’’جاء رسول اللہ‘‘

کالم نگار  |  مسرت قیوم
’’جاء رسول اللہ‘‘

’’جاء رسول اللہ‘‘ اللہ کے رسول تشریف لائے۔ چھوٹے چھوٹے بچے گلی کوچوں میں خوشی سے پھرتے، جھومتے استقبالی گیت گا رہے تھے۔ خبر پہنچی تھی کہ ’’یثرب‘‘ میں ’’حضور پرنورؐ‘‘ تشریف لانے والے ہیں۔ یہ ذکر ہے اس دور کا جب آقا دو جہاںؐ مدینہ منورہ تشریف لائے تھے۔ لوگوں کی خوشی دیدنی تھی۔ ہر چیز راہ میں لٹا دینے، خود کو مٹا دینے کا جذبہ ٹھاٹیں مار رہا تھا۔ ہر بوڑھا، بچہ، عورت، جوان راستے میں کھڑا منتظر تھا کہ کب آنکھیں ٹھنڈک سے سرفراز ہوتی ہیں۔ ہر شخص نے اپنی بساط کے مطابق جشن منایا ہر کوئی میزبانی کے لئے بے قرار۔یہ تو ایک شہر سے دوسرے شہر میں آمد مبارکہ تھی۔ جب رب رحمان نے اپنے حبیب باعث تخلیق کائنات کو دنیا میں مبعوث فرمایا تو مشرق سے مغرب تک ہر شے، ہر ذرے کو نور حق سے روشن کر دیا۔ پہاڑوں کی بلند چوٹیاں چمک اٹھیں۔ باطل، کفر کی ہر علامت، نشانی اندھیرے میں ڈوب گئی۔ درخت، پرندے خوشیوں سے حمد پڑھنے لگے۔ حمد و ثنا میں پتھر بھی پیچھے نہ رہے کیونکہ کائنات کو ایک عظیم الشان، بے مثل تحفہ عطا فرمایا جا رہا تھا۔ ایسا انمول قیمتی گرانقدر ہستی تشریف لا رہی تھیں جن کا رتبہ عظمت بیان کرنے لگیں تو سو زندگیاں کم پڑ جائیں۔ پوری دنیا کی سیاہی، قلم ختم ہو جائیں مگر ایک حرف مدح ثنائی کا حق بھی ادا نہ کر سکے۔ ہمارے لئے اتنا جاننا کافی ہے کہ اللہ تعالیٰ رحیم کریم کے بعد حضور اکرمؐ کا درجہ ہے۔اللہ تعالیٰ ذی شان نے نزول مبارکہ کے پرسعادت لمحہ پر پورے عالم کو رحمت، روشنی سے تاباں کر دیا تو سفر معراج پر بھی اپنے محبوب کے استقبال پر ساتوں آسمانوں کو نور سے منور فرما رکھا تھا۔

آج 12 ربیع الاول کا بے حد متبرک مبارک دن ہے۔ دو ہفتہ قبل سے گلیاں، محلے، سڑکیں برقی قمقموں، آرائشی اشیا سے سجنا شروع ہو گئی تھیں۔ تجارتی مراکز سے رہائشی علاقوں تک اک جوش، جشن کی کیفیت ہے۔ صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ عالم اسلام میں آمد مبارکہ کی تقاریب جلسوں کا سلسلہ جاری ہے۔
محمد عربی رسول مقبولؐ کو اللہ تعالیٰ کریم نے باطل کو مٹانے واسطے مبعوث فرمایا۔ حق سچ کے بول بالا کے لئے دنیا میں بھیجا۔ مدینہ والوں نے اطاعت کا حق ادا کر دیا۔ جانثاری، خدمت گزاری اور اسلام کی سربلندی کے لئے اپنے سر کٹوا ڈالے۔ رب کائنات کے آخری نبی مکرم نے اپنے خالق کے احکامات، فرامین پر عمل درآمد میں جانگسل لمحات، تکلیف دہ واقعات کو بھی سدراہ نہ بننے دیا۔ آخری سانس مبارکہ تک اپنی امت کے لئے دعا فرماتے۔ آنسو بہاتے رہے۔ آنسو مبارکہ بخشش، عافیت کے لئے تھے اپنے لئے نہیں ہمارے لئے… ہم جو امت محمدیہ ہیں۔ ہم جو ان کے ماننے والے ہیں۔ کیوں دو منٹ کے لئے بیٹھ کر یہ نہیں سوچتے کہ بعثت نبوی کا مقصد کیا تھا؟ کیا محبت کے اظہار کے لئے ظاہری افعال کافی ہیں۔ اس دل کی صفائی ضروری نہیں جو کفر اور اس کی علامتوں کے بت کو سجائے ہوئے ہے۔ اکیلا قولی اقرار بچا پائے گا جب عمل کا خانہ خالی ہے، نیت درست راستے سے بھٹکی ہوئی ہو۔ دماغ شیطانی افعال کے گرداب میں مبتلا ہو۔ ہم لاکھوں روپے چراغاں پر خرچ کرتے، پکوان بنا کر تقسیم کرتے ہیں۔ کوئی برائی نہیں۔ محبت کے تمام مظاہر اچھے ہیں مگر عمل کے بغیر چراغ نہیں جلنے والا۔ ارادہ، عمل تیل ہیں۔ ڈالیں گے تو طاقچے روشن ہوں گے۔ ہم جو ’’ان‘‘ کے متوالے ہیں جانثار کہلاتے ہیں کفر کو رد کرنے کی بجائے کفار کے بازو بن گئے۔ یمن سے شام تک ایک آگ لگی ہے حسد کی، قوم پرستی کی، ذاتی مفادات، اقتدار کی ہمیشہ کے لئے قبضہ کی جنگ کے ہولناک شعلوں کی تپش کفار کو نہیں صرف مسلمانوں کو جلا رہی ہے۔ ہمارے ہم دین، پیسے ہمارے، علاقے ہمارے، ہتھیاروں کی خرید بھی ذاتی پیسوں سے، واحد جنگ نہیں۔ دنیا میں جہاں بھی کفار نے فساد ڈلوایا انسانوں کے سر سے لیکر وسائل تک امت مسلمہ کے استعمال ہوئے۔ آج بھی وہی عالم ہے وہی روایتی الزامات، ہتھکنڈے مناظر ہیں۔ دشمن قوتوں کی صرف منصوبہ بندی استعمال ہوتی ہے۔ اسلحہ ساز فیکٹریاں چلتی ہیں، ہر دو طرف سے ساہوکار روپیہ سمیٹتے ہیں۔ ان کے علاوہ بھی پوری امت کے اشرافیہ کی دولت یورپی تجوریوں میں محفوظ ہے۔ یہ اٹل حقیقت ہے کہ ہم کچھ بھی کر لیں وہ ہرگز رام نہیں ہوں گے حتیٰ کہ زیر نگیں ممالک کی چابیاں بھی ان کے حوالے کرنے سے سازشیں، جنگیں، افراتفری نہیں رکنے والی کیونکہ اصل معاملہ ایمان کا ہے۔ جب تک ایک بھی شخص میں ایمان کی رمق باقی ہے تب تک امت کا کڑا وقت چلتا رہے گا۔ کتنا اچھا ہوتا کہ ہم اپنے وسائل اپنی حیات کے شب و روز کو خالق کائنات کی فرمانبرداری احکامات کی تعمیل پر صرف کرتے تو آج یوں گاجر مولی کی طرح کٹ نہ رہے ہوتے۔بڑا اچھا لگا کہ پنجاب میں میلاد النبیؐ کی تقریبات کو سرکاری طور پر منایا جانے کا اعلان جوش جذبہ تو کسی میں بھی کم نہیں۔ جوش تو تب بھی عروج پر تھا بیرونی مداخلت کا شاخسانہ تھا یا ’’حکم‘‘ کی اندھا دھند تقلید صرف ایک ایوان کے اراکین کی تعداد 400 سے زائد کسی نے بھی پڑھنے کی زحمت گوارا نہیں کی۔ یقین نہیں آتا۔ اتنی بڑی تعداد میں کم از کم 50-100 نے ضرور پڑھا ہو گا۔ ڈھٹائی سے دبکے رہے۔ 22 روزہ دھرنے پر بھی نہ چونکے جب لوگوں نے گھروں کی طرف رخ کیا تو منظوری کے وقت جوش دکھانے کی رفتار سے زیادہ الٹے پائوں بھاگ اٹھے کیا حرمت سے زیادہ عارضی دنیا کے مٹی گارے کے بنے گھروں کی نعوذ باللہ اہمیت ہے؟ اس فانی وجود کی فکر نے استعفوں کی تکرار، رجوع کی طرف پلٹا دیا جس کا مقدر ہر متعین مدت کے بعد خاتمہ ہے۔
قارئین انسانی وجود کی قدر اس مٹی سے بھی کم ہے جو بوقت دفن قبر کھود کر نکالی جاتی ہے۔ خالی گڑھا بھی خالی نہیں رہتا۔ مٹی کی جگہ انسانی گوشت کے پیکر کو اندر ڈال دیا جاتا ہے۔ اس مٹی کی جگہ پر کرنے کے لئے جو تدفین واسطے نکالی گئی تھی پھر وہ وجود بھی مٹی بن جاتا ہے۔ صرف اعمال کام آئیں گے۔ نیک اعمال، پے در پے معافیاں، رجوع صرف جان کے لالے پڑنے پر کیوں جبکہ جانتے ہیں انسان کا عمل مردہ کرتا ہے یا زندہ رکھتا ہے۔ جس دین کی اندھا دھند تقلید بنتی ہے اس کی بجائے دنیاوی بتوں کی، اتنی غفلت قصداً کوتاہیاں۔ اللہ تعالیٰ غفور الرحیم سے دست بستہ فریاد کناں ہیں کہ وہ ہم سب کو ہمیشہ کے لئے معاف فرما کر بخش دیں آمین۔ دعا گو ہوں کہ اپنے نبی رحمتؐ کی اسوہ حسنہ پر چلنے کی توفیق ہمت عطا فرما کر ایمان اور عقیدہ توحید کی مضبوطی کے ساتھ خاتمہ بالخیر فرمائیں۔ آمین۔