پیپلزپارٹی کی کشتی ملاح کے بغیر

کالم نگار  |  مطلوب وڑائچ

ایک طرف انتخابی مہم میں رنگ بھرے جا رہے ہیں، دوسری طرف کل تک کی پاکستان کی سب سے بڑی پارٹی، جسے بھٹوز کی جانشینی کا دعویٰ ہے، منتشر اور بکھری ہوئی ہے۔ ایک طرف ٹکٹ نہ ملنے پر کئی رہنما اور کارکن ناراض ہیں تو دوسری طرف کئی حلقوں سے اسے امیدوار ہی میسر نہیں۔ یوں لگتا ہے کہ جس پارٹی کو ضیاءالحق جیسے آمر ختم نہ کر سکے اسے پارٹی قیادت نے پانچ سالہ حکمرانی کے دوران خود اپنے ہاتھوں دفن کر دیا۔ آئندہ انتخابات میں پیپلزپارٹی شاید ہی تیسرے نمبر پرآ سکے۔ پانچ سالہ اقتدار کے دوران قیادت کی کارکردگی انتہائی مایوس کن رہی۔ قومی خزانے اور وسائل کو بے دردی سے لوٹا گیا۔ بجلی اور گیس کی تاریخی قلت پیدا کرکے چلتے بنے۔ آج دوسری پارٹیوں کے سیکریٹریٹ پر امیدواروں کی لائنیں لگی اورپی پی پی کی قیادت کو چراغ لے کر بھی ڈھونڈنے سے امیدوار دستیاب نہیں اور روایتی جیالے تک ٹکٹ لینے سے انکاری ہیں اور موجودہ انتخابات کے لیے جن لوگوں کو قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے ٹکٹ ایوارڈ کئے گئے ہیں ان میں سے اکثر و بیشتر کی انتخابی حیثیت یونین کونسل کے ناظم سے زیادہ نہیں ہے اور یہ ایسے ہی ہے جیسے ”ممولے کوشہباز سے لڑا دیا جائے۔“ پنجاب پیپلزپارٹی کے دو سابق صدور رانا آفتاب احمد خاں،قاسم ضیا سمیت عامر فدا پراچہ ،چوہدری طارق پرویز،زکریا بٹ،جہانگیر بدراور راقم سمیت ملک بھر سے پیپلزپارٹی کے سینکڑوں سابق ٹکٹ ہولڈروں نے الیکشن لڑنے سے معذرت کر لی ہے اور بے شمار نے پارٹی پالیسی اور قیادت سے اختلافات کی بنا پر پارٹی چھوڑکر دوسری پارٹیوں میں شفٹ ہو چکے ہیں۔
ایک طرف یہ صورت حال تو دوسری طرف پی پی پی کے پاس عین اس وقت جب انتخابات سر پر ہیں، میر کارواں ہی نہیں ہے۔ آصف علی زرداری نے دو میںسے ایک عہدہ چھوڑا تو قرعہ پی پی پی کی سربراہی سے دستبرداری کے نام نکلا۔ بلاول بھٹو زرداری پیپلزپارٹی کے چیئرمین تھے۔ ڈرائنگ روم میں پیپلزپارٹی کے انتخابات ہوئے چیئرمین اور کوچیئرمین کا عہدہ خالی چھوڑدیاگیا۔بلاول بھٹو زرداری اسکے سرپرست قرار پائے۔ پارٹی کا کوئی صدر اور چیئرمین نہیں ہے۔ انتخابی مہم کے لیے زرداری یا بلاول میں سے ایک کا میدانِ عمل میں ہونا ضروری تھا۔ زرداری صاحب نے ایوانِ صدر سے باہر نکلنا مناسب نہ سمجھا جبکہ بلاول کو محض سرپرست بنایا گیا اور وہ بھی سکیورٹی تھریٹ یا پھر اختلافات کے باعث ملک سے چلے گئے گویا بھٹوز کی پارٹی آج بالکل ہی لاوارث نظر آ رہی ہے۔ پاکستان پیپلزپارٹی کو اسکے ایک عرصہ سے سیکرٹری جنرل چلے آنے والے جہانگیر بدر اور ان جیسے سینکڑوں کارکنان و جیالوں نے اپنے خونِ جگر سے سینچا تھا۔ عین الیکشن کے موقع پر ان کی خدمات کو فراموش کر کے پارٹی سے الگ کر دیا گیا۔ یہ وقت انتشار اور اختلافات کو بڑھانے کا نہیں بلکہ اپنی کوتاہیوں سے سبق حاصل کرکے متحد ہونے کا ہے لیکن ایسی کوئی کوشش نظر نہیں آ رہی۔ ایک طرف کہا جا رہا ہے کہ بلاول کو سکیورٹی خدشات کے باعث ملک سے باہر بھیجا گیا دوسری طرف یہ خبریں بھی گردش کر رہی ہیں کہ بلاول کے پارٹی میں اختیارات محدود کرنے کی کوشش کی گئی تو وہ ناراض ہو کر چلے گئے جن کو صدر زرداری منانے کے لیے دبئی گئے لیکن انہوں نے وطن واپسی سے انکار کر دیا کیونکہ بلاول بھٹو زرداری کو اپنی شہید ماں کی پرورش اور تربیت میسر رہی ہے تو وہ کیونکر کسی دوسرے کی ڈکٹیشن لینا پسند کرے گا؟
1967ءپیپلزپارٹی کے وجود میں آنے کے بعد یہ پہلا موقع ہوگا کہ انتخابی مہم بھٹوز کے بغیر چلے گی۔ پاکستان پیپلزپارٹی تو نام ہی بھٹوز کا ہے جس کی خاطر بھٹوز کا خون بہا، اس پارٹی کی آبیاری بھٹو خاندان نے اپنی جانوں کے نذرانے دے کر کی۔ آج اسے قائد ہی میسر نہیں۔ بلاول کے نام پر پارٹی رجسٹرڈ ہوئی ہے تو اس کی قیادت بھی بلاول یا پھر بھٹو خاندان کے وارثوں فاطمہ بھٹو، ذوالفقار جونیئر کو ہی کرنی چاہیے۔جب ملک میں حمزہ شہباز، مریم نواز جیسے نوجوان جلسے کر رہے ہوں گے تو پیپلزپارٹی میں بلاول کی عدم موجودگی بُری طرح محسوس ہو گی۔ صدر زرداری نے انتخابی مہم گیلانی کے حوالے کرنے کا اعلان کیا تھا پھر راجہ پرویز اشرف کو مہرہ قرار دیا۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ انتخابی مہم کی قیادت ایسا لیڈر کرتا جو خود بھی الیکشن لڑ رہا ہوتا۔ بلاول شاید 25برس کے نہیں ہوئے، گیلانی سپریم کورٹ کی طرف سے نااہل ہو چکے ہیں۔ راجہ پرویز اشرف کو بھی ایسی صورت حال درپیش ہے۔ ان کے سر پر بھی نااہلی کی تلوار لٹک رہی ہے۔ جواربوں روپے نگلے وہ اگلنا پڑ سکتے ہیں، اوپر سے نااہلی بھی مقدر میں لکھی جائے گی۔
پیپلزپارٹی کی حالت دیکھ کر افسوس بھی ہوتا ہے اور دل خون کے آنسو بھی روتا ہے۔پیپلزپارٹی کو چند خواتین نے یرغمال بنا رکھا ہے۔ان پانچ چھ خواتین میں خوبی یہ ہے کہ یہ صدر مملکت کے اردگرد منڈلاتی رہی ہیں اور یہ سر پر ڈوپٹہ محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کی طرح اوڑھتی ہیں اور خود کو شہید بی بی سے کسی طرح بھی کم نہیں سمجھتیں۔میری طرح کے جیالے اور پارٹی کو اپنا خون دینے والے پانچ سال مسلسل چیختے اور چلاتے رہے۔ عوامی فلاح کے کام کرنے کا شور مچاتے رہے، جیالوں کے سر پر دست شفقت رکھنے پر زور دیتے رہے لیکن قائدین کی آنکھوں پر اقتدار کی چربی چڑھی تھی، عقل کل ہونے کا سر پر بھوت سوار تھا، ہماری کسی نے ایک نہ سی، جیالوں کو کھڈے لائن لگا کر ناراض کر دیا گیا۔ اقتدار گیا تو بھی قیادت ہوش میں نہ آئی بلکہ ماورائے عقل فیصلے کیے جا رہے ہیں۔ ایک انتشار اور دوسرے پارٹی لاوارث۔ انتخابات سے قبل پارٹی کو بھٹوز کے نام پر کسی حد تک سنبھالا جا سکتا تھا لیکن قیادت نے اپنی مکمل نااہلیت ثابت کر دی۔ ویسے تو پارٹی کی شکست کے لیے پانچ سالہ حکمرانی کے دوران کارکردگی ہی کافی ،اب اس کی ناکامی کے تابوت میں آخری کیل اس کو لاوارث کرکے ٹھونک دیا گیا ہے۔ یقینا اب جو کل بویا تھا اس کے کاٹنے کا وقت آ گیا ہے۔ ببول اور کانٹے بیجے تھے جن میں دامن تو الجھے گا ہی ،سو الجھ رہا ہے۔ آج مجھ سمیت چند ایک وہ لوگ جو گذشتہ پانچ سال کی لوٹ مار میں شریک نہ تھے اور پارٹی قیادت سمیت اراکین کو مشورے دیتے رہے کہ وہ عوام الناس کے لیے کچھ کر جائیں کیونکہ طاقت کا اصل سرچشمہ آخر عوام ہیں مگر کرپٹ کابینہ اور ان کی ازلی بھوک نے ہمیں نہ آگے کا رہنے دیا نہ پیچھے کا۔اور آج پیپلزپارٹی کی حالت اس پنجابی کے محاورے کے مصداق ہے:
بن ملاحوں بیڑیاں
دھکے ڈولے کھا