نگران کابینہ کی ضرورت ہی کیا؟

کالم نگار  |  محمد یسین وٹو

رینگتی انتخابی مہم میں تیزی تو آ رہی ہے لیکن اس میں وہ جوش وخروش اور ہنگامہ خیزی نہیںجو الیکشن سے ایک ڈیڑھ ما ہ قبل دیکھنے میں آیا کرتی تھی۔آج انتخابات کے انعقاد میں ایک ماہ دس دن بچے ہیں ۔یہ انتخابات 2008ءمیں منتخب ہونے والی پالیمنٹ کی آئینی مدت کے ختم ہونے پر ہورہے ہیں، اس مدت کے خاتمے کا سب کو علم تھا۔لیکن پارٹیوں کی یہ حالت ہے کہ جیسے ان پر اچانک اُفتاد ٹوٹ پڑی ہو۔ ہر پارٹی افراتفری کا شکار دکھائی دیتی ہے۔ ان سے امیدواروں کے انتخاب کا فیصلہ نہیں ہو پا رہا۔ جیسے کسی نے باور کرا رکھا ہو کہ انتخابات نہیں ہونگے۔ کسی بھی بڑی پارٹی کے ٹکٹ ابھی فائنل نہیں ہوئے۔ متوقع امیدواروں کو کہہ دیا گیا ہے کہ وہ کاغذات جمع کرا دیں ٹکٹ کا فیصلہ بعد میں کریں گے۔ یوں ایک ایک حلقے سے درجنوں امیدوار سامنے آ رہے ہیں۔ جن چند حلقوں سے امیدوار فائنل ہوئے ہیں ان میں دھینگا مشتی کی فضا ہے۔ جو ٹکٹ سے محروم رہے ان کے حامی سیاپا کر رہے ہیں اور مرکزی قائدین کی رہائش گاہوں اور ٹکٹ گھروں کے سامنے نعرے بازی ہو رہی ہے۔ دست و گریباں ہونے کے واقعات پیش آ رہے ہیں۔ پارٹیوں میں ایسی بدنظمی پہلے کبھی دیکھنے میں نہیں آئی۔ مسلم لیگ ن سب سے زیادہ اس مرض میں مبتلا ہے۔ ٹکٹ کسی کو جاری کیا جارہا ہے اور دلاسا کسی دوسرے کو دیا جاتا ہے۔ سونامی خان بھی مخمصے میں دکھائی دیتے ہیں۔ پارٹیوں کی طرف سے انتخابات کی آخر تیاری کیا کی گئی تھی؟ امیدواروں کی حتمی لسٹ تو بہت پہلے مرتب ہو جانی چاہئے تھی۔ یہ پارٹیاں کل اقتدار میں آئیں تو ملک کی صورتحال مزید دگرگوں کر دیں گی۔ اقتدار میں آنے والی پارٹی عوامی مسائل سے نمٹتی اور ملکی و صوبائی امور چلاتی ہے۔ اپوزیشن حکومت کو راہِ راست پر رکھنے کی کوشش کرتی اور خود اقتدار میں آنے کی تیاری کرتی ہے۔ اس کے تھنک ٹینکس اور شیڈو کیبنٹ ہوتی ہے جہاں ہمیں نہ کسی پارٹی کے تھنک ٹینکس نظر آئے نہ کسی نے شیڈو کیبنٹ بنائی۔ حکومت ملی تو وہی سابقون جیسی افراتفری کا سلسلہ ہو گا۔ ڈنگ ٹپاﺅ اور وقت گزارو مطمع نظر ہو گا۔ یوں عوام ایک بار پھر زیرِ عتاب ہونگے۔
مجھے تو اب بھی یقین نہیں کہ الیکشن شیڈول کے مطابق بروقت ہو جائینگے۔بہر حال تیاریاںتو ہو رہی ہیں۔ نگران حکومتیں تشکیل پا چکی ہیں۔دلچسپ امر یہ ہے کہ اتفاق رائے سے چاروں صوبوں میں وزرائے نامزد ہوئے،وزیر اعظم کا تقرر الیکشن کمشن نے کیا ۔ان پانچ میں سے چار ریٹائرڈ جج حضرات ہیں۔ ایک نجم سیٹھی جج نہیں وہ جرنلسٹ ہیں۔کچھ لوگوں کی نظر میںسیٹھی کی پاکستانیت ہی مشکوک ہے۔انکے بھارت کے ساتھ رابطے رہے ، امریکی ایجنٹ کی شہرت رکھتے ہیں۔قائد اعظم اور نظریہ پاکستان کے خلاف انکی بد زبانی سے ہر کوئی آگاہ ہے اگر کوئی بے خبر تھا تو وہ مسلم ن کی قیادت تھی جس نے انکے مقابلے میں پی پی پی ہی کے نامزد کردہ دوسرے امیدوارجسٹس (ر) زاہد حسین کا نام رد کردیا۔نجم سیٹھی پر میاں نوازشریف کی وزارت عظمیٰ کے دوران ،میاں صاحب کے ایما ءپرغداری کا مقدمہ درج ہوا۔کم از کم میاں صاحب یہ تو نہیں بھولے ہونگے۔پھر بھی انکے نام پر اتفاق کرلیا ۔شائد بھارت سے بے پایاں محبت دونوں میں قدرِ مشترک ہو۔وزارتیں قبول کرنا صحافی کے شایانِ شان نہیں،سیٹھی صحافی ہونے کی لاج رکھتے تو نگرانی کا منصب قبول نہ کرتے جیسا طلعت حسین نے اب کیا اور مجید نظامی کئی بار کر چکے ہیں۔جناب مجید نظامی کو میاں صاحبان نے مرحوم ابا جی سمیت صدارت کی پیشکش کی تو انہوں نے بصد شکریہ معذرت کرلی اس سے پہلے جونیجو مرحوم وزیراعظم نے انہیں گورنر پنجاب بناناچاہا تو بھی معذرت کرچکے تھے ۔جنرل ضاءا لحق کی مجلسِ شوریٰ کی پیشکش بھی نظامی صاحب نے ٹھکرا دی تھی ۔بہتر تھا کہ سیٹھی صاحب سیاست کی آلودگی سے اپنا دامن بچا کر رکھتے۔
پانچ نگرانوں میں سے چار ججوں کی طرح الیکشن کمشن کے چار ممبران اور چیف الیکشن کمشنر کا تعلق بھی عدلیہ سے ہے ۔ایک طرف ہمارے سیاستدانوں کا ججوں پر اس قدر اعتماد دوسری طرف انکے فیصلوں کو ماننے سے انکار اور عدالتوں پر غنڈوں کے ذریعے حملے انکے ذاتی مفادات اور دہرے معیار کا کھلا ثبوت ہیں۔نگران وزیر اعظم میر ہزار خان کھوسو اور چاروں نگران وزرائے اعلیٰ نے اعلان کر رکھا ہے کہ انکی کابینہ مختصر ہو گی۔ جیسی کہ سیٹھی صاحب نے تشکیل دی ہے کھوسو صاحب اب تک مخمصے میں ہیں۔ سیاستدانوں کے انتخابی امیدواروں کی طرح نگران وزیراعظم بھی ابھی تک اپنے وزیروں کا انتخاب نہیں کر سکے۔ نگرانوں کا کام انتخابات کے انعقاد میں الیکشن کمشن کی معاونت ہے ۔ یہ کوئی پالیسی تشکیل نہیں دے سکتے۔الیکشن کمشن نے ان کو نئے منصوبوں کے اعلان اور مکمل ہونیوالے منصوبوں کے افتتاح سے بھی روک دیا ہے ۔تقرریاں اور تبادلے بھی انکے اختیار میں نہیں۔پاکستان کا کوئی بھی محکمہ لاوارث نہیں ہے۔ہر محکمے کا سربراہ اسکے سیکرٹری کی شکل میں موجود ہے۔ آئین کی پابند بیوروکریسی کے سر پر نگران وزیر کا بٹھانا خزانے کو نقصان پہنچانے سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔قطرے قطرے سے دریا اور تنکے تنکے سے آشیاں بنتا ہے ۔دوتین روز قبل چیف الیکشن کمشن اور اسکے ممبران نے کوئٹہ جانا تھا بڑی حیرت ہوئی کہ چیف کے ساتھ صرف ایک ممبر گیا۔باقی اس لئے نہیں گئے کہ قومی خزانے پر بوجھ نہ پڑے۔نگران وزیراعظم اور انکے ساتھی وزرائے اعلیٰ کابینہ بنانے کے تکلف میں نہ پڑیں ان پاس چند دن ہیں انتخابات کو شفاف بنانے کیلئے الیکشن کمشن سے بھرپور تعاون کریں اپنی آنا جانیاں محدود رکھیں‘ جاتے ہوئے نیک نامی لے کے جائیں۔ کابینہ کے اجلاس کی صدارت کرنے کے خبط سے نکلیں ۔ ان میں کوئی غیر معمولی اہلیت وصلاحیت نہیں تھی جس پر یہ منصب ان پر نچھاور کیا گیا‘ اس معیار پر ہر پاکستانی پورا اترتا ہے۔ بہرحال ہما ان کے سر پر بیٹھا ہے تو خود کو نظام سقہ نہ بنائیں عوامی خدمت کو شعار بنائیں اور نگران کابینہ کے بغیر معاملات چلائیں جو بخوبی چل سکتے ہیں۔