انقلاب اور ردعمل انقلاب

کالم نگار  |  محی الدین بن احمد الدین

فطرت کا مطالعہ اور تاریخی واقعات کا مطالعہ بہت اہم کام ہے‘ اسی لئے اﷲ تعالیٰ نے قرآن پاک میں حکم دیا ہے عبرت اور سبق حاصل کرنے کے لئے سیروسیاحت کرو اور ماضی کے دیار اور ان سے وابستہ واقعات پر غور و فکر کرو۔ چونکہ سنت اﷲ جسے عموماً تقدیرکہا جاتا ہے تبدیل نہیں ہوتی۔ لہذاٰ ان واقعات کے نتائج عموماً ایک جیسے یا ملتے جلتے نکلتے ہیں۔ آئیے ہم ذرا اپنا مطالعہ کچھ ماضی اور کچھ حال میں کر لیں۔ 12 اکتوبر 99ءکا دن کس قدر ہمہ گیر تبدیلی اور انقلاب کو لایا تھا۔ شام کو جہاز میں محبوس بنا دئیے جانے والے آرمی چیف کراچی میں محفوظ اتر گئے اور وزیراعظم نواز شریف جنہوں نے اپنے اقتدار کو آرمی چیف سے محفوظ بنا لیا تھا وہ محبوس اور قیدی بن گئے تھے۔ اس دن کے بعد نواز شریف عتاب کا نشانہ تھے۔ اس منظر پر ایک گھریلو خاتون کلثوم نواز سڑکوں پر آئی تو ان کے ساتھ جاوید ہاشمی جیسے اہم ساتھی تھے۔ ان لوگوں نے جب فضا بنا دی اور پس پردہ میں کچھ دوست کامیاب ہوئے تو سعودی اور خلیجی سرزمینیں نواز شریف کے لئے نرم گوشے لے کر پہنچ گئیں یوں وہ شاہی مہمان بن گئے اور سرور پیلس جدہ ان کی آزادانہ رہائش گاہ بن گیا تھا۔ جنرل پرویز مشرف نے مکمل حکومت بلکہ ہمہ گیر فیصلے کئے۔ نواز شریف اور بے نظیر کی سیاست کا خاتمہ کر دیا تھا مگر اسی آمر مطلق کے نظام نے جسٹس افتخار محمد چودھری کو چیف جسٹس بنایا تھا یہ سب کچھ خدائے لم یزل نے کروایا تھا فرعون کے گھر میں موسیٰ پیدا کر دیا تھا مگر 9 مارچ 2007 کو آرمی ہا¶س راولپنڈی میں حکمران جنرلز کے تکبر و غرور کا عطیہ چیف جسٹس نے وصول کیا تھا اس دن سے پاکستان میں ایک نیا انقلاب آیا یہ خاکی اور جسٹس تصادم کا انقلاب ہے بظاہر جنرلز کا انقلاب جیت گیا تھا مگر عزم صمیم و ضد جو مہذب ہو کر استقامت بن جاتی ہے اگر موجود ہو تو جسٹس انقلاب طلوع ہوتا ہے یہ جسٹس انقلاب ہی عملاً نئے ماحول اور نئی سیاست کا بانی ہے۔ کئی بار اندیشہ ہوا کہ فوج اقتدار میں آجائے گی۔ ستارہ شناس بہت کچھ کہتے بھی رہے مگرجسٹس ذہن نے خاکی نئے انقلاب کا راستہ روکا تو بہت تدبر سے اور آہستہ آہستہ سیاست کی گند کی نشاندہی بھی کی بلکہ بہت زیادہ نشاندہی کی ہے اب آرمی کے ٹیک اوور کا عہد گزر چکا ہے۔ نئے انتخابات کا ماحول ہے چند دن پہلے وہی شخص جو آمر مطلق اور واحد فیصلہ ساز تھا وہ کراچی میں آتا ہے اور سندھ کی عدالت سے ضمانت میں توسیع حاصل کرتا ہے مگر اسے نہ تو ائرپورٹ پر عزت ملتی ہے نہ اس کا بھرپور استقبال ہوتا ہے۔ اس منظر کو اگر ہم جنرل ضیاءالحق عہد اور وزیراعظم جونیجو عہد میں دیکھیں تو بے نظیر لاہور ائرپورٹ پر اترتی ہے تو کتنا بڑا عوامی اجتماع ان کو خوش آمدید کہتا ہے؟ مگر سابق صدر جنرل پرویز مشرف کو نہ صرف استقبال نہ ملا کراچی میں بلکہ حفاظتی تدابیر میں رہائش گاہ تک جانا پڑا۔ اب وہ اسلام آباد آنا چاہتے ہیں مگر اسلام آباد کے حکمرانوں کے تو ہاتھ پا¶ں پھول چکے ہیں کہ وہ فدائین کے حملوں سے سابق صدر مشرف کو کیسے بچائیں؟ آرمی قوانین کے مطابق سابق آرمی چیف کو حفاظتی انتظامات دینا فوج کی آئینی ذمہ داری ہے مگر مشرف کو فوج کیسے اس عوامی اور فطری غیض و غضب سے محفوظ بنائے جس کا ترنوالہ خود مشرف نے بہت محنت سے خود کو بنایا ہوا ہے۔ ذرا دیکھیں کہ سندھ کی عدالت میں کس بے بسی سے سابق آمر مطلق عدالتی مدد حاصل کرتا ہے؟ تو ایک جوتا بھی اس کی پیشانی کا بوسہ لیتا ہے اور بیرون ملک بھی اب وہ نہیں جاسکتے کہ ان کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں آ چکا ہے۔ کیا یہ ردعمل انقلاب کی صورت میں نیا انقلاب ہے؟ آئینی طور پر تو آصف علی زرداری صدر پاکستان ہیں تو ان کی پارٹی انتخابات میں جا چکی ہے مگر وہ انتخابی مدد پارٹی کو نہیں دے سکتے۔ بلاول باپ کی سیاست سے ناراض ہو کر دبئی میں ہے اور باپ بھی سرکاری خر چ پر بیٹے کو منانے دبئی میں ہے۔ دوسری طرف نواز شریف خود کو اگلا حکمران سمجھ بیٹھے ہیں اور ہمخیال سے طے کئے ہوئے انتخابی معاہدہ کو پس پشت ڈال چکے ہیں۔ ملک میں پہلے ہی ایک سابق جج چیف الیکشن کمشنر تھے بلوچستان‘ سندھ اور خیبرپختونخوا صوبوں کے وزراءاعلیٰ کے ساتھ وزیراعظم بھی ایک سابق جج ہے۔ البتہ پنجاب میں ایک سیکولر صحافی نواز شریف کے ہاتھوں قیدی بننے والے اور ماضی میں آداب وطن سے الگ ہو کر آواز اٹھانے والے نجم سیٹھی تو اب وزیراعلیٰ ہیں۔ کیا یہ نواز شریف کی اپنی شکست ہے یا ان کی سیاست کے خاتمے کی شاہراہ ہو گی؟ آنے والے دن شاید سیکولر سے نجم سیٹھی کو تو بہت زیادہ فائدہ دیں گے مگر نواز شریف؟ ہم فی الحال خاموش ہی رہنا پسند کرتے ہیں۔ اس وقت طاقتور ترین کردار چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری اور ان کے فاضل جج ساتھی ہیں۔ وہ بہت دلیری سے فیصلے کر رہے ہیں۔ عملاً آج بنگلہ دیش ماڈل تو موجود نہیں مگر جسٹس حکومت تو قائم ہو چکی ہے۔ چیف جسٹس نے ان اراکین اسمبلی کے حوالے سے بھی سوموٹو لے لیا ہے جن کے میٹرک یا انٹرمیڈیٹ کے سرٹیفکیٹ بوجوہ جمع نہیں کرائے گئے تھے ان میں کچھ کیمبرج نظام تعلیم کی وجہ سے سچ مچ بددیانت ثابت کئے جا رہے ہیں حالانکہ عملاً انہوں نے ہرگز بددیانتی نہیں کی تھی مگر کچھ نے تو بہت زیادہ کی ہے۔
اس طرح ایسا دکھائی دیتا ہے کہ جب تک کیمبرج نظام تعلیم سے میٹرک یا انٹرمیڈیٹ کے مساوی تعلیم پانے والے نئے تصدیق شدہ سرٹیفکیٹ جمع نہیں کروائیں گے ان کی ماضی کی گزری ہوئی رکن اسمبلی حیثیت زیر بحث آئے گی اور وہ سزا سے دوچار ہوں گے۔ ممکن ہے قید کی سزا سے تو بچ جائیں مگر انہیں سیاسی میدان دوسروں کے لئے خالی کرنا ہو گا۔ یہ سب کچھ ردعمل انقلاب ہے یا جسٹس انقلاب ہے؟ یوں تو آرمی چیف کے عہد حکمرانی میں بی اے کی تعلیم لازمی شرط تھی رکن اسمبلی کے لئے مگر ان کی ناک کے نیچے انہی کے زیر اقتدار جعلی سندوں والے نہ صرف رکن اسمبلی بنے بلکہ وزیر بھی رہے۔ انہی دنوں ہم نے نوائے وقت میں ان کے خلاف بار بار لکھا تو طاقتور لوگ ہمارے دشمن بن گئے تھے جبکہ صدر پرویز مشرف کا نظام تو بیچارے درس نظامی کے فارغ شدہ علماءکو بلیک میل کرتا رہا تھا آج وہ سب زیر عتاب ہیں جو جعلی سرٹیفکیٹ بنوا کر مشرف عہد میں ہمارے آئینی فیصلہ ساز اور قانون ساز تھے۔ ہم یہ سب کچھ دیکھ کر مسکرائے جا رہے ہیں کچھوے کی طرح سست رو انقلاب کس دلیری سے آگے بڑھ رہا ہے۔ پرانے لوگ جگہ خالی کرنے پر مجبور محض بن رہے ہیں اور نئے لوگوں کے لئے نیا عہد طلوع ہو رہا ہے پرانے تناور سیاسی درخت کٹ رہے ہیں اور نئے نوخیز درختوں کے لئے فطرت جگہ اور زمین ہموار کر رہی ہے۔
”مقدس“ ایوان صدر میں آصف زرداری کا موجود ہونا ماضی کے جنرلز عہد کے لئے کتنی بڑی خدائی سزا ہے؟ وہی جو ہمیشہ ہی معتوب بنایا جاتا تھا اسی کو سیلوٹ کرنے پڑتے ہیں اور انہی کے دستخطوں سے آئینی عہدے پایہ تکمیل کو پہنچتے ہیں۔ وہ پٹارو میں میٹرک تک زیر تعلیم تھے۔ پھر وہ کالج یا یونیورسٹی میں کبھی نہ گئے۔ زیادہ تعلیم یافتہ نہ ہو کر بھی وہ آسانی سے ماشاءاﷲ صد پاکستان بن گئے۔ کیا یہ ردعمل انقلاب تھا؟ یا انقلاب اور اب ان کے ساتھ جو ہو گا وہ کیا ہو گا؟ چیف جسٹس اور ان کے رفقاءماضی قریب کے حکمرانوں کے ساتھ کیا حسن سلوک کرنے والے ہیں؟ اب صدر نے ایوان صدر ستمبر میں خالی کرنا ہے اور نومبر میں آرمی چیف نیا آنا ہے اور دسمبر کے آغاز میں چیف جسٹس نے جانا ہے۔ اب سے لے کر اس وقت تک جسٹس انقلاب کیا کچھ تہہ و بالا کر کے رکھ دے گا یا اس کی کوکھ سے نیا کوئی انقلاب برآمد ہو گا؟ موجودہ انتخابی عمل کے ہم ہرگز مخالف نہیں ہیں مگر اس کے بارے میں جو کچھ ہمارا وجدان بتاتا رہتا ہے ہم بوجوہ وہ لکھنے سے مسلسل پہلو تہی کرتے رہے ہیں۔ کچھوے کی چال چلتا ہوا ماضی کا انقلاب اب کافی تیز دوڑ رہا ہے دیکھئے اپنے اہداف وہ کب اور کیسے حاصل کرتا ہے؟ اس قسم کے واقعات اور نتائج کو ایام اﷲ کے الفاظ سے قرآن پاک میں یاد کیا گیا ہے۔ اور ”ایام“ کے ساتھ وابستہ ”تقدیر“ کا مالک مطلق صرف اﷲ تعالٰی ہے۔