عوام کا مقبول رہنما کون؟

عوام کا مقبول رہنما کون؟

جمہوریت کا اپنا حسن ہے اور سیاست کی اپنی Dynamics ہیں۔ حضرت محمد علی جناح بانیٔ پاکستان کو لقب‘ مسلم عوام نے ’’قائداعظم‘‘ کا دیا۔ وہ اسی لقب اور خطاب سے معروف ہیں۔ قائداعظم اردو زبان پر بھی عبور نہیں رکھتے تھے مگر جب عوام نے انہیں قلب و دماغ میں آباد کر لیا تو ان کے ایک اشارے پر لوگ جان قربان کر دینے کو تیار تھے۔
فرض کرتے ہیں کہ اگر الہ آباد ہائی کورٹ‘ بمبئی کورٹ یا کوئی اور عدالت اعلان کر دیتی کہ قائداعظم کو رہنما تسلیم نہ کیا جائے تو کیا عوام عدالت کی رائے سے اتفاق کرتے؟ محمد علی جناح قائداعظم ہی رہتے اور خود عدالت موضوع بحث بن جاتی۔ وجہ ظاہر ہے قائداعظم لوگوں کے دلوں میں آباد تھے۔ہم اس موضوع پر دلیل سے بحث کریں گے۔ جہاں تک عدالتوں کا تعلق ہے‘ وہ واجب احترام ہیں مگر ہمارا موضوع ’’عدالت‘‘ نہیں ’’سیاست‘‘ ہے۔ دوسری مثال۔1977ء میں ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف تحریک برپا ہو گئی۔ بھٹو عوام کے مقبول رہنما تھے۔ مگر تحریک جاری رہی۔ تحریک کو بنیاد بنا کر 5 جولائی 1977ء کو جنرل ضیاء الحق برسراقتدار آ گئے۔ جنرل ضیاء الحق کی قیادت میں فوج نے بھٹو کی مقبولیت کا اندازہ کر لیا۔ ’’نیوز ویک‘‘ امریکا کا معروف جریرہ ہے۔ اس نے سرورق پر ضیاء الحق کی فوجی وردی میں تصویر لگائی اور سرخی جمائی Bhutto's neck or Zia's neck بھٹو کی گردن یا ضیاء الحق کی گردن۔
اشارہ واضح تھا۔ بھٹو کے خلاف قتل کا مقدمہ شروع کر دیا گیا۔ جو عام طور پر سیشن کورٹ میں چلتا ہے مگر یہ مقدمہ ہائی کورٹ میں چلا گیا۔ ایک اپیل کے حق سے بھٹو کو محروم کر دیا گیا۔ ناانصافی ظاہر ہوتی چلی گئی۔ Justice seems to be done کی مثال سے بھٹو کا مقدمہ محروم ہو گیا۔ ہائی کورٹ نے بھٹو اور دوسرے افراد کو جو مقدمے میں شامل تھے پھانسی کی سزا دے دی۔ بھٹو نے سپریم کورٹ میں اپیل کی جس نے ہائی کورٹ کی سزا کو برقرار رکھا۔ بعد میں برسوں بعد جسٹس نسیم حسن شاہ نے اعتراف کیا کہ ہم پر فوجی حکمرانوں کا دباؤ تھا۔بھٹو کو تو پھانسی ہو گئی۔ وہ یادِ ماضی بن گئے۔ مگر آج بھی پاکستان پیپلز پارٹی نعرے لگاتی ہے۔ ’’زندہ ہے بھٹو زندہ ہے‘‘ اور بھٹو کے نام پر ووٹ لیتی ہے۔ بھٹو کے نام پر جنرل ضیاء الحق کے 11 سال بعد بے نظیر برسراقتدار آئیں۔ پھر وہ دوسری بار منتخب ہوئیں بھٹو کے نام پر۔ پھر پورے پانچ برس زرداری دور پاکستان پر مسلط رہا۔ بھٹو کے نام پر۔ثابت ہوا کہ سپریم کورٹ کی پھانسی کے باوجود بھٹو کی مقبولیت باقی رہی ہے۔یہ دلیل اور مثالیں ثابت کرنے کے لئے کافی ہیں کہ مقبول سیاسی قیادت قانون کے فیصلوں سے ختم نہیں ہو جاتی۔جناب نوازشریف پنجاب کے خاص طور پر اور پاکستان کے عام طور پر بے حد مقبول رہنما ہیں۔ وہ وزیراعظم نہیں رہے لیکن مقبولیت کم نہیں ہو سکی ہے۔ لوگ تماشہ دیکھتے رہے اور ’’جی ٹی روڈ‘ کے ’’مسافر‘‘ نے اپنی مقبولیت ثابت کر دی ہے۔اس تحریر میں ہم نے دلیل‘ ثبوت‘ مثالوں اور شہادت Evidence سے ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ جناب نواز شریف آج بھی عوام کے مقبول رہنما ہیں۔ عوام اور ان کے درمیان محبت اور پیار کا ایک رشتہ بدستور قائم ہے۔ یہ الگ بات ہے …؎
ہمارے پیار سے جلنے لگی ہے اِک دنیا
دعا کرو کسی دشمن کی بَددُعا نہ لگے
بھٹو کے مقدمے اور پھانسی کو پی پی کے اکثر رہنما Judicial merder قرار دیتے ہیں۔ کوئی نہیں کہتا کہ یہ توہین عدالت ہے۔ فیصلوں کے بارے میں درست اور غلط ہونے کی بات ’’تاریخ‘‘ کرتی ہے۔ لوگ آتے ہیں۔ دنیا فانی ہے۔ اقتدار سدا کسی کا نہیں رہتا۔ ’’منصب‘‘ بھی عارضی ہیں۔ پھر ریٹائرمنٹ ناگزیر ہے۔ آنا جانا محض کھیل ہے۔
’’چراغ سب کے بجھیں گے ہوا کسی کی نہیں‘‘
یہی رب ذوالجلال کی عظمت کی دلیل ہے۔ یہ بات تسلیم کرنی پڑے گی کہ عوام کے مقبول سیاسی رہنماؤں کا جادو اور سحر ایک مدت تک جاری رہتا ہے۔ قائداعظم ہوں‘ بھٹو ہوں یا جناب نوازشریف…!