وکلا کا احترام‘ قانون کے احترام میں ہے

کالم نگار  |  محمد آصف بھلّی

تمام قومی اخبارات کے صفحہ اول پر تصویر سمیت یہ خبر شائع ہوئی ہے کہ سیشن کورٹ لاہور کے احاطہ میں وکلا پولیس کے ایک اے ایس آئی کو تشدد کا نشانہ بنا رہے ہیں اور اس کی وردی بھی پھاڑ دی ہے۔ اخبارات نے اس خبر کو نمایاں طور پر شائع کر کے میرے خیال میں یہ پیغام دیا ہے کہ کسی پولیس ملازم کو یوں برسرعام تشدد کا نشانہ بنانا وکلا کے شایان شان نہیں۔ مجھے بھی اس پیغام سے سو فیصد اتفاق ہے کہ ہمارا معاشرہ وکلا معاشرہ وکلاء برادری کو احترام کی جس نظر سے دیکھتا ہے ہمیں بھی اپنے عمل سے خود کو اور زیادہ لائق احترام بنانا ہوگا اور قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے کے بجائے ظلم و ناانصافی کے خلاف قانون کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے ہمیں اپنے فرائض سرانجام دینے چاہئیں۔ وکلا نے ہمیشہ قانون کی بالادستی کے لئے ملک بھر میں تحریکیں چلائی ہیں۔ آزاد عدلیہ کی بحالی کے لئے وکلا کا کردار ناقابل فراموش ہے۔ اگرچہ اس تحریک میں معاشرے کے دیگر طبقوں نے بھی بڑھ چڑھ کر اپنا کردار ادا کیا لیکن آزاد عدلیہ کی تحریک کی کامیابی نے وکلا کے وقار میں بے پناہ اضافہ کیا۔ وکلا کی پُرامن جدوجہد کو میڈیا سمیت سب نے ہی قابل تعریف گردانا۔ آج بھی وکلا کے ہاتھ میں سب سے موثر ہتھیار قانون ہے لیکن قانون کو اگر ہم خود اپنے ہاتھ میں لے کر کوئی عمل کریں گے تو اس میں کوئی بھی تحسین نہیں کرے گا۔ یہ درست ہے کہ پولیس جو قانون کی محافظ ہے کئی معاملات میں قانون کی دھجیاں بکھیرنے میں اپنا ثانی نہیں رکھتی۔ لیکن پولیس کو قانون کے شکنجے میں کسنے کے لئے وکلا کے پاس کئی راستے محفوظ ہیں جس میں سب سے مؤثر راستہ عدالت کا ہے۔ وکلا کے شان شایان بھی یہی راستہ ہے۔ اگر کسی بھی معاملہ میں پولیس قانون سے تجاوز کرتی ہے تو ہمیں اسے تشدد کا نشانہ بنانے یا خود اُن کے تشدد کا شکار ہونے کی کیا ضرورت۔ جب ہماری وکلا برادری قانون کو خود ہاتھ میں لے کر کوئی کارروائی کرے گی تو میڈیا کے عروج کے اس دور میں یہ معاملہ یقیناً اخبارات میں بھی آئے گا اگرچہ وکلا کی اکثریت اس معاملہ میں ملوث نہیں ہوتی لیکن غلط اقدام کی بدنامی پوری وکلا برادری کے حصہ میں آئے گی اس لئے ہمیں صرف اور صرف قانون کی راہ پر چلنا چاہیے۔ یہ راستہ اتنا درست ہے کہ اس میں عزت ہی عزت ہے اور یہ راستہ اتنا مؤثر ہے کہ اگر قانون ایک دفعہ حرکت میں آ جائے تو پھر بڑے سے بڑا فرعون بھی قانون سے بھاگ کر کہیں پناہ حاصل نہیں کر سکتا۔ حتیٰ کہ وہ فوجی آمر بھی جو حکومتوں کی بساط الٹ دیتے ہیں‘ آئین معطل کر دیتے ہیں‘ آئین میں اپنی من پسند ترامیم کر دیتے ہیں وہ بھی قانون سے خوفزدہ ہو کر ملک چھوڑ دینے میں اپنی عافیت سمجھتے ہیں لیکن قانون کی طاقت انہیں بیرون ملک سے بھی ڈھونڈ نکالتی ہے۔ یہ قانون کی ہی طاقت ہے کہ کل جس فوجی ڈکٹیٹر نے صرف عدلیہ کے خلاف پاکستان میں مارشل لا لگایا تھا آج وہی عدلیہ اس فوجی ڈکٹیٹر کے خلاف مقدمہ کی سماعت کر رہی ہے اور قانون ہی کے ذریعے آئین سے ماورا ہر اقدام کا جائزہ لے کر اس کے ذمہ دار کو سخت سے سخت سزا دی جاسکتی ہے پھر قانون کو اپنے ہاتھ میں کیوں لیا جائے۔ کیوں نہ قانون کی طاقت کے بھرپور وار سے معاشرے میں لاقانونیت کی ہر شکل مٹا دی جائے اسی میں وکلاء برادری کی عزت ہے اسی میں ہمارا احترام ہے۔