پارلیمان کی قرارداد امریکہ پڑھے

کالم نگار  |  سید سردار احمد پیرزادہ
پارلیمان کی قرارداد امریکہ پڑھے

تاریخ اور کتاب سے دلچسپی رکھنے والا شاید ہی کوئی ایسا فرد ہوگا جس نے ’’الکیمسٹ‘‘ نہ پڑھی ہو۔ برازیل کے لکھاری پائولو کویلہو کا یہ مختصر شہرئہ آفاق ناول پہلی مرتبہ 1988ء میں پرتگالی زبان میں شائع ہوا اور اب تک اس کا 70 عالمی زبانوں میں ترجمہ ہوچکا ہے۔ مصنف اپنی حقیقی زندگی کی جوانی میں جادو اور لیبارٹریوں میں کیمیا گری کے ذریعے سونا بنانے کی بہت کوشش کرتے رہے۔ ان سب کوششوں میں وہ مکمل ناکام ہوئے لیکن آخرکار انہوں نے خزانہ حاصل کرنے کا ایک راز پاہی لیا۔ خزانہ حاصل کرنے کے راز کو ساری دنیا پر افشا کرتے ہوئے پائولو کویلہو ’’الکیمسٹ‘‘ کی کہانی میں لکھتے ہیں کہ ’’سپین میں ایک نوجوان چرواہا رہتا تھا جو افسانوی کہانیوں پر یقین کرکے چھپے ہوئے خزانے کو حاصل کرنے کی خواہش رکھتا تھا۔ ایک مرتبہ اُسے مسلسل دو راتوں تک ایک جیسا ہی خواب آیا جس میں دکھایا گیا کہ اہرام مصر کی دیواروں کے بہت نیچے قیمتی خزانہ مدفون ہے۔ نوجوان چرواہے نے ان خوابوں کو خزانہ حاصل کرنے کی اپنی خواہش کے حوالے سے ایک گائیڈ لائن سمجھا۔ اُس نے اپنی بھیڑیں بیچیں اور سپین سے اہرام مصر تک کے ناقابل برداشت اور خوفناک لمبے سفر کا آغاز کیا۔ اس دوران وہ افریقہ کے صحرائوں اور کٹھن راستوں سے گزرتا ہوا کئی دفعہ موت کے منہ سے بچا لیکن اُس پر خزانہ حاصل کرنے کا جنون سوار تھا۔ آخرکار وہ اہرام مصر کی اُس دیوار تک پہنچ گیا جہاں خواب کے مطابق خزانہ موجود تھا۔ اُسے منزل مل جانے کی خوشی اتنی تھی کہ کئی مہینوں کی لمبی جان جوکھوں والی مسافت کی ہرتکلیف فوراً دور ہوگئی۔ اُس نے ایک لمحہ ضائع کئے بغیر بیلچے سے جگہ کھودنی شروع کردی۔ وہ دن رات مسلسل کھدائی کرتا جارہا تھا۔ جب وہ سنگین پتھروں کو اپنے بیلچے سے توڑکر زمین کھودتا تو صحرا میں چلنے والی تیز ہوا ریت اڑا کر اُس کی کھودی ہوئی جگہ کو دوبارہ بھر دیتی۔ چرواہا بھی ہمت ہارنے والا نہیں تھا۔ اُس نے اہرام مصر کی دیوار کے نیچے کافی دور تک کھدائی کرلی مگر خزانہ نہ ملا۔ ایک رات جب وہ پتھروں کو توڑ کر نکالنے کی کوشش کررہا تھا تو اسے بہت سے قدموں کی آواز سنائی دی۔ قریب آنے والے لوگوں کی پیٹھ چاندنی کی طرف تھی اس لئے چرواہا ان کے چہرے نہیں دیکھ سکتا تھا۔ ان میں سے ایک نے چرواہے سے پوچھا تم کون ہو اور یہاں کیا کررہے ہو؟ وہ اس قدر خوفزدہ تھا کہ اس کی زبان سے ایک لفظ نہ نکلا۔ چرواہا سمجھتا تھا کہ اسے خزانے کی جگہ مل گئی ہے اور اب اسے یہ ڈر تھا کہ کہیں یہ لوگ خزانہ لوٹ کر نہ لے جائیں۔ اجنبیوں نے اُسے دھمکاتے ہوئے کہا کہ ہم صحرائی جنگجو ہیں۔ اُن میں سے ایک نے پوچھا تم کیا چھپا رہے ہو؟ چرواہے نے جواب دیا میں کچھ بھی نہیں چھپا رہا۔ ایک اجنبی نے اُس کی تلاشی لی اور کہا تم ہم سے سونا چھپا رہے ہو۔ چرواہے نے چاندنی رات میں اُن صحرائی اجنبیوں کی آنکھوں میں اپنے لئے موت دیکھی۔ وہ کہہ رہے تھے کہ یہ زمین میں چھپا ہوا خزانہ کھود کر نکالنا چاہتا ہے جو ہمیں نہیں بتا رہا۔ انہوں نے اُسے کھدائی جاری رکھنے کا حکم دیا۔ بہت گہری کھدائی کے باوجود خزانے کی تلاش میں ناکامی کے باعث صحرائی اجنبیوں کا غصہ آسمان تک پہنچ گیا۔ انہوں نے چرواہے کو بری طرح مارنا پیٹنا شروع کردیا۔ یہاں تک کہ وہ لہولہان ہوکر نیم بے ہوش ریت پر گرگیا۔ اُسے یوں لگا کہ اس کی موت قریب آگئی ہے۔ ان اذیت ناک لمحوں میں زخمی چرواہے کو وہ دانا کیمیاگر یاد آیا جو اُسے اس افریقی صحرائی سفر کے دوران ملا تھا اور اُس نے نصیحت کی تھی کہ ’’یہ روپیہ پیسہ تمہارے کس کام کا اگر تم نے جلد ہی مرجانا ہے؟ روپیہ کسی کی جان نہیں بچاسکتا‘‘۔ جان بچانے کی اپنی آخری کوشش کے تحت زمین پر گرا زخمی چرواہا صحرائی اجنبیوں پر چیخا کہ ہاں میں یہ زمین خزانے کی تلاش کے لئے کھود رہا تھا، مجھے دو مرتبہ خواب میں بتایا گیا کہ اسی جگہ پر بہت بڑا خزانہ موجود ہے لیکن تم دیکھ سکتے ہوکہ اتنی زیادہ کھدائی کے باوجود بھی یہاں خزانے کا کوئی نام و نشان نہیں ہے۔ اس موقع پر صحرائی اجنبیوں کے سردار نے زور کا قہقہہ لگایا اور زخمی چرواہے کو ٹھوکر مارکر بولا تم مرنے والے نہیں ہو، تم زندہ رہو گے تاکہ یہ سبق سیکھ سکو کہ انسان کو اس قدر بھی احمق نہیں ہونا چاہئے۔ سردار ریت اور خون میں لت پت چرواہے پر جھک کر بولا کہ میں نے بھی ایک ہی خواب دو دفعہ دیکھا تھا۔ میرا خواب یہ تھا کہ مجھے سپین کے میدانوں تک کا سفر کرنا چاہئے۔ مجھے خواب میں ایک خستہ حال پرانی عمارت دکھائی گئی تھی اور کہا گیا تھا کہ وہاں جائو جہاں ایک چرواہا اور اس کی بھیڑیں سوتی ہیں، وہاں خزانہ ملے گا۔ میں نے خواب میں اس پرانی عمارت کے باہر ایک مصری توت اگا ہوا دیکھا تھا جس کی جڑوں میں مجھے زمین کھود کر ایک چھپا ہوا خزانہ نکالنا تھا۔ یہ درخت اُس عمارت کے کمروں کے قریب دکھایا گیا تھا۔ اس کے بعد وہ صحرائی اجنبی غائب ہوگئے۔ صحرائی سردار کی بات سن کر مرتے ہوئے چرواہے میں زندگی کی بجلی دوڑ گئی۔ وہ تمام زخم بھول کر کھڑا ہوگیا۔ صحرائی سردار کی بتائی ہوئی عمارت، درخت، بھیڑوں کے لیٹنے کی جگہ اور کمرے والی سب نشانیاں تو اُس کے اپنے ہی ملک سپین کی تھیں جہاں وہ رہتا تھا۔ چرواہا دونوں ہاتھ اوپر اٹھاکر پاگلوں کی طرح چیخا اور اہرام مصر کو دیکھا۔ اُسے لگا جیسے اہرام مصر اُس پر ہنس رہا ہے۔ وہ بھی اہرام مصر پر ہنسنے لگا۔ نوجوان چرواہے نے موت کی وادیوں کا دوبارہ سفر کیا اور واپس سپین اُسی جگہ پہنچ گیا جہاں پرانی عمارت تھی، بھیڑوں کے باندھنے والا درخت تھا اور پرانا کمرہ تھا۔ یہ اُس کا گھر ہی تھا۔ اُس نے بیلچہ اٹھایا اور درخت کی جڑوں میں کھدائی شروع کردی۔ تھوڑی ہی دیر بعد اس کا بیلچہ بہت بڑے صندوق سے ٹکرایا۔ جب اُس نے صندوق کا ڈھکن کھولا تو دنیا جہان کے سونے، چاندی اور ہیرے جواہرات کے چمکتے ہوئے خزانے کو اپنے سامنے پایا‘‘۔ الکیمسٹ میں یہی سادہ سا فلسفہ بیان کیا گیا ہے کہ اصل خزانہ گھر میں ہی موجود ہوتا ہے۔ پاکستان کو بنے 70 برس بیت گئے ہیں۔ اس دوران ہمارے لیڈروں نے دنیا کی ہر سپرپاور کے آگے گھٹنے ٹیکے، ماتھے رگڑے، ہاتھ پھیلائے لیکن کیا ملا؟ ستر ہزار سے زائد شہادتوں کے باوجود بھی آج امریکہ ہمیں دہشت گرد کہہ رہا ہے۔ امریکہ کی دھمکی کو مسترد کرتے ہوئے ہماری پارلیمان نے ایک متفقہ قرارداد منظور کی ہے جو بالکل درست ہے۔ یہ قرارداد امریکہ کو پڑھانی چاہئے جبکہ ہماری پارلیمان کو الکیمسٹ پڑھنی چاہئے جس میں بتایا گیا ہے کہ خزانہ اپنے گھر میں ہی موجود ہے جو اصل جمہوریت کے ذریعے عوام کی خدمت میں چھپا ہوا ہے۔