صرف بانی پاکستان قائداعظمؒ کی مسلم لیگ … ایک قومی تحریک

کالم نگار  |  پروفیسر محمد مظفر مرزا

تاریخ گواہ ہے کہ جب ہندوستان پر مغلوں کی حکومت تھی‘ تو یہ حکومت تقریباً کئی صدیوں تک قائم رہی ان کے حکومتی سیاسی‘ معاشرتی اور انتظامی احوال و ضوابط میں زوال و انحطاط درآیا تو انگریزوں نے ہندوستان کی حکومت کی باگ ڈور انپے قبضے میں لے لی۔ مسلمانان ہند کو جب یہ احساس ہوا کہ انہیں تو غلام و مجبور بنا کر رکھ دیا گیا ہے۔ تو وہ اپنی گم کردہ عظمت وقار کی بحالی کے لئے ایک مرتبہ پھر تڑپ اٹھے مکمل ایک صدی تک تگ و دو اور کشمکش میں مبتلا رہے بالآخر آزادی و خود مختاری سے ہمکنار ہوئے حضرت قائداعظمؒ کی لازوال قیادت‘ لافانی سیاست‘ بے پناہ ذہانت اور مومنانہ فراست نے اسلامیان ہند کی گمشدہ شان و سطوت اور سرمایہ جہاں بانی کو واپس لوٹا دیا۔ لیکن قیام پاکستان کے بعد وہ سیاستدان برسر اقتدار آئے جنہوں نے پاکستان کو یہ تصور کرنا شروع کر دیا کہ اس ملک کو ان کے آبائو اجداد نے انہیں ھبہ کردیا ہے‘ لہذا انہوں نے اس متبرک سرزمین کے ساتھ ناپاک عزائم اور خوفناک حربوں کے
ذریعے ڈھانے کی ناپاک کوششیں شروع کر دیں‘ چنانچہ 1971ء میں پاک بھارت جنگ کے نتیجے میںپاکستان دولخت کر دیا گیا ملک کے اندر غلط سیاسی نظریات و تصورات اور گھنائونے سیاسی منصوبوں کا آغاز کر دیا گیا ‘ اس نے اپنی جگہ قوم کو ہر لحاظ سے کھوکھلا اور شکستہ کر دیا۔ مشرقی و مغربی حصوں میں ان حضرات کا جو حشر ہوا وہ تاریخ کا جیتا جاگتا حصہ ہے۔ قائدین عالی مقام سیاسئین ذی وقار اور سیاست کاران وطن عزیز نے اس ملک کو کھلونا جان کر قوم کی آنکھوں میں دھول جھونکی‘ ملک و قوم کو بنیادی طور پر عظمت و وقار اور استحکام و سالمیت سے ہمکنار نہ کر سکے‘ پاکستان کو اسلام کا قلعہ نہ بنا سکے اسلام اور مسلم لیگ کا نام لینے والے بھی ان اسماء کا بھرم نہ کر سکے‘ قوم کو ایک بار پھر خدا تعالیٰ نے موقع دیا کہ وہ سنبھل سکے‘ قوم نے ایک بار پھر فروری 2008ء میں اپنے بھرپور اعتماد و اعتبار کا اظہا رکر کے مسلم لیگ کو اپنا نجات دہندہ ثابت کیا مگر یہ یاد رہے کہ اگر اس بار بھی وہی تاریخ دہرائی جاتی رہی تو تاریخ کے فیصلے بڑے اٹل ہوتے ہیں اس ملک میں وہی قیادت سرفراز ہوگی جو دیانت و امانت کی امین ہوگی۔ اگر ملک کے بلند ترین اور انتہائی حساس شعبوں میں حضرت قائداعظمؒ چاہتے تو اپنے عزیزوں اور قریبی رشتہ داروں کو فائز کرتے ان پر کوئی معترض بھی نہ ہوتا‘ مگر ان کی نگاہ میں ملک کا انتظام و انصرام ایک انتہائی پاکیزہ مرحلہ اور فریضہ تھا۔ حضرت قائداعظمؒ نے سرکاری اور غیر سرکاری بلند ترین عہدوں کے لئے بلند ترین شخصیات کا انتخاب کیا۔ اگر عہدوں کی بندر بانٹ ذاتی مقاصد و مفادات کی بناء پر ہو گی تو اس کا حتمی نتیجہ قوم کے اندر شکست وریخت کا موجب بنے گا۔
میرے نزدیک پاکستان کا وجود صرف اسلامیان ہند کی آزادی و خود مختاری ہی کے لئے نہیں تھا بلکہ پورے عالم اسلام کے لئے ناقابل تسخیر قلعے کی حیثیت رکھتا ہے ۔
(جاری ہے)