ان جرائم پیشہ عناصر کے دام میں پھنس گئے ہیںاور اب پاکستانی فوج حکومتی عملداری قائم کرنے کیلئے ان کیخلاف برسر پیکار ہے جسکے پس پردہ وہ سازش ہے جس کے تحت افغانستان پر قابض فوجوں نے باقائد ہ منصوبہ بندی سے اس جنگ کا رخ پاکستان کی جانب موڑ دیا ہے۔
افغانستان میں بھٖارت اور یورپی یونین کی مداخلت سے خطے کا سیاسی توازن بگڑ چکا ہے اور امریکہ نے افغانستان کو بھارت کے تسلط میں دینے کیلئے اسے جنوبی ایشاء کا حصہ بنایا ہے۔بھارت نے اتحادی ممالک کی ساز باز سے افغانستان میں وسیع البنیاد جاسوسی کے مراکز قائم کر رکھے ہیںجو تمام ہمسایہ ممالک کیخلاف ‘بالخصوص پاکستان ‘ ایران اور چین کیخلاف سازشوں میں مصروف ہیں۔اس سازش کا تفصیلی جائزہ دو سال قبل میں نے اپنے مضمون بعنوان ’’پاکستان عالمی سازشوں کی زد میں‘‘ کیا تھا۔ اس ذلت آمیز شکست کے باوجود بھارت اور امریکہ کی سازشیں کم نہیں ہوئیں۔
مثلأ چند دن قبل Research Analysis Milli Afghanistan (RAMA) کے نام سے ایک نئی تنظیم قائم کی گئی ہے جس کا مرکزی دفتر کابل میں ہے اور ننگر ہار اور قندھار میں اسکے ذیلی دفاتر ہیں جو صوبہ سرحد اور بلوچستان میں بھرپور طریقے سے اپنی سازشی کاروائیوں میں مصروف ہیں۔اس لحاظ سے یہ کہنا بجا ہوگا کہ خطے کی اس تمام بدامنی اور انتشار کاذمہ دارافغانستان پر بیرونی طاقتوں کا غیر آئینی و غیر اخلاقی قبضہ ہے جو ’’تمام برائیوں کی جڑ ہے‘‘ اور جس دن قابض فوجیں واپس جائیں گی ‘ افغانستان اور پورے علاقے میں امن کی لہر دوڑ جائیگی۔ افغانستان میں قابض افواج کو ۰۸ ء کی دہائی میں روس کی نسبت آج کہیں زیادہ مزاحمت کا سامنا ہے کیونکہ مزاحمتی قوت پہلے سے کہیں زیادہ منظم اور بہترین اسلحہ سے لیس ہے۔ سی آئی اے کی رپورٹ ’’دی لانگ وار جرنل‘‘ کیمطابق یہ تنظیم اب ’’شیڈو آرمی‘‘ کے نام سے جانی جاتی ہے جو متعدد ڈویژن پر مشتمل ہے ،ہر ڈویژن میں کئی لشکر ہیں۔شیڈو آرمی میں پرانے مجاہدین بھی شامل ہیں جنہوں نے روس کیخلاف مزاحمتی کاروائیوں میں حصہ لیا تھا‘ افغانستان کے طالبان بھی ہیں‘جن میں اکثریت ان نوجوانوں کی ہے جو تیس سال سے جاری جنگ کے سائے میں پیدا ہوئے اور جوان ہوکر ملک کی آزادی کی جنگ میں شامل ہیں اور جن کیلئے جنگ زندگی کا قرینہ بن چکا ہے؛ عراقی مجاہدین بھی ہیں جنہیں جنگ کا تجربہ ہے۔ پوری دنیا کے مختلف ممالک کے جہادی بھی ہیں اور القاعدہ کا ۵۰۰ بریگیڈ بھی شامل ہے۔یوں یہ ایک ناقابل تسخیر طاقت ہے جس نے کئی بڑے معرکوں میں قابض فوجوں کو شدید جانی اور مالی نقصان سے دوچار کیا ہے اور صرف گذشتہ دوماہ کے دوران قابض فوجوں کے ۰۵۲ سے زیادہ فوجی ہلاک کر دئے ہیں۔آئند چند ماہ بڑے اہم ہیں۔قابض فوجوں کو بڑی مشکل کا سامنا ہے اور وہ شکست سے دوچار ہیں۔ اس صورتحال کے پیش نظر مختلف امریکی و بین الاقوامی دانشوروں اور تجزیہ نگاروں کی تحریروں سے چند اقتباسات پیش خدمت ہیں جو اس بات کا واضح اظہارکرتے ہیں کہ امریکہ اور اسکے اتحادیوں کو افغانستان میں شکست ہو چکی ہے اور اب انکے نکل جانے کا وقت آ چکا ہے: ’’امریکی فوجیں افغانستان کی جنگ میں تھک چکی ہیں اور عوام بھی تنگ آچکے ہیں۔‘‘ (Robert Gates)۔’’افغانستان میں صورتحال بتدریج خراب سے خراب تر ہوتی جا رہی ہے جہاں طالبان دن بدن طاقتور اور منظم ہورہے ہیں، اس صورتحال سے افغانی عوام اپنے مستقبل کے متعلق بہت زیادہ فکر مند ہیں ۔‘‘ (Admiral M. Mullen)۔’’افغانستان کو دوسراویتنام یعنی امریکی ایمپائر کا قبرستان بنایا جا رہا ہے۔‘‘ (Martin & R. Hertzberg)۔ ’’صدر اوبامہ کے متعین کردہ جنرل کرسٹل اور جنرل پیٹریاس دونوںکی افغانستان کے بارے پالیسیاں بنیاد پرستی اور تزویراتی غلطییوں کا مجموعہ ہیں۔‘‘ (Noam Chomisky)۔ ’’ہمیں افغانستان میں بدترین صورتحال کا سامنا ہے‘ امریکی اور اتحادی فوجیں شکست کھا رہی ہیں اور ہمارے نوجوان موت سے ہمکنار ہو رہے ہیں۔‘‘
(Paddy Ashdown)۔’’ایک کام جو ہم نہیں کررہے وہ یہ ہے کہ ہم وہ کام کریں جس کے زمینی حقائق متقاضی ہوں‘ یعنی قابض فوجیں اپنے سپاہیوں اور بے گناہ افغانیوں کے قتل سے بازآجائیں۔ تاریخ کے اوراق ایسے سپاہیوں کی قبروں سے بھرے پڑے ہیں جنہوں نے فرائض کی بجا آوری کی خاطر اپنی جانیں پیش کیں۔‘‘(Adrian Hamilton)۔’’ اوبامہ تقدیر کے لکھے کو نہیں بدل سکتے۔ نوآبادیاتی دور اب قصہ پارینہ بن چکا ہے اسلیئے افغانستان میں طاقت کے بل بوتے پر امن و امان کا قیام ناممکن ہے۔‘‘ (Ted Rall)۔ ان بیانات کا نوٹس لیتے ہوئے صدر اوبامہ کا اعتراف شکست ہے کہ ’’ہم سب افغانستان سے پر امن واپسی چاہتے ہیںاور اس میں کوئی شک نہیں کہ طاقت کے بل بوتے پر کسی کو غلام نہیں بنایا جا سکتا لہذا عالمی برتری کی کوششیں ترک کرنا ہوں گی۔‘‘ اقتصادی بحران اور عراق و افغانستان میں شرمناک شکست کے بعد امریکہ کیلئے ایک ہی راستہ ہے کہ وہ افغانستان سے پرامن طور پر نکلنے کی سعی کرے اور معروف تجزیہ نگار ولیم پفاف (William Pfaff)کے اس تجزیے پر غورکرے: ’’امریکہ جنگ کے نشے کا عادی ہو چکا ہے‘ یہاں تک کہ جنگی جنون اسکی قومی شناخت بنتا جارہا ہے۔اب یورپ میں یہ تاثر عام ہورہا ہے کہ ’افغانستان امریکہ کیلئے ایک اور ویتنام ثابت ہوا ہے‘ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ افغانستان امریکہ کیلئے ویتنام سے کہیں زیادہ بدتر ثابت ہوگا کیونکہ ویتنام میں امریکہ کے مدمقابل ایک واضح دشمن تھا لیکن اسلامی مدافعتی قوت کیخلاف امریکہ کی حکمت عملی ناکامی سے دوچار ہے اور سایوں کا تعاقب کرتے کرتے تھک چکا ہے۔در اصل یہ نظریات کی جنگ ہے جسے جیتنے کیلئے امریکہ کے پاس کوئی مناسب حکمت عملی نہیں ہے۔‘‘ اسلامی مدافعتی قوت سائے کی مانند ہے جس کا تعاقب کرتے کرتے دشمن تھک چکے ہیں۔ یہ قوت لامکان ہے ’’ جو حاضر بھی ہے اور غائب بھی‘ منظر بھی ہے اور ناظر بھی۔‘‘ ایک پھیلتی ہوئی ‘ بڑھتی ہوئی ناقابل تسخیر قوت ہے‘ اس صدی کا معجزہ ہے جسے مغربی دنیا سمجھنے سے قاصر ہے۔ ایک چینی دانشور کا قول ہے:’’کسی نظریاتی قوت سے مت ٹکرائو جب تک کہ تمہارے اپنے نظریات اس قوت کے نظریات سے اعلی اور ارفع نہ ہوں۔‘‘ اسلامی مدافعتی قوت کے نظریات دین اسلام کے نظریات سے عبارت ہیں اور اللہ تعالی نے دین اسلام کے نظریات سے اعلی و ارفع دوسرا کوئی نظریہ پیدا نہیں کیا۔ امریکہ تاریخ کے دھارے کی الٹی سمت چل رہا ہے جبکہ تاریخ کا رخ ایسے عالمی نظام کی تشکیل کی جانب ہو چکا ہے جو اقوام عالم کے نظریات اور اختلافی سوچ کا احترام کرتے ہوئے جنگ اور بدامنی سے نجات کی ضمانت فراہم کرتا ہے۔ اس وقت پوری دنیا میں صرف چین ہی ایک ایسا ملک ہے جو پر امن بقائے باہمی کے اصولوں پر کاربند رہتے ہوئے پوری دنیا کے ممالک کے ساتھ بہتر تعلقات کا خواہاں ہے۔ بھارت اور یورپی یونین نے بدقسمتی سے وہ راستہ منتخب کیا ہے جو امریکہ کا راستہ ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ امریکہ اور اسکے اتحادی قابل عمل حکمت عملی مرتب کریںتاکہ دنیا کو موجودہ بد امنی اور انتشار کی کیفیت سے نجات مل سکے۔معروف دانشور (Paddy Ashdown)کا کہنا ہے کہ: ’’عالمی طاقتوں کو چاہئے کہ ان ممالک کو بھی مرکزی دھارے میں شامل کریں جو نہ صرف تاریخی ‘ سماجی اور ثقافتی لحاظ سے ہم سے مختلف ہیں بلکہ انکے نظریات اور سوچ بھی عالمی طاقتوں کی اقدار سے مختلف ہیں۔‘‘