بھیگے کاغذ؟

کالم نگار  |  خالد احمد

رات‘ ہم ’ادبی بیٹھک‘ پہنچے تو ایک کونے میں پڑی میز کے گرد بچھی کرسیوں میں سے ایک پر بیٹھے‘ کہنیاں میز پر جمائے اور چہرہ ہاتھوں میں سجائے‘ سامنے ایک کاغذ پھیلائے دکھائی دینے والے دوست کی طرف بڑھ گئے! ہماری چال میں تیر کی سی تیزی آگئی! تاکہ ان کی کوئی تازہ غزل یا کوئی تازہ نظم ہو تو ہم ان سے جھپٹ لیں! کیا ’خبر‘ ہمیں کوئی اچھا شعر یا کوئی اچھی سطر مل جائے اور ہمارا کام بن جائے! مگر ہم ان کے پاس پہنچے تو پتھرا کے رہ گئے! آنسو‘ ان کے رخساروں کے ساتھ ساتھ ان کے سامنے پھیلا کاغذ بھی بھگو چکے تھے! ہم نے بہت ہولے سے اپنا ہاتھ ان کے شانے پر رکھا اور پوچھا! خیریت باشد!‘ وہ تڑک کر اٹھے اور ہمارے سینے سے لپٹ کے پھڑک پھڑک کر رونے لگے! ’یہ کیا ہے؟‘ ہم نے پوچھا تو وہ بولے‘ یار! تمہاری بھابھی کا ’پہلا خط‘ ہے!‘ ہم نے کاغذ دیکھا تو ذہن میں جناب احمد مشتاق کا مصرع ’جی بھر آیا کاغذ خالی کی صورت دیکھ کر‘ گونج گونج گیا‘ لیکن یہ تو خالی ہے؟‘ ہم نے جناب احمد مشتاق کے شعر کی روشنی میں یہ ’بھیگا کاغذ‘ دیکھ کر‘ سب کچھ سمجھ جانے کے بعد بھی پوچھ ہی لیا! مگر انہوں نے ایک آہ سرد بھر کر ہمیں روح تک منجمد کر دیا‘ ’لکھتی بھی تو کیا بے چاری؟
آج کل بول چال بند ہے!
جناب آصف علی زرداری بول چال کا بند دروازہ کھول کر ایوان صدر سے چل کر جناب نواز شریف کے گلے لگ کر رونے کیلئے لاہور سے ہوتے ہوئے ’رائیونڈ چلو! کا نعرہ سر کرتے کرتے واقعی ’رائیونڈ‘ پہنچ گئے تو ہمارے ذہن میں جناب احمد مشتاق کے اسی مصرع کا مصرع ثانی گونج اٹھا:
جن کو لکھنا تھا‘ وہ سب باتیں زبانی ہو گئیں‘
مگر ایک ’تحریری اعلامیہ‘ دل کے تمام معاملات کھول گیا اور ایک دنیا جان گئی کہ اب جو بات ہو گی لکھ کر ہو گی!
جناب حامد کرزئی نے جناب یوسف رضا گیلانی سے دریافت کیا ’یہ ’طالبان‘ کون لوگ ہیں؟‘ تو جناب یوسف رضا گیلانی کا چہرہ بجھ کر رہ گیا اور ان کے ذہن میں ’کچھ بھی یاد نہ آ پانے پر آنکھیں بھیگ گئیں!‘ کی سوگوار لے گونجتی رہ گئی مگر ہمارے ذہن میں جناب اسد اللہ خان غالبؒ کا یہ مصرع بار بار لہریں لیتا رہا‘ ’اس سادگی پہ کون نہ مر جائے اے خدا!‘ ’مگر ہم نہیں جان پائے کہ جناب یوسف رضا گیلانی نے ان کے سوال کا جواب وہیں دے دیا‘ یا لکھ کر بھیجنے کا ’ادعا‘ دے آئے!جناب یوسف رضا گیلانی ہانپتے کانپتے جناب آصف علی زرداری کا حال احوال پوچھنے ’ایوان صدر‘ پہنچے تو ہمارے ہونٹوں پر بے ساختہ حضرت علامہ اقبالؒ کا یہ شعر گونج گونج کر منادی کرنے لگا:
ہو صداقت کے لئے جس دل میں مرنے کی تڑپ
پہلے اپنے ’پیکر خاکی‘ میں ’جاں‘ پیدا کرے
اور اب جبکہ جناب من موہن سنگھ بھارتی لوک سبھا سے مخاطب ہوئے اور ’من موہن ۔۔ گیلانی‘ بات چیت کے نتیجے میں جاری ہونے والا ’پاک ۔۔ بھارت مشترکہ اعلامیہ‘ زیر بحث لاتے ہوئے فرمایا‘ ’بھارت اور پاکستان کے درمیان طے پانے والا ’مشترکہ اعلامیہ‘ ہر سطح پر دفاع کا استحقاق رکھتا ہے میں اس کا پرزور دفاع کرتا ہوں! بھارت کے پاس پاکستان کے ساتھ مکالمے کے آغاز کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں!‘
تو ہمارے ذہن میں جناب میر تقی میرؒ کا یہ شعر گونج گونج گیا:
میرے رونے کی حقیقت جس میں تھی
ایک مدت تک وہ کاغذ نم رہا
پاکستان اور تاجکستان صدور کی موجودگی میں دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ نے باہمی سلامتی کے معاہدے پر دستخط کئے تو دونوں صدر خاموش کھڑے تھے! اور ہم سوچ رہے تھے ’دو شنبہ‘ اور ’اسلام آباد‘ زمینی راستے سے ملے ہوتے ہیں مگر وہ کون لوگ ہیں؟ جنہیں یہ ’رابطہ‘ پسند نہیں! کہیں یہ ’معاہدہ‘ بھی ایک ’بھیگا کاغذ‘ تو نہیں بن کے رہ جائے گا؟ ’بھیگے کاغذ‘ ہمارے رونے کی حقیقت کے غماز ہیں‘ مگر بول چال بند ہے اور ’سادہ کاغذ‘ آہستہ آہستہ انبار کی صورت اختیار کرتے چلے جا رہے ہیں‘ ہمیں ایک ’ہمہ جہت مکالمے‘ کا آغاز کرنا ہو گا اور اتنے بڑے پیمانے پر کہ ’دشمن‘ سکتے میں پڑ جائیں اور ہم آگے بڑھ جائیں!
بقول جناب شفیق سلیمی
میں بنا تھا شفیق اس کی آنکھیں
وہ مجھے راستہ دکھا رہا تھا