سسٹم کے پلازہ میں مینگنی

کالم نگار  |  سعید آسی

بہت بڑی خوشی ہے‘ حبس زدہ جھلساتے موسم میں خوشگوار ٹھنڈی ہوا کا تازہ جھونکا محسوس ہوا ہے۔ پوری قوم نے جشن منالیا ہے‘ پھولوں کی ڈھیروں پتیاں نچھاور کردی گئی ہیں‘ منوں مٹھائیاں تقسیم ہو گئی ہیں‘ عدلیہ کی آزادی کو پوری قوم اپنی آزادی سے تعبیر کر رہی ہے‘ ملک و قوم کا مقدر تابناک مستقبل کی جانب گامزن ہوتا دکھائی دینے لگا ہے‘ ایک واضح سمت متعین ہو گئی ہے‘ ننگی جرنیلی آمریت کو ہمیشہ کیلئے دفن کرکے اسکی روح کی مکروہات سے بھی مستقل بچائو کا اہتمام کرلیا گیا ہے۔ 31 جولائی کی شام جمعۃ المبارک کے مبارک دن کو اتنی خوشی ملی ہے کہ سنبھالے نہیں جا رہی مگر پھر بھی…ع
دل وہ بے مہر کہ رونے کے بہانے مانگے
ایوان صدر نے تو واضح اعلان کردیا ہے کہ ججز کیس میں سپریم کورٹ کے 31 جولائی کے فیصلہ پر اسکی روح کے عین مطابق مکمل عمل کیا جائیگا۔ ایوان وزیراعظم کی جانب سے بھی اس فیصلہ پر داد وتحسین کے ڈونگرے برستے ہوئے نظر آئے ہیں۔ وفاقی حکومتی حلیفوں حتٰی کہ لندن والے الطاف بھائی نے بھی اس فیصلہ کی ستائش کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ فرینڈلی اپوزیشن کے قائد میاں نواز شریف اور انکے برادر خورد سربراہ مسلم لیگ (ن) میاں شہباز شریف تو اس فیصلہ کو حقیقی انقلاب سے تعبیر کر رہے ہیں۔ وکلاء برادری بشمول سابق ججوں کی خوشی کا تو کوئی ٹھکانا ہی نہیں۔ عدلیہ میں ایک نئی تاریخ رقم ہو گئی ہے اور سلطانی ٔ جمہور کیلئے 18 فروری 2008ء کے انتخابات کے ذریعے خاموش انقلاب برپا کرنے والے عوام الناس سرخرو ہو گئے ہیں مگر پھر بھی ایک کسک ہے جو ٹھہر ہے‘ ایک پھانس ہے جو اٹکی رہ گئی ہے۔
اٹارنی جنرل سردار لطیف خان کھوسہ جھومتے ہوئے بے پایاں خوشی کا اظہار کرتے اپنی رائے دے رہے ہیں کہ جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے چودہ رکنی وسیع تر بینچ نے سسٹم کو اتھل پتھل ہونے سے بچا لیا ہے کیونکہ میں نے ان سے یہی استدعا کی تھی۔ سابق جج سپریم کورٹ جسٹس وجیہہ الدین تبصرہ کر رہے تھے ’’عدالت نے تو بے لاگ انصاف کرنا ہوتا ہے‘ اسے اس سے کوئی سروکار نہیں ہوتا کہ اس کے فیصلے سے کسی پر آسمان ٹوٹ پڑے گا‘ کوئی برج گر جائیگا‘ یا پورا سسٹم اتھل پتھل ہو جائیگا۔‘‘ سپریم کورٹ کا فیصلہ ٹکا اقبال کیس کی بھد اڑاتا ہوا ہے‘ یہ فیصلہ اس لحاظ سے یقیناً تاریخی اور مثالی ہے کہ اسکے ذریعے عدلیہ نے پورے صدق دل کے ساتھ اپنی تطہیر اور اپنے آنگن سے سارے گند کی صفائی کا عمل شروع کیا ہے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کی شکل میں اپنے ایک پورے ادارے کو آئین سے متصادم قرار دے کر اس کا وجود ہی ختم کر دیا ہے۔ اپنے ہی توسیع شدہ ڈھانچے کو بلڈوز کرکے 17 ججوں والی سپریم کورٹ بحال کر دی ہے۔ 3 نومبر 2007ء کے جرنیلی پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والے سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ کے تمام ججوں بشمول جسٹس عبدالمجید ڈوگر کے اس اقدام کو مکمل غیرآئینی قرار دیکر کالعدم کر دیا ہے۔ پی سی او کے تحت تعینات ہونے والے تمام ججوں کو فارغ کرکے ان میں سے سرونگ ججوں کے کیس سپریم جوڈیشل کونسل میں بھجوا دیئے ہیں اور جسٹس عبدالحمید ڈوگر کی بطور چیف جسٹس سپریم کورٹ تعیناتی کو ماورائے آئین و قانون قرار دیکر انکی چیف جسٹس کی حیثیت کو عدالت عظمٰی کے انتظامی ریکارڈ سے حذف کردیا ہے‘ گویا وہ کبھی چیف جسٹس تھے ہی نہیں۔
یہ سارے معاملات ٹھیک ہو گئے ہیں‘ مشرف غاصب قرار پائے ہیں‘ ان کیخلاف آئین کی دفعہ 6 کا کیس مضبوط ہو گیا ہے جس سے آئندہ کیلئے طالع آزمائی کا شوق پالنے والوں کو بھی کان ہو جائیں گے مگر اس دودھ میں یہ مینگنی ڈالنے کی کیا ضرورت تھی کہ جسٹس ڈوگر کی چیف جسٹس کی حیثیت تو قطعی غیرآئینی ہے مگر انکی اس حیثیت میں صدر مملکت کے منصب پر جناب آصف علی زرداری سے لیا گیا حلف ٹھیک ہے۔ اس کیس کی سماعت کے آخری روز چیف جسٹس افتخار محمد چودھری باور کرا رہے تھے کہ اگر آرمی چیف کی حیثیت سے مشرف کا 3 نومبر 2007ء کا اقدام ہی سرے سے غیرآئینی اور غیرقانونی ہے تو پھر اسکی بنیاد پر چاہے چھ منزلہ عمارت کھڑی کرلی جائے‘ وہ سب ناجائز ہو گی۔ محترم جسٹس ڈوگر کے ہاتھوں صدر کے منصب پر آصف علی زرداری کا حلف بھی تو اسی ناجائز چھ منزلہ عمارت ہی کا حصہ ہے۔ آپ اس عمارت کے نیچے والے تمام پورشن گرا دیں اور صرف سب سے اوپر والا رہنے دیں تو وہ کیسے ہوا میں معلق کھڑا رہ سکتا ہے۔ انصاف تو یہی ہے جس کی طرف جسٹس وجیہہ الدین نے بھی اشارہ کیا ہے کہ ’’ہر نقش کہن‘‘ کو مٹا دیا جائے اگر انصاف کا تقاضا پورا کرتے ہوئے جسٹس ڈوگر کی چیف جسٹس کی حیثیت میں جناب زرداری سے لیا گیا صدر کے منصب کا حلف بھی غیرآئینی قرار دے دیا جاتا تو اس سے سسٹم پر کوئی پہاڑ نہیں ٹوٹ پڑنا تھا۔ ان کا پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں کے ذریعے صدر کے منصب پر انتخاب تو برقرار ہے کہ پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں کو مشرف کے 3 نومبر سے 15 دسمبر تک کے اقدامات کو ناجائز قرار دے کر بچا لیا گیا ہے۔ زیادہ سے زیادہ یہ ہوتا‘ جناب زرداری چند لمحات کیلئے صدر کے منصب سے فارغ ہوتے اور پھر آئینی چیف جسٹس کے ہاتھوں صدر مملکت کے منصب پر انہیں ازسرنو حلف دلوا کر دوبارہ اسی منصب پر فائز کر دیا جاتا۔ اس سے کم از کم سسٹم کا پلازہ کھڑا کرنے کی بنیاد تو درست ہوجاتی۔ کیا اب بھی ایسا نہیں ہو سکتا؟ میں نے عدلیہ کی آزادی اور ججوں کی بحالی کی تحریک کے قائد چودھری اعتزاز احسن سے اس بارے میں گزارش کی ہے‘ اگر حکومت خود سپریم کورٹ کے فیصلہ پر اس کی روح کے مطابق عمل کرتے ہوئے صدر کے غیرآئینی حلف کی صورت میں دودھ میں پڑی ہوئی مینگنی بھی نکال دے تو اس سے عدلیہ اور جمہوریت دونوں سرخرو ہو جائیں گے‘ پھر سرخروئی کا یہ موقع ضائع تو نہیں جانے دینا چاہئے۔