آقاؐ، میری عرضی کی پکی منظوری فرما دیں

کالم نگار  |  سید سردار احمد پیرزادہ
آقاؐ، میری عرضی کی پکی منظوری فرما دیں

خواب انسان کے ساتھی ہیں۔ ان کی اصل حقیقت کیا ہے؟ یہ ابھی بھی ایک معمہ ہے۔ تاہم انسانی تاریخ میں ان کا ذکر ہمیشہ سے موجود ہے۔ خواب ازل سے انسان کے ساتھ جڑے ہیں اور شاید ابد تک جڑے رہیں گے۔ اس حوالے سے میں اپنے ایک خواب کو آج پہلی مرتبہ تحریر میں لارہا ہوں۔ وہ رات جب مجھے یہ خواب آیا عید میلاد النبیؐ کی رات تھی اور صبح عید میلاد النبیؐ تھی۔ آج جب یہ کالم شائع ہورہا ہے تو بھی عید میلاد النبیؐ کا ہی دن ہے۔ اس خواب کو بتانے سے پہلے تین پوائنٹس کی تشریح پہلے ہی کئے دیتا ہوںتاکہ خواب لکھنے کی ترتیب میں کوئی ابہام نہ رہے۔ پہلا پوائنٹ یہ کہ محترم محمود اختر صاحب میرے دیرینہ دوست ہیں۔ وہ ظاہری اور باطنی طور پر صوم و صلوٰۃ کے پابند ہونے کے ساتھ ساتھ ظاہری اور باطنی طور پر انسانیت سے بھرپور ہیں۔ محترم محمود اختر صاحب آج کل کی ہر ذاتی و اجتماعی اور سیاسی و غیرسیاسی پریشانیوں کا حل قرآن پاک اور احادیث مبارکہ سے نکالتے ہیں۔ وہ قطعاً روایتی مولوی نہیں ہیں اور نہ ہی کسی مدرسے یا مسجد کے امام ہیں۔ محترم محمود اختر صاحب روزگار کے حوالے سے انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد کے شعبہ میڈیا سے وابستہ ہیں۔ اُن کی اکثر گفتگو آئینہ ہوتی ہے جس میں اپنا چہرہ دیکھنے کے بعد بہت سے لوگ خوفزدہ ہوکر ناراض ہو جاتے ہیں۔ میرے خواب کی تشریح کے حوالے سے دوسرا پوائنٹ یہ ہے کہ بہت پہلے میں نے ایک روایت سنی جس میں کہا گیا تھا کہ کسی فرد کی بہت خواہش تھی کہ وہ مدینہ شریف میں دفن ہو۔ وہ شخص دن رات یہی دعا کرتا۔ جب اس کا آخری وقت آیا تو وہ مدینہ شریف سے ہزاروں میل دور اپنے ملک میں تھا۔ لہٰذا اسے وہیں دفن کردیا گیا۔ تدفین کے وقت اس کے خاندانی طریقے کے مطابق خاص کپڑے پر کلمہ طیبہ لکھ کر اس کے کفن پر ڈال دیا گیا۔ کچھ برسوں بعد اس کے عزیزو اقارب مدینہ شریف گئے۔ ان کے قیام کے دوران انہیں کسی کی وفات کے سلسلے میں مدینہ شریف کے قبرستان میں جانے کا اتفاق ہوا۔ قبر کی تیاری کے سلسلے میں کھدائی کے دوران انہیں ناقابل یقین حیرت سے دوچار ہونا پڑا۔ انہوں نے دیکھا کہ برسوں پہلے کلمہ طیبہ کی کشیدہ کاری سے مزین وہی مخصوص کپڑا جو انہوں نے اپنے رشتے دار کے کفن پر ڈالا تھا، یہاں کی مٹی سے نکلا ہے۔ وہ اس ناممکن حقیقت کو نہ سمجھ سکے۔ اسی رات ان کا وہی مرحوم رشتے دار جو مدینہ شریف میں دفن ہونے کی خواہش کرتا تھا انہیں خواب میں نظر آیا۔ اس نے بتایا کہ میری خواہش پوری ہوگئی تھی اور قدرت نے مجھے ہزاروں میل دور کی اُس مٹی سے مدینہ شریف کی اِس مٹی میں شفٹ کردیا۔ اسی لئے تمہیں کلمہ طیبہ والا وہ کپڑا ملا ہے۔ یہ روایت سنی سنائی تھی اور اس کی کوئی تصدیق بھی نہ تھی مگر میرے ذہن میں نہ جانے کیوں اثر چھوڑ گئی۔ تیسرا پوائنٹ کچھ اس طرح ہے کہ میں بے پناہ خواہش کے باوجود اب تک مکہ شریف اورمدینہ شریف نہیں جاسکا۔ اس درد کے لئے میں اپنے آپ کو یہی دلاسہ دیتا ہوں کہ فی الحال بلاوا نہیں آیا۔ لہٰذا مجھے مکہ شریف اور مدینہ شریف کی مختلف جگہوں کا اندازہ نہیں ہے۔ ان تین پوائنٹس کی تفصیلات کے بعد اب میں اپنے خواب کی طرف آتا ہوں۔ میں نے دیکھا کہ میں اور محترم محمود اختر صاحب روضہ شریف کی جالی کے سامنے کھڑے ہیں۔ میں روضہ شریف کی جالی کو بخوبی دیکھ سکتا ہوں۔ ہماری پوزیشن کچھ اس طرح تھی کہ ہمارا منہ روضہ شریف کی جالی کے دائیں کونے کے سامنے تھا۔ روضہ شریف سے ہمارا فاصلہ تقریباً پندرہ سے بیس فٹ دور تھا۔ عین اُسی وقت عصر کی اذان سنائی دیتی ہے۔ اذان کی آواز سن کر اردگرد موجود لوگ نماز کی ادائیگی کے لئے دوسری طرف جانے لگتے ہیں۔ میں محترم محمود اختر صاحب کو کہتا ہوں کہ کاش یہ نماز یہیں ادا ہو جائے۔ تھوڑی دیر بعد مجھے احساس ہوتا ہے کہ بہت سے لوگ اُسی جگہ جہاں ہم کھڑے تھے آکر باجماعت نماز کے لئے صفیں بناتے ہیں۔ ہم سب کا رخ قبلے کی طرف ہوتا ہے مگر روضہ شریف کے قریب۔ میں پہلی صف کے دائیں طرف پہلے نمبر پر کھڑا ہوتا ہوں جبکہ محترم محمود اختر صاحب میرے بائیں طرف دوسرے نمبر پر ہوتے ہیں۔ جب ہم امام صاحب کے ساتھ پہلے سجدے میں جاتے ہیں تو مجھے زمین کے اندر کچھ دکھائی دیتا ہے۔ غور کرنے پر میں حیرت سے کانپ جاتا ہوں۔ میں دیکھتا ہوں کہ ہمارے سجدوں کی زمین کے نیچے دو ساتھ ساتھ قبریں ہیں۔ میں اپنے سجدے کی زمین کی قبر میں ہوں اور محترم محمود اختر صاحب میرے ساتھ اپنے سجدے کی زمین کی قبر میں ہیں۔ اسی وقت میرے دل میں خیال آتا ہے کہ اے کاش کہ یہیں ہماری قبریں ہوتیں لیکن پھر سوچتا ہوں کہ یہ کیسے ممکن ہوسکتا ہے کیونکہ اس جگہ تو کسی کی قبر نہیں ہوسکتی۔ بالکل اسی وقت میرا دھیان اوپر بتائی گئی اس روایت کی طرف جاتا ہے جس میں بتایا گیا تھاکہ مرحوم ہزاروں میل دور مدفون ہوئے لیکن رب نے ان کی خواہش پوری کی اور روحانی طور پر وہ مدینہ شریف کی مٹی میں شفٹ ہو گئے۔ میںسوچتا ہوں کہ شاید ہم پر بھی یہ نظرکرم ہو جائے۔ اس کے فوراً بعد میری آنکھ کھل جاتی ہے اور تھوڑی دیر بعد فجر کی اذان بلند ہوتی ہے۔ یہ عید میلاد النبیؐ کی فجر کی اذان تھی۔ برسوں پہلے دیکھے گئے اس خواب کے بعد میں سوچتا ہوں کہ جن پر حقیقت میں آقاؐ کی نظرکرم ہوتی ہوگی اُن کا کیاحال ہوگا کیونکہ صرف خواب کے نشے نے مجھے جس طرح مسرور کیا ہے اس کا بیان ناممکن ہے۔ میں سوچتا ہوں کہ جن پر حقیقت میں آقاؐ کی نظرکرم ہوتی ہوگی وہ اپنے اوپر کتنے نازاں ہوتے ہوںگے کیونکہ صرف خواب کے بعد میں اپنے آپ میں جتنا اتراتا ہوں اُس کا بیان ممکن نہیں۔ بس بار بار یہی کہتا جاتا ہوں کہ یا رسول اللہؐ میری عرضی کی پکی منظوری مرحمت فرما دیں۔ میں ہر طرح سے گناہ گار ترین ہوں لیکن ایک فخر ہے کہ میں آقا کا ادنی ترین غلام ہوں۔

فاصلوں کو تکلف ہے ہم سے اگر
ہم بھی بے بس نہیں بے سہارا نہیں
خود انہی کو پکاریں گے ہم دور سے
راستے میں اگر پائوں تھک جائیں گے