یاد رفتگان .... م ش

کالم نگار  |  عزیز الرحمن میاں

ممتاز صحافی اور سیاستدان میاں محمد شفیع کو جو کہ صحافی حلقوں میں اپنے نام سے زیادہ اپنے قلمی نام سے جانے اور پہچانے جاتے ہیں ہم سے بچھڑے بیس برس کا عرصہ ہو گیا ہے لیکن ان کی یادیں ان کی تحریروں اور کالموں کی بدولت آج بھی دلوں میں تازہ ہیں اور ان کا نام صحافتی برادری میں عزت و احترام سے لیا جاتا ہے۔ م ش کی جدوجہد اور صحافتی زندگی 57سال پر محیط تھی۔ انہوں نے اسلامیہ کالج اور ایف سی کالج سے انگریزی ادب اور سیاسیات میں مسٹرز ڈگریاں حاصل کرنے کے بعد 1936ءمیں پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز بطور کا رپورٹر کیا۔ اس وقت کے انگریزی دور میں پریس برانچ بڑی موثر تھی اور اخبارات کے اداریے اور مضامین اعلیٰ افسروں کو برائے ملاحظہ بھجوائے جاتے تھے۔ ہندو تو اپنے مفادات کی حفاظت کرتے تھے لیکن مسلمانوں کا کوئی پرسان حال نہ تھا۔ پریس برانچ کے سپرنٹنڈنٹ چودھری محمد حسین علاقہ اقبال کے معتقدین میں سے تھے۔ دفتر کے بعد زیادہ وقت علامہ کے پاس گزارتے تھے۔ م ش کو جو خود بھی علاقہ کی خدمت میں حاضر رہتے تھے جب حالات سے آگاہی ہوئی تو فیصلہ کیا کہ وہ بجائے سرکاری ملازمت کے صحافت کو بطور پیشہ اپنائیں گے۔ م ش نے طالب علمی کے دور میں ایک سماجی تنظیم انٹرکالجیٹ مسلم برادر ہڈ آرگنائزیشن جو کہ پہلے سے موجود تھی میں شرکت اختیار کر لی اور اس کی صدارت کے فرائض بھی انجام دیتے رہے۔ اور اسی نسبت سے ان کا رابطہ علاقہ اقبال سے ہوا۔ م ش اسلامیہ کالج میں جناب مجید نظامی کے ساتھی تھے۔ دیگر ساتھیوں میں مولانا عبدالستار خان نیازی، شیخ انوارالحق (جو بعد میں چیف جسٹس کے عہدہ پر فائز رہے) اور بہت سی قابل قدر ہستیاں جنہوں نے تحریک پاکستان میں حصہ لیا شامل تھے۔
م ش نے اپنی صحافتی ذمہ داریوں کا آغاز سول اینڈ ملٹری گزٹ کے رپورٹر کی حیثیت سے کیا اور اپنی قابلیت اور محنت کی بدولت جلد رپورٹرکے عہدہ پر ترقی پائی جو کہ اس وقت ایک مسلمان کے لئے بڑا اعزاز تھا.... ترقی پانے کے بعد قائداعظم کو ایک خط لکھا کہ وہ اپنے آپ کو مسلم لیگ کا ادنیٰ رکن سمجھتے ہیں اور اس کے مفادات کو پیش نظر رکھ کر اپنی ذمہ داریاں نبھاتے رہیں گے۔ جب سردار بلدیو سنگھ نے سول اینڈ ملٹری گزٹ کے زیادہ حصص خرید لئے تو اعتراض کیا کہ م ش کی رپورٹنگ کا زیادہ جھکاﺅ مسلم لیگ کی طرف ہے اور ان کا تبادلہ پشاور کر دیا۔ اس پر م ش نے احتجاجاً استعفیٰ دے دیا۔ نوائے وقت نے اس پر اداریہ لکھا اور قائداعظم نے بھی اس کا نوٹس لیا۔ بعد میں م ش نے نوائے وقت میں شرکت اختیار کر لی۔ علاوہ ازیں وہ ڈان اور پاکستان ٹائمز کے چیف رپورٹر بھی رہے۔ م ش ایک پیشہ ور صحافی تھے۔ ایک دن مسٹر میکڈانلڈ جو کہ پنجاب کے ہوم سیکرٹری تھے نے تمام صحافیوں کو بلایا اور کہا کہ وہ صرف وہ چھاپیں گے جس کی منظوری حکومت پنجاب دے گی۔ م ش جو وہاں موجود تھے او جن کے ہوم سیکرٹری سے اچھے تعلقات تھے نے برملا کہا کہ آپ نے اپنی ڈیوٹی کر لی۔ اب ہم اپنی ڈیوٹی کریں گے۔ اور اگلے دن ہی ایک مجمع پر لاٹھی چارج کی تفصیلی رپورٹ ڈان کو بھجوا دی جس کی پاداش میں ڈان کا داخلہ پنجاب میں بند کر دیا گیا۔ م ش تحریک پاکستان کی رپورٹنگ بڑی جرات اور مردانگی سے کرتے تھے اور بار بار تنبیہ کے باوجود اپنے ڈسپیچ بھیجتے رہے جس پر ان کو گرفتار کر کے ملتان جیل میں پابند سلاسل کر دیا گیا اور بعد میں قید تنہائی میں ڈال دیا گیا۔ پنجاب کے آخری گورنر اپنی ڈائری میں لکھتے ہیں کہ ایک دن لیاقت علی خان ان کے پاس آئے اور م ش کو جیل میں رکھنے کا سبب دریافت کیا۔ ان کو بتایا گیا کہ م ش سنسر شپ قوانین کی مطلق پرواہ نہیں کرتے۔ لیاقت علی خان کے کہنے پربعد میں جیل میں م ش کی سی کلاس ختم کر کے اے کلاس کر دی گئی۔ ان کی رہائی 15اگست 1947ءکو پنجاب کے پہلے وزیراعلیٰ نواب ممدوٹ کے حکم پر عمل میں آئی۔ م ش نے لارڈ ماﺅنٹ بیٹن کے ساتھ شمالی ہندوستان کا دورہ کیا اور ان کے ساتھ درہ آدم خیل بھی گئے اور وہاں سے اخبار کے لئے ڈسپیچ بھیجتے رہے۔ جب جناب حمید نظامی صاحب نے نوائے وقت شروع کیا تو م ش اس میں مضامین لکھتے تھے۔ نوائے وقت نے تحریک پاکستان میں بڑا کلیدی کردار ادا کیا۔ جناب حمید نظامی صاحب کے انتقال پر جناب مجید نظامی نے ادارت سنبھالی تو م ش نے باقاعدہ طور پر اس میں لکھنا شروع کر دیا اور 32سال تک م ش کی ڈائری اور کالم نوائے وقت کی زیت بنتے رہے۔
م ش کمال کا حافظہ رکھتے تھے۔ برسو پرانے واقعات تفصیل کے ساتھ ایسے یاد تھے جیسے کل کی بات ہو۔ وہ ہندوستان میں مسلمانوں کی تحریک آزادی کی متحرک تاریخ تھے۔ م ش کی ڈائری کے علاوہ انہوں نے اپنی سوانح عمری ”پدرم کسان بود“ لکھتی شروع کی۔ ایک مرتبہ کسی نے کہا کہ غلام مصطفی جتوئی اپنے آپ کو کسان کہتے ہیں تو نام بدل کر ’پدرم دہقان بود‘ رکھ دیا۔ نوائے وقت سے لگاﺅ اس قدر تھا کہ عمر کے آخری حصے میں جب ان کی بینائی بہت کمزور ہو چکی تھی۔ وہ اپنے کالم اور مضامین اپنے حافظے کے زور پر سن اورتاریخ کے صحیح حوالوں کے ساتھ لکھواتے ۔ ان کے کالم قارئین کے لئے انسائیکلو پیڈیا کی حیثیت رکھتے تھے۔ م ش کے جناب مجید نظامی سے بڑے گہرے تعلقات تھے۔ وہ ان کی بڑی عزت کرتے تھے۔ جب لارڈ دیول نے شملہ میں آل پارٹیز کانفرنس بلائی تو م ش اور نظامی صاحب ایک ہی گاڑی میں شملہ گئے اور نواب مشتاق گورمانی کے گھر ٹھہرے۔ یہاں یہ ذکر کرنا بیجا نہ ہو گا کہ نواب گورمانی صاحب نظامی سے بے حد محبت کرتے تھے اور وہ واحد شخص تھے جو انہیں حمید کے نام سے پکارتے تھے۔ نظامی کے انتقال پر نواب گورمانی اس قدر رنجیدہ اور مغموم ہوئے کہ انہوں نے پہلی عید نہ منائی حتیٰ کہ اپنی بیٹیوں کو عیدی تک نہ دی۔
م ش کو قائد اعظم اور علامہ اقبال کے ساتھ اپنے تعلقات پر بڑا فخر تھا۔ وہ علامہ اقبال کے کاتب کے طور پر کام کرتے تھے۔ خاص طور پر وہ خط و کتابت جو علامہ اقبال اور قائداعظم کے درمیان ہوتی تھی.... وہ کہا کرتے تھے کہ انہیں فخر ہے کہ انہیں جناح اقبال خط و کتابت میں میرمنشی ہونے کا غیرفانی اعزاز حاصل تھا۔ علامہ اقبال کی زندگی کے آخری ایام میں م ش زیادہ وقت ان کے پاس گزارتے تھے۔ 1938ءکے اوائل میں جب پنڈت جواہر لال نہرو علامہ اقبال سے ملنے لاہور آئے تو ان کے استقبال کے لئے م ش اور فرزند اقبال جناب ڈاکٹر جاوید اقبال کو مامور کیا گیا۔ جنہوں نے جاوید منزل کے پورچ میں نہرو کو خوش آمدید کہا۔ م ش اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں کہ ایک دن ایک خط آیا جس میں علامہ کے لئے درازی عمر کی دعا کی گئی تھی۔ خط سننے کے بعد علامہ نے فرمایا کہ ”یہ مسلمانوں کی مہربانی ہے کہ میرے لئے دعاکرتے رہتے ہیں۔ ورنہ میں تو اپنا مشن مکمل کر چکا ہوں۔ ”پدرم کسان بود“ میں م ش نے علامہ اقبال کی زندگی کے آخری لمحات کا ذکر کیا ہے۔ لکھتے ہیں کہ ”علامہ انتہائی تکلیف میں تھے اور میں اور علی بخش ان کے شانے اور پاﺅں دباتے رہے۔“ قائداعظم سے بھی م ش کو حد درجہ عقیدت تھی۔ م ش کے نام قائداعظم کے دستخط شدہ کئی خطوط ریکارڈ پر موجود ہیں۔ راقم نے ایک ہی ایسی نادرگروپ فوٹو دیکھی ہے جس میں م ش قائداعظم کے قدموں میں بیٹھے ہوئے ہیں۔
م ش اپنے وقت کے اعلیٰ اور دبنگ قسم کے صحافی تھے۔ وہ خبر حاصل کرنے کے لئے بعض اوقات انوکھے طریقے استعمال کرتے تھے۔ جب خان عبدالغفار خان کو پنجاب حکومت نے گرفتار کر لیا تو م ش نے ویٹرکا بھیس بدل کر ان کا انٹرویوکیا۔ جب یہ انٹرویو چھپا تو وزیراعلیٰ پنجاب میاں ممتاز دولتانہ اورگورنرآئی آئی چندریگر بہت شیخ پا ہوئے اور م ش کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا۔ اسی طرح جناح سکندر ملاقات میں بھی جہاں صحافیوں کا داخلہ منع تھا م ش نے بھیس بدل کر رسائی حاصل کر لی اور اخبارکو رپورٹ ارسال کی۔
م ش پنجاب اسمبلی کے رکن رہے۔ مجلس شوریٰ کے ممبر نامزد ہوئے۔ پنجاب مسلم لیگ کے سیکرٹری جنرل کے طور پرکام کرتے رہے۔ پنجاب یونیورسٹی کے سینٹ کے ممبر بھی منتخب ہوئے۔ 1985ءکے غیرجماعتی انتخابات میں حصہ لینے کے دوران م ش گردوں کے موذی مرض میں مبتلا ہوئے اور یہی مرض یکم دسمبر 1993ءکو جان لیوا ثابت ہوا۔وہ حد درجہ خوددار انسان تھے۔ انہوں نے صدر پاکستان کی پیشکش کہ انہیں سرکاری خرچ پر بیرون ملک علاج کے لئے بھجوایا جائے یہ کہہ کر ٹھکرا دی کہ جب اس مرض کا علاج پاکستان میں موجود ہے تو بیرون ملک جا کر حکومت کا اتنا خرچ کروانے کا کیا فائدہ.... وفات سے پہلے وہ پہلے وہ شعر گنگناتے رہے
رو میں ہے رخش عمر کہاں دیکھئے تھمے
نے ہاتھ باگ پر ہے نہ پا ہے رکاب میں
ان کے جنازے میں جناب مجید نظامی سمیت مختلف مکاتب فکر اور شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی قابل ذکر شخصیات نے شرکت کی۔ ملک کی سیاسی، سماجی اور ادبی شخصیات اور صحافی برادری نے ان کے گھر حاضر ہو کر تعزیت کی اور تعزیتی کتاب میں اپنے تاثرات رج کئے۔ 1988ءمیں حکومت کی طرف سے م ش کے لئے تمغہ حسن کارکردگی کا اعلان کیا گیا تھا لیکن نومبر 1988ءمیں محترمہ بینظیر بھٹو، وزیراعظم نے اقتدار میں آنے کے بعد یہ اعزاز منسوخ کر دیا لیکن م ش کے انتقال پر ان کی طرف سے تعزیتی پیغام میں م ش کو قائداعظم کا وفادار ساتھی اور ایک legendary figure قرار دیا گیا۔
ہائے اس زود پشیماں کا پشیماں ہونا
بعد ازاں غلام اسحاق خان صدر پاکستان نے ان کو ستارہ امتیاز سے نوازا۔ 1994ءمیں پشاور یونیورسٹی کے شعبہ صحافت میں ماسٹرز ڈگری کے لئے م ش پر ایک تھیسز بھی لکھا گیا۔ م ش جنہوں نے نصف صدی تک اپنے قلم کا لوہا منوایا ایک عہد ساز شخصیت تھے۔ جناب حنیف رامے نے تعزیتی کتاب میں اپنے تاثرات قلمبند کرتے ہوئے دریا کو کوزے میں بند کر دیا۔ لکھتے ہیں ”م ش کی ذات ایک ڈرامہ تھا جس کے تین کردار تھے، پاکستان، قائداعظم اور علامہ اقبال۔“
حق مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھا