اے موت! تجھے موت کیوں نہ آئی!

کالم نگار  |  احمد جمال نظامی

انسان کے ہاتھوں انسان کا قتل کوئی نئی بات نہیں ہے۔ یہ سلسلہ بنی نوع انسان کے دھرتی پر آنے کے فوراً بعد شروع ہو گیا تھا جب حضرت آدمؑ کے ایک بیٹے قابیل نے اپنے بھائی ہابیل کو اس لئے موت کے گھاٹ اتار دیا تھا کہ ہابیل کی شادی قانون فطرت کے مطابق اس خاتون سے ہو رہی تھی جس نے قابیل کے ساتھ اماں حوا کے پیٹ میں اپنی تخلیق کے مراحل طے کئے تھے۔ فطرت کے جاری کر دہ اصولوں کے مطابق یہ لڑکی قابیل کی بہن تھی اور قابیل اس سے شادی نہیں کر سکتا تھا وہ خوبصورت تھی اور حضرت آدمؑ نے اپنی شریعت اور قانون کے مطابق اس کو ہابیل کی زوجیت میں دینے اور قابیل کو ہابیل کی بہن سے بیاہنے کا فیصلہ سنا دیا تھا اور قابیل کو یہ فیصلہ اس لئے قبول نہیں تھا کہ ہابیل کی اپنی بہن کے مقابلے میں زیادہ خوبصورت نہیں تھی۔ قابیل نے اللہ کے قانون کو توڑ دیا اور ہابیل کو قتل کر دیا تاکہ وہ ہابیل کی منگیتر سے شادی کر سکے۔ شادی ایک عمرانی معاہدہ ہے جو ایک مرد کسی عورت کو اپنی زوجیت میں قبول کرتے ہوئے اس سے کرتا ہے حضرت آدمؑ کی شریعت میں صرف ا±سی لڑکے اور لڑکی کو ایک دوسرے کے بہن بھائی قرار دیا گیا تھا جو ایک ساتھ اماں حوا کے پیٹ میں تخلیق کے مراحل طے کرتے تھے۔ قابیل نے فطرت کے اس قانون کو توڑا اور اس کے بعد سے آج تک آدم کی نسل میں آدم زادوں اور حوا زادیوں کو موت کے گھاٹ اتارنے کا سلسلہ جاری ہے۔ ایک خبر کے مطابق سٹی ڈسٹرکٹ فیصل آباد کے قصبہ کھرڑیانوالہ میں ایک شخص نذیر نے گھریلو تنازعے پر اپنی تیس سالہ بیوی ممتاز بی بی کو چھریوں کے وار کرکے قتل کر دیا۔ شیخوپورہ روڈ پر ہی‘ فیصل آباد شہر کی حدود میں ملک پور نامی بستی میں ایک دوسری نوجوان عورت ثمینہ کو اس کے موضع ٹھہرو تحصیل گوجرہ سے آئے ہوئے اس کے شوہر نے اندھا دھند فائرنگ سے لقمہ اجل بنا دیا۔ ثمینہ ہفتہ عشرہ پہلے ہی اپنے شوہر شہباز سے ناراض ہو کر ٹھہرو سے اپنے والدین کے گھر آئی تھی۔ اسے شہباز سے کسی بات پر رنجش پیدا ہو گئی تھی اصولاً تو یہ چاہئے تھا کہ ثمینہ کے والدین‘ شوہر سے روٹھ کر آنے والی اپنی بیٹی کو خود شہباز کے پاس واپس چھوڑ آئے لیکن شہباز خود اپنی بیوی کو منانے اور واپس لے جانے کےلئے آگیا تھا اس کے آجانے کو ثمینہ اگر اپنی فتح خےالی کرتی تو اسے شوہر کی طرف سے اپنے ساتھ چلنے کی پیشکش کو غنیمت سمجھنا چاہتے تھا لیکن فی زمانہ میاں بیوی میں چھوٹی چھوٹی رنجشوں پر نکاح کے بندھن کو توڑنے اور فیملی کورٹ میں جا کر شوہر کے خلاف تنسیخ نکاح کا مقدمہ دائر کرنے یا شوہر سے خلع لینے کےلئے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے کا رحجان بڑھ گیا تھا۔ ہر چند ثمینہ نے ابھی شہباز سے طلاق لینے کا انتہائی قدم نہیں اٹھایا تھا لیکن جب مناتے ہوئے شوہر کے ساتھ واپس جانے سے انکار کر دیا جائے تو اگلا قدم یہی ہوتا کہ علیحدگی اختیار کرنے کےلئے چارہ جوئی کی جائے میاں بیوی میں طلاق‘ ایک انتہائی قدم ہے۔ ہر چند طلاق کی خواہش کرنے اور شوہر سے طلاق حاصل کرنے کو جائز قرار دیا گیا ہے لیکن رسول پاک نے طلاق کو انتہائی مکروہ ’فعل‘ قرار دیا ہے اور جو لوگ ایک دفعہ نکاح کے بندھن میں بندھ جاتے ہیں انہیں چھوٹے چھوٹے اختلافات پر بلکہ بہت بڑے اور سنگین اختلافی امور پر بھی ایک دوسرے سے الگ ہونے کے بجائے‘ اختلافات کو ختم کرنے اور شیر و شکر ہو جانے کی کوشش کرنی چاہئے۔ طلاق کسی بھی میاں بیوی کی زندگی میں انتہائی سنگین فعل ہے اور کسی شوہر کے ہاتھوں بیوی کا قتل اور وہ بھی انتہائی معمولی اختلاف پر‘ اس سے بھی زیادہ سنگین اور ظالمانہ فعل ہے مقتولہ ثمینہ نے شوہر کے ساتھ اپنے گھر واپس نہ جا کر اچھا نہیں کیا تھا لیکن شہباز نے اس کو واپس اپنے ساتھ لے جانے پر ناکامی پر اس پر فائرنگ کرکے انتہائی بزدلانہ اور بھیانک قدم اٹھایا تھا۔ اسے ثمینہ کو ابھی اور وقت دینا چاہئے تھا اور اگر وہ اپنا گھر چھوڑ کر آنے پر پشیمانی محسوس نہ کرتی یا دونوں میاں بیوی میں راضی نامہ کی کوئی صورت پیدا نہ ہوتی تو اس کے لئے بھی بیوی کو قتل کرنا صریحاً غلط تھا۔ جو عورت اپنے شوہر کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی‘ غیرت مند مرد کو اسے طلاق دے کر خود سے علیحدہ کر دینا چاہئے اسے یا اس کے ماں باپ‘ بہن بھائیوں کو ’موت کے گھاٹ‘ اتار دینا انتہائی ظالمانہ طرز عمل ہے اور احمقانہ بھی۔ شہباز ثمینہ کو قتل کرکے فرار ہو گیا لیکن کب تک فرار رہے گا بالآخر وہ پکڑا جائے گا۔ اس کے خلاف تھانہ منصور آباد میں زیر دفعہ 302 قتل کا مقدمہ درج ہو گیا ہے اور وہ بالآخر اس مقدمہ میں کیفر کردار کو پہنچے گا۔ اول تو قتل کی سزا پھانسی ہے لیکن کم از کم سزا بھی عمر قید ہو گی۔ ایک عورت جو آپ کے ساتھ عمرانی معاہدہ کرنے‘ آپ کے نکاح میں آجانے کے بعد آپ کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی تو پھر کہاں کی عقل مندی ہے کہ اس کو قتل کرکے اپنے لئے تختہ دار پر لٹک جانے یا عمر عزیز کے گراں قدر لمحات کو سلاخوں کے پیچھے گذار دیا جائے۔
ایسے حالات میں آتشیں اسلحہ انسان سے غلط اقدام سرزد ہونے کا باعث بنتا ہے۔ شہباز نے ثمینہ کے میکے جاتے ہوئے اپنے ساتھ اسلحہ لے جانے کا فیصلہ ہی غلط کیا تھا۔ اگر اس کے پاس اسلحہ نہ ہوتا تو وہ غصے میں آجانے کے باوجود اپنی ناراض بیوی کے خون ناحق سے ہاتھ رنگنے سے بچ جاتا۔ یہ انوکھا قتل نہیں تھا ہمارے ملک اور معاشرے میں اس قسم کے جرائم اکثر رونما ہوتے رہتے ہیں بلکہ اکثر ہوتا ہے کہ شوہر روٹھ کر میکے آنے والی بیوی کو منانے کےلئے اپنے سسرال میں آتا ہے اور جب بیوی اس کے ساتھ نہیں جاتی اور بیوی کے میکے میں سے کوئی اس کی طرفداری کرتا ہے تو اکثر و بیشتر شہباز جیسے احمق شوہر جن کے پاس آتشیں اسلحہ ہو وہ اپنی بیوی کے ساتھ اس کے پیاروں کو بھی موت کے گھاٹ اتار دیتے ہیں۔ ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے اور قتل گناہ کبیرہ بھی ہے۔ کھرڑیانوالہ کے نذیر احمد نے بھی اپنی بیوی ممتاز بی بی پر چھری کا استعمال کرکے یہی گناہ کیا ہے۔ عمر قید کی یا پھانسی کی سزا اس کا بھی مقدر بن چکی ہے اور یہ گناہ اس لئے ضمیر کی کسک اور زندگی بھر کےلئے پچھتاوا بھی ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ زیادہ سے زیادہ لوگ میری لکھی ہوئی سطریں پڑھیں اور کوئی کسی کو قتل نہ کرے۔ کسی کی جان لینا‘ کسی کو زندہ رہنے کے حق سے محروم کر دینا کہاں کی بہادری ہے چند روز پہلے فیصل آباد کی ایک معروف برادری کے دو گروہوں میں مقدمہ بازی کا انتہائی روح فرسا نتیجہ نکلا ہے۔ غلام غوث گجر اور انوار گجر گروپ کے مابین کوئی مقدمہ عدالت میں زیر سماعت تھا یہ مقدمہ دیوانی تھا یا فوجداری تھا۔ ہم اس بحث میں نہیں جانا چاہتے اگر یہ مقدمہ دائر ہوا تھا تو فریقین کو مقدمہ جیتنے کے لئے قانونی لڑائی لڑنی چاہئے تھی لیکن اس مقدمہ کی رنجش پر موت کی ہولی کھیلنے کا نہ کوئی قانونی جواز ہے نہ ہی اخلاقی اور ایک پولیس کانسٹیبل نعیم گجر سمیت مقدمہ کی پیروی کےلئے اپنے گھروں سے نکلنے والے انوار گجر اور محمد نوید کو جس طرح مخالف فریق کے مسلح افراد نے فائرنگ کرکے موت کی بھینٹ چڑھایا اور پھر جس طرح مرنے والوں کی نعشوں پر بھنگڑے ڈالتے رہے یہ سب انتہائی بہیمانہ ہے۔ مقتولین اور ان کے قاتل بنیادی طور پر ایک ہی برادری‘ ایک ہی قبیلے کے لوگ تھے۔ ان کے مابین‘ تنازعہ یا رنجش فطری بات تھی لیکن کسی مقدمے بازی پر طیش میں آکر موت کا کھیل کھیلنا اور پھر نعشوں پر بھنگڑا ڈالنا شقی القلبی ہے۔ صریحاً درندگی ہے۔ وہ ایک دوسرے کے بھائی تھے۔ رحمی رشتے میں ایک دوسرے کے اپنے تھے لیکن مارنے والوں نے اپنے تین مخالفین کی موت کےلئے جس طرح اندھا دھند فائرنگ کی اور پھر جس طرح مقتولین کی نعشوں پر بھنگڑا ڈالا یہ بلاشبہ شیطانی فعل تھا۔ اس تہرے قتل کا کیا انجام ہو گا مقتولین کے لواحقین کو ان کو جیل سے آزاد کرانے کےلئے نامعلوم کیا کیا جھوٹ بولنا پڑے‘ کتنی جائیداد فروخت کرنی پڑے‘ کتنا خوار ہونا پڑے اگر کسی مرحلے پر مرنے والوں کے لواحقین نے برادری کے نام پر اپنے پیاروں کا قتل معاف بھی کر دیا تو بھی مقتولین کی آئندہ نسلیں معاشی اور معاشرتی طور پر بری طرح تباہ ہو جائیں گی‘ آخر ہم اس قدر خونخوار کیوں ہو گئے ہیں اختلاف پر عدالتوں سے انصاف کا انتظار کیوں نہیں کرتے۔ مخالفین کو موت کے گھاٹ اتارکر اپنے خاندانوں کو زندہ درگور کر دینے کا سامان کیوں کرتے ہیں۔