اب آگے بڑھئے دفعہ 6 نافذ کیجئے

صحافی  |  عطاء الرحمن

فیصلہ عہد ساز ہے۔ توقع ہے امید افزا بھی ثابت ہو گا۔ ماضی قریب کے آئین مخالف اور عدلیہ دشمن آمرانہ فیصلوں پر خط تنسیخ پھیلا دیا گیا ہے۔ وہ فوجی ڈکٹیٹر جو ابھی ڈیڑھ برس قبل تک بڑے طنطنے کے ساتھ اعلان کرتا پھرتا تھا۔ کوئی مائی کا لعل اس کے اقدامات کا رخ نہیں موڑ سکے گا۔ آج اس حالت میں لندن جا کر بیٹھا ہے کوئی وکیل اس کا دفاع کرنے والا نہیں۔ فوج کا کوئی افسر اس کا ساتھ دینے والا نہیں۔ بیورو کریسی کے کل پرزے جو ہر آن اس کے اشارہ ابرو کے منتظر رہتے تھے اب اسے پرکاہ کی اہمیت دینے کے لئے تیار نہیں۔ وہ لوٹا سیاستدان جو صبح شام آمر مطلق کی بلائیں لیتے تھے۔ قرب شاہی کو اپنی سیاست کی معراج سمجھتے تھے۔ دس مرتبہ وردی پہنانے کا عزم دہرا کر اس کی وفاداری کا دم بھرتے تھے۔ اب نام لینے کیلئے تیار نہیں۔ لندن جاتے ہیں تو وضاحتی بیان جاری ہوتا ہے ہمارا ارادہ جنرل مشرف سے ملاقات کا ہرگز نہیں۔ وہ دانشور جو صبح شام اس کی حمایت میں دلائل وضع کرتے تھے۔ ڈکٹیٹر کے SPIN DOCTORS بنے ہوئے تھے۔ اب کالم پر کالم لکھ رہے ہیں میں نے تو ہمیشہ اس سے اصولی اختلاف کیا لاحول ولاقوۃ۔
اور اعلیٰ عدالتوں کے ان ججوں کا حال مت پوچھو۔ جنہوں نے اپنے ساتھی ججوں کے خلاف مشرف کے پی سی او کے تحت حلف اٹھایا۔ عدل و انصاف کا خون کیا۔ آزاد اور آئینی عدالتی نظام کو مسمار کیا۔ ایک ناجائز طور پر چیف جسٹس بن گیا۔ دوسروں کو سنیارٹی ملی کئی ایک ازسرنو سپریم کورٹ اور ہائی کورٹوں کے جج بنے۔ یہ سب مشرف کے واری جاتے تھے کیونکہ اسی کے آمرانہ اور غیر آئینی فیصلوں کی بدولت یہ مقام حاصل ہوا تھا لیکن عہد ساز فیصلے نے ان ججوں کو بیک گونی دوگدش گھروں کو روانہ کر دیا ہے۔ جو ناجائز طور پر چیف جسٹس بنا تھا اپنے نام کے ساتھ سابق بھی نہیں لکھ سکے گا۔ مذمت جو ہوئی ہے سو علیحدہ پھر این آر او اور اس کے فوائد سمیٹنے والوں کا کیا انجام ہو گا۔ اس کا نظارہ آنے والے دنوں میں دیکھنے کو ملے گا۔ یہ قوم کی آئینی و جمہوری امنگوں کا پھل ہے جو اسے ملا ہے۔ سپریم کورٹ آف پاکستان کے چودہ رکنی بنچ نے مشرف کی 3 نومبر والی ایمرجنسی کو درحقیقت میں اس آمر کا دوسرا مارشل لاء تھا غیر آئینی قرار دیکر پاکستانی قوم کے حقیقی عزم کو الفاظ اور فیصلے کی طاقت دی ہے۔ جس کیلئے وہ بلاشبہ مبارکباد کے مستحق ہیں۔
لیکن کیا یہ فیصلہ واقعی آئندہ کسی ڈکٹیٹر کی راہ روک دے گا اور اس کی وجہ سے کوئی طالع آزمائی نہیں کر سکے گا۔ یہ سوال غور و فکر کا متقاضی ہے۔ سبب اس کا یہ ہے 1972ء میں عاصمہ جیلانی کیس میں بھی عدالت عظمیٰ نے زبردست فیصلہ صادر کیا تھا۔ آئین توڑنے اور جمہوری حکومت کا تختہ الٹنے والے کو غاصب قرار دیا تھا۔ لیکن اس غاصب جنرل یحییٰ کی ذات کو اس فیصلے کی وجہ سے کوئی گزند نہ پہنچی۔ اسے آئین کی دفعہ 6 کے تحت سزا دینی چاہئے تھی۔ جو نہ ملی۔ الٹا وہ مرا تو اس کی لاش کو فوجی اعزاز کے ساتھ قبر میں اتارا گیا۔ پھر وہ فیصلہ بے اثر ہو گیا۔ نئے ڈکٹیٹر آئے۔ عدالتوں نے بھی انہیں جواز مہیا کیا۔ قوم و ملک کا بار بار ستیاناس ہوا۔ اب یہ ہماری حکومت پوری کی پوری حزب اختلاف اور پیچھے بیٹھی اسٹیبلشمنٹ کا مشترکہ قومی فرض ہے وہ موجودہ عہد ساز فیصلے کو اس انجام سے بچائیں اور صحیح معنوں میں امید افزا بنائیں۔ اس کا اس کے علاوہ کوئی طریقہ نہیں کہ آئین پاکستان پوری طرح روبہ عمل آئے۔ دفعہ 6 کو حرکت میں لایا جائے۔ ایک نہیں دو مرتبہ آئین توڑنے والے اور اپنی کھال بچانے کی خاطر غیر قانونی ایمرجنسی نافذ کرنے والے کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔ ایک مرتبہ یہ مثال قائم ہو گئی تو پھر کسی طالع آزما کو جرأت نہ ہو گی وہ فوجی طاقت کی انگیخت پر ہو یا بیرونی شہ پر ملک دشمن کارروائی کر سکے۔ پاکستان میں فرد واحد کا راج قائم کرے اور ملک کو امریکہ کا غلام بنا دے۔ اس کے بعد اس پر دہشت گردی کا لیبل چسپاں کرکے بیرونی طاقتیں ہماری فوج اور وسائل کو اپنے مذموم سامراجی مقاصد کیلئے استعمال کریں۔ اس مکروہ عمل کو جڑوں سے اکھاڑ دینے کا ایک ہی طریقہ ہے اور وہ دفعہ 6 کا نفاذ!!