شہیدوں کی پارٹی ؟

صحافی  |  امیر محمد خان

کہا جاتا ہے کہ لطیفے صرف ذہنی اختراع ہوتے ہیں، اور ’ گھڑے ‘ جاتے ہیں مگر یہ حقیقت ہے کہ لطیفوں کے پیچھے کوئی حقیقی واقعہ بھی کارفرما ہوتا ہے ، گزشتہ دنوں ہمیں ایک دوست نے لطیفہ بھیجا ہے کہ کمسن بلاول نے اپنے قریبی غیرملکی دوست (غیر ملک میں رہنے کی وجہ سے قریبی دوست تو غیر ملکی ہی ہوتے ہیں )کو واقعہ بتایا کہ پیپلز پارٹی کی ہائی کمان آئندہ انتخابات کیلئے اپنا لائحہ عمل طے کررہی تھی تمام ’ اکابرین پی پی پی ‘ جمع تھے تفصیلات طے ہورہی تھیں اور گزشتہ انتخابات میںکامیابی کے پیچھے کارفرما عوامل کی بھی جائزہ لیا جارہا تھا ،حقیقت پسند گروپ نے کہا کہ ہم جب بھی انتخابات جیتے ہیں اس وقت پارٹی نے ایک نامور شہید دیا ، پہلے انتخابات کی وجہ شہید ذولفقار علی بھٹو تھے ، دوسرے کی وجہ شہید بے نظیر تھیں ، اب کیا کریں ؟؟گزشتہ پانچ سال کی کارکردگی لیکر جائیں تو ووٹ تو کیا ، پولنگ ایجنٹ بھی پورے نہ ملیں۔شہید ہی وجہ بن سکتا ہے، پھر انتخابات میں کامیابی کا ، بلاول نے کچھ پریشانی کے عالم میں دوست کو بتایا کہ یہ بات کرکے میرے والد ، انکل رحمان ملک، اور میری پھوپی نہ جانے کیوں میری طرف فکر انگیز نظروں سے دیکھنے لگے ،اس واقع پر عقل و دانش سے بھر پور غیر ملکی دوست نے اپنے دوست بلاول کو مشورہ دیا کہ تم فورا ملک چھوڑ کر چلے جاﺅ ۔ ہم نے اسے لطیفہ سمجھا اور کچھ دیر بعد بھول گئے ، کل اچانک خبر ملی کہ بلاول بھٹو ذرداری ملک چھوڑ کر چلے گئے ، متضاد بیانات آتے رہے ، ہمیشہ کی طرح پی پی پی کے رہنماﺅں نے اصل کہانی معلوم کرنے کے بجائے مختلف بیانات دینے شروع کردیئے شاہ سے زیادہ شاہ کے وفا دار کہنے لگے وہ دوبئی گئے ہیں اور جلد واپس آجائینگے جبکہ بلاول اسوقت لند ن میں تھے ، ’ شرمیلا فاروقی ‘ جو ہمیشہ سچ بولتی ہیں انہوں نے کہا کہ دراصل سیکورٹی کا معاملہ تھا اسوجہ سے انہیں جانا پڑا اور انتخابی مہم بھی وہ نہیں چلائینگے ۔ تعلیم یافتہ شخص دراصل تعلیم یافتہ ہی ہوتا ہے ، یورپ کو ثقافت اور مذہب کے حوالے سے تنقید تو کی جاسکتی ہے مگر انکی حقیقت پسندی اور صاف گوئی پر تنقید ممکن اسلئے نہیںکہ وہ جھوٹ نہیںبولتے ، جو ہمارے ہاں ضرورت ہے وہ انکے لئے بھی ضرورت ہے مگر وجوہات مختلف ہیں ۔ مذکورہ بالا کہانی چاہے کہانی ہی ہو مگر یہ حقیقت ہے کہ بلاول جنکے ذمہ پارٹی کمان دیکر کہا جارہا تھا کہ انتخابی مہم چلانا ہے چونکہ والد صاحب بہ حیثیت صدر سیاست میں ’ سامنے آکر ‘ حصہ نہیں لے سکتے وہ کیا جواب دینگے کہ مہنگائی کی وجہ سے لوگوںنے خودکشیاں کی اسکا ذمہ دار کون ہے ؟ ملک میں ڈرون حملوں کا ذمہ دار کون ہے ؟ ملکی سرحدین محفوظ نہ ہونے کا ذمہ دار کون ہے ،؟ میمو گیٹ سکنڈل کیا تھا ´ ؟ بے روزگاری کیوں رہی ؟ ملکی خزانہ کیسے خالی ہوگیا ؟ بنکوں کے قرضوں کو کیوں افلاطون کی طرح بانٹا گیا ؟ بجلی کہاں گئی ؟ بلوچستان کے ساتھ سوتیلا سلوک کیوں کیا جارہے وغیرہ وغیرہ ۔۔ ان باتوں کا جواب بلاول تو کیا سید خورشید شاہ بھی نہیں دے سکتے جو شہید بھٹو کے زمانے سے پی پی پی سے منسلک ہیں اور اچھے اور برے وقت پارٹی کر ترجمانی کرتے ہیں ، ویسے بلاول کو پریشان نہیں ہونا چاہئے تھا اور اتنے دنوں میں پاکستان کی سیاست او ر سیاست دانوں کی چالوں ، سچ جھوٹ ، منافقت کو سمجھ لینا چاہئے تھا ، منافقت سے بھر پور سیاست میں” کل کا دوست آج کا دشمن، اور کل کا دشمن آج کا دوست “یہ تشریح کرکے ہمارے سیاست دانوںنے سیاست کو بدنام کردیا ہے جہاں اب بلاول جیسے لوگ جو یورپ یا یورپین کے ساتھ رہ کر انکے اقوال ( جو دراصل اسلام کے اقوال ہیں مگر بدقسمتی سے ہم اس دور ہوگئے اور غیرمسلموںنے اسے اپنا لیا ہے ) اور انکی نظر سے دیکھتے ہیں اور جھوٹ بولنے کو تیا ر نہیں ، منافقت کرنے کو تیار نہیں تو ایسے شخص کی جگہ پاکستان کی سیاست میں ہرگز نہیں ، عمرا ن خان بھی اسی سیاست کو اپنانا چاہتے ہیں ” برگر فیملیز “ اور ملک کے ماروثی سیاست دانوں سے تنگ انکے ہمراہ ہیں ورنہ ہماری عوام بھی سیاست دانوںکی منافقت کو سیاست کا حصہ سمجھنے لگی ہے جبکہ ایمانداری سے دیکھیں تو یہ صرف بے ایمانی اور منافقت کی سیاست ہے ۔ جب نواز شریف مشرف کو برداشت کرسکتے ہیں، جب پی پی پی والے ق لیگ کو برداشت کرسکتے ہیں جبکہ یہ حقیقت ہے کہ ملکی قیادت نے جہاں پی پی پی جیسی انقلابی کو شائد ہمیشہ کیلئے سیاسی منظر نامے سے غائب کرنے کی سعی کی ہے اسی طرح مسلم لیگ ق کا مستقبل اب نہ ہونے کے برابر ہے چونکہ جب کوئی چیز حد سے بڑھ جائے تو اسکے دن تھوڑے ہی ہوتے ہیں چوہدری شجاعت نے بہت سیاست کی ہے مگر اس عمر میں اب وہ خود ’ سیاست ‘ کا شکار ہوگئے اور انکی جماعت منظر نامے سے غائب ہورہی ہے ، میڈیا میں جو خبریں ہیں بلاول کے جانے کے متعلق اگر وہ صحیح ہیں تو اس ملک کو بلاول کی ضرورت ہے جھوٹ بولنے سے منع کرے یا شرمائے اسلئے بلاول بیٹا واپس آجاﺅ ، او ر اپنے انداز میں سیاست کرو آج نہیں تو کل ملک کا مستقبل بہتر ہوگا۔