کوئی کسی خوش فہمی میں نہ رہے....

کالم نگار  |  عارفہ صبح خان

الیکشن کمشن فخرالدین جی ابراہیم سمیت پرانے بابوں پر مشتمل گروپ کا نام ہے۔ جن کے خیالات، بیانات اور احکامات پڑھ کر نیا نو دن پرانا سو دن کا محاورہ یاد آتا ہے بلکہ اسلم رئیسانی کا چہرہ یاد آئے تو سمجھ نہیں آتا کہ اسلم رئیسانی کو ”بابا“ کہا جائے یا ”بوائے“ کہا جائے اور اسلم رئیسانی کی زبان میں الیکشن کمشن کے ”بابوں“ کو دیکھ کر یہ آسانی سے کہا جا سکتا ہے کہ بابا ، بابا ہوتا ہے چاہے مشرقی ہو یا مغربی مثلاً عمران خان کو دیکھ لیں کہ وہ اب 61 ویں بہار دیکھ رہے ہیں اور عملاً بابے ہی ہیں کیونکہ ریٹائرمنٹ کی عمر میں داخل ہو کر یا ساٹھ کے پیٹے میں آکرہر مرد ”بابا“ ہو جاتا ہے البتہ عورتیں 70 برس کی عمر سے پہلے خود کو ”بوڑھی یا مائی “ کہلوانا پسند نہیں کرتیں۔ سیاستدان ادیب اور مولوی عموماً طویل العمر ہوتے ہیں۔ ان میں سے اکثر 90 سال سے زیادہ کی عمر پاتے ہیں لیکن پاکستان میں عوام صرف40 سال کی عمر میں بوڑھے ہو جاتے ہیں کیونکہ پاکستان میں غربت مہنگائی بیروزگاری دہشت گردی اور اعصابی جنگوں کے بعد نوجوان عین جوانی میں بڑھاپے کی دہلیز پر قدم رکھ دیتے ہیں۔ لیکن سیاستدان اقتدار، دولت، شہرت، طاقت کی وجہ سے 70 سال کی عمر میں بھی جوان رہتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن خورشید قصوری، شاہ محمود قریشی، جاوید ہاشمی، الطاف حسین، لیاقت بلوچ ، پرویز مشرف، پرویز الہیٰ، شجاعت حسین، کامل علی آغا، فاروق ستار، راجہ ظفر الحق وغیرہ یہ سب 60 سے اوپر اور 80 سے نیچے کی عمروں کے لوگ ہیں۔ ان میں سے کسی کو بھی میدان میں اتار دیں یہ جیت جائیں گے۔ اگر انہیں مبالغہ آرائی کے مقابلے میں لا کر کھڑا کر دیا جائے تو فیصلہ مشکل ہو جائیگا کیونکہ سبھی فنکار اور ہوشیار ہیں اور ایک سے بڑھ کر ایک کا ماہر ہے۔ ویسے تو ان کے اثاثوں کے درمیان میچ پڑوا دیا جائے تو وہ بھی یہ آسانی سے جیت سکتے ہیں کیونکہ جو اثاثے انہوں نے الیکشن کمشن کے سامنے ظاہر کئے ہیں اتنے اثاثے تو یہ صرف اپنے ایک جلسہ کو کامیاب کرانے کے چکر میں اڑا دیتے ہیں۔ اس لئے سب سے پہلے تو عوام کسی خوش فہمی میں نہ رہیں کہ اب پاکستان کی باگ ڈور نوجوان قیادت سنبھالے گی کیونکہ سیاسی زبان میں نوجوان 60 سے 70 سالہ بابے کو کہا جاتا ہے۔ ویسے بھی آجکل پاکستان میں کاسمیٹک سرجری، لیزر سرجری اور ہیئر ٹرانسپلانٹ کے علاوہ انجکشن اور کیپسول وافر مقدار میں دستیاب ہیں جس سے انسان اپنی عمر سے 20 سے 25 سال چھوٹا اور نہایت نوجوان نظر آتا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ ٹھیک دس سال بعد یہی خوبصورت نوجوان یا حسین ترین خاتون خوفناک جھریوں والے بڑھیا بڈھے بن جاتے ہیں اور ان کی کھالیں لٹک کر ڈاﺅنی اور گھناﺅنی چھریوں میں بدل جاتی ہیں۔ پس عوام نوجوان قیادت کو سامنے لانے کے چکر میں ماری نہ جائے۔ اسی لئے کسی نے ٹھیک ہی کہا ہے کہ اصلی بزرگ اصلی بزرگ ہی ہوتا ہے چاہے وہ جج ہو یا جرنیل ہو، جرنلسٹ ہو یا جاگیردار!! فخر الدین جی ابراہیم نے اس حوالے سے بڑے سخت قوانین متعارف کرائے ہیں۔ اسلئے تمام پارٹیوں اور امیدواروں کو کسی خوش فہمی میں مبتلا نہیں رہنا چاہئے کہ وہ آنکھوں میں دھول جھونک کر ، ساز باز کر کے ، جعلی ڈگری یا جعلسازی سے اقتدار کے گھوڑے پر سوار ہو جائیں گے الیکشن کمشن نے واضح طور پر اعلان کیا ہے کہ بندوق کے زور پر کوئی نہیں جیت سکے گا اور یہ کہ امیدواروں کی بے رحم جانچ پڑتال ہو گی۔ اسلحہ کی نمائش، ہوائی فائرنگ پر جیل بھیجا جائیگا۔
جعلی ڈگری، دوہری شہریت پرنااہل قرار دیدیا جائیگا۔ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزیوں پر سزا ہو گی اور کاغذات نامزدگی مسترد کر دیئے جائیں گے۔ ایڈیشنل سیکرٹری الیکشن کمشن افضل خان نے شرائط و ضوابط بیا ن کر دیئے ہیں لہذا جاگیردارانہ اور موروثی رویہ کے حامل سیاستدانوں کو اب کسی خوش فہمی کا شکار نہیں رہنا چاہئے ورنہ چاروں خانے چت کریں گے اور کل کو جیتنے والے کہیں گے کہ چت بھی میری پٹ بھی میری۔
 عمران خان بھی 61 برس کی عمر میں بزرگ ہو گئے ہیں۔ اگر سادہ شلوار قمیض ٹوپی کے ساتھ ہاتھ میں تسبیح پکڑ لیں اور بال ڈائی کرانا بند کر دیں تو بزرگ ہی لگیں گے۔ عمران خان سے عوام کو بہت سی امیدیں تھیں لیکن ابھی کاغذات نامزدگی اور ٹکٹوں کے مرحلے میں ہی عمران خان کی ناقص حکمت عملی اور غلطیاں سامنے آ گئیں۔ سب سے پہلے تو عمران خان کو ان کے سگے، تایا زاد بھائیوں نے ناراض ہو کر چھوڑ دیا۔ تحریک انصاف میں ٹکٹوں پر اختلافات شدید ہو کر سامنے آگئے ہیں ۔عمران خان نے کچھ لوگوں کو ضرورت سے زیادہ نوازا ہے اور کچھ کو ضرورت سے زیادہ نظر انداز کیا ہے۔ انعام اللہ نیازی، سعید اللہ نیازی کی ناراضگیاں ، انعام اللہ نیازی کی قربانیوں اور خدمات کو نظر انداز کرنا اور عائلہ ملک کو ضرورت سے زیادہ فوقیت دینا بلکہ عائلہ ملک کی مرضی کے فیصلوں کی تائید و حمایت کرنا ذومعنی بھی ہے اور خطرناک بھی۔
عائلہ ملک کی سیاسی بصیرت جاگیر دارانہ نظام اور موروثی نظام کی پروردہ ہے۔ اگر وہ ایک عام گھرانے کی پیداوار ہوتی تو شاید اسے صوبائی اسمبلی میں مخصوص نشست کا ٹکٹ بھی نہ ملتا۔ اس کے بعد سردار آصف احمد علی جیسے زیرک اور منجھے ہوئے سینئر سیاستدان کے ساتھ وعدہ خلافی ایک ناپسندیدہ فعل ہے۔ سردار آصف احمد علی نے کہا ہے کہ عمران مجھ سے پانچ بار وعدہ کر کے مکر گئے جو شخص اپنے امیدوار سے جھوٹ بولے وہ بھلا عوام سے کیا سچ بولے گا۔ اسکے علاوہ عمران خان پہ یہ الزامات بھی عام ہیں کہ ا ن کی پارٹی میں عام اور متوسط افراد کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ ویسے بھی عمران خان کے اس رویے کو ہر شخص نے نوٹ کیا ہے کہ جب کوئی نئی اور موٹی آسامی آتی ہے تو عمران خان آگے بڑھ کر استقبال کرتے ہیں لیکن کوئی چھوٹی گاڑی یا موٹر سائیکل پر آئے تو وہ اسے توجہ نہیں دیتے۔ نئے کے آنے پر پرانے جانثار ساتھیوں کو بھول جاتے ہیں جیسا کہ عمر سرفراز کو دودھ میں سے مکھی کی طرح نکا ل پھینکا گیا۔ عمران خان کا جھکاﺅ امریکہ کی طرف بھی ہے ۔ عمران خان نے بڑے بڑے بلند بانگ دعوے کئے ہیں اور عوام کو بڑے بڑے سبز باغ دکھا رہے ہیں۔ لیکن عام زندگی میں وہ کسی معمولی حیثیت کے آدمی سے بات بھی کرنا پسند نہیں کرتے۔ اسلئے عمران خان یاد رکھیں کہ عوام اب اتنی بیوقوف نہیں رہی کہ قول و فعل کے اس تضاد کو نہ سمجھ سکے اسلئے عمران خان کسی خوش فہمی میں نہ رہیں۔
میاں نواز شریف بھی وزیراعظم بننے والوں کی فہرست میں سب سے آگے ہیں لیکن عوام نے تمام سابقہ رویوں اور اعمال پر گہری نظر رکھی ہوئی ہے۔ ن لیگ نے ان تمام لوگوں کے ساتھ ناروا سلوک کیا جنہوں نے ن لیگ کا برے وقتوں میں ساتھ دیا۔ ن لیگ نے ان تمام لوگوں کو لگے لگایا جنہوں نے بڑے وقتوں میں ان سے منہ پھیرا اور ق لیگ میں وزارتوں اور عہدوں کو کیش کیا۔ آج وہ لو گ جو کل مشرف کے کیمپ کے سرکردہ افراد تھے جو ق لیگ کے پسندیدہ ، ہردلعزیز وزیر مشیر ایم این ایز، ایم پی ایز تھے اور ن لیگ کیخلاف اشتہارات، بیانات میں آگے آگے رہتے تھے۔ نواز شہباز کی نقلیں اتارتے تھے۔ آج میاں نواز شریف، شہباز شریف کے سب سے قریب ہیں اور انہی کو ٹکٹیں دی گئی ہیں کیا عوام میں منافقت، جعلسازی اور بے ایمانی سے بے خبر ہیں جو لوگ اپنی صفوں میں انصاف نہیں کر سکتے سچ اور حق کا ساتھ نہیں دے سکتے۔ عوام کے ساتھ کیا کریں گے اور پہلے بھی کیا تیر مارا ہے۔ تیر والے بھی پھوٹ کا شکار ہیں اور پیپلزپارٹی میںپھوٹ پڑی ہوئی ہے۔ عوام سب سے بدظن ہیں۔ شیخ رشید کھری کھری باتیں کرتے ہیں لیکن کاش وہ اقتدار میں رہ کر بھی ایسے ہی سوچتے اور بولتے۔ بہر حال کوئی کسی خوش فہمی میں نہ رہے کہ وہ وزیراعظم بنے گا یا اقتدار کا جھولا جھولے گا۔ لکھ لیں کہ الیکشن نہیں ہونے الیکشن کیلئے فضا سازگار نہیں۔ سب کے خواب محض خواب رہ جائیں گے۔