وزیر داخلہ؟ یا ....

کالم نگار  |  رفیق غوری

قارئین کرام اگر آپ ہماری بات کو دخل در معقولات کا نام نہ دیں یا محض فضولیات نہ سمجھیں تو ہمیں اس پر ذاتی طور پر بڑا دکھ ہے کہ ہمارے وزیر اطلاعات صاحب وزیر داخلہ کے ساتھ ساتھ وزیر اطلاعات ہی نہیں اپنے خیال میں ماہر نفسیات بھی بن چکے ہیں۔ دیکھ لیں پچھلے دنوں محرم کے باحرمت مہینہ میں حالات کو اپنے خیال میں خراب ہونے سے بچانے کے لئے وفاقی حکومت کے اس ہونہار سپوت نے موبائل، ٹیلی فون اور وائرلیس فون کے بند کرنے پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ پاکستان بھر میں موٹر سائیکل پر جس طرح پابندی عائد کی اور اس کی چیکنگ کا اعلان فرمایا گیا ہمیں اس پر یہ شعر یاد آ گیا....
بچپن سے لکھی گئی تھی مقدر میں اسیری
ماں باپ مگر کہتے تھے دل بند جگر بند
سوچئے اب وزیر داخلہ صاحب جس بات پر اپنی تعریف کروانا چاہتے ہیں اور چاہتے ہیں ان کے لئے تحسین و آفرین کے ڈونگرے برسائے جائیں کیا وہ اس بات کے حقدار ہیں۔ گویا کل دودھ میں پانی ملائے جانے پر اس کا علاج یہ کیا جا سکتا ہے کہ پانی کی قیمت دودھ کے برابر کر دی جائے اگر دوائیاں ٹھیک طرح اور کم قیمت پر نہیں ملتیں تو کیا لوگ علاج کروانا چھوڑ دیں؟ اسی طرح وزیر داخلہ صاحب نے بحیثیت وزیر، مشیر جو، جو کچھ کیا، جو، جو چاند چڑھائے ان پر ہمیں ماضی کے کافی وزرائے داخلہ یاد آ گئے۔ کبھی نسیم .... .... صاحب وزیر داخلہ ہوا کرتے تھے۔ ان سے پہلے جنرل حبیب اللہ ایوبی دور میں اس منصب پر تھے۔ یحیٰی خان کے دور میں کیا ہوا اس کا ذکر نہیں کرتے کہ شراب خانہ خراب اور باسی کباب کی بسان نہ آنے لگے۔ویسے ایک وزیر داخلہ اسلم خٹک مرحوم بھی ہمارے ذاتی ممدوح جنرل ضیاءالحق کے دور میں ہوا کرتے تھے۔ چودھری شجاعت حسین بھی تھوڑے عرصے کےلئے وزیراعظم بننے سے پہلے وزیر داخلہ تھے اور یہ موصوف کی پسند کی وزارت تھی اور ہے۔ وزیر داخلہ چودھری اعتزاز احسن بھی رہے۔ موصوف نے یہ وزارت کس طرح چلائی اور کس حال میں ان کا مبینہ طور پر سکھوں کی لسٹوں بھرا بریف کیس کہیں راہ میں کھو گیا تھا اس پر بہت کچھ کہا جا سکتا ہے مگر چپ ہی بھلی۔ چودھری شجاعت حسین جیسا بردبار شخص وزیراعظم میاں نواز شریف کی وزارت کے اہم وزیر ہوا کرتے تھے۔ موصوف نے تب مرحومہ بے نظیر بھٹو کو بیرون ملک بھیجنے کےلئے کیا کیا کردار ادا نہ کیا! اور آج کے منتخب صدر جناب آصف علی زرداری کو جن جن مقدمات میں پھنسوایا گیا تھا اور جس طرح میاں بیوی کو بچوں سمیت بیرون ملک جانے کا اہتمام کیا تھا۔ وہ بھی تو سوچنے کی بات ہے مگر کتنا سوچیں گے؟ کیسے سوچیں گے؟ کہ لفظ سوجھیں گے تو معنی بغاوت کر جائینگے اس لئے یہ کہہ کر آگے نکلتے ہیں۔
(سوچی پئیا تے بندہ گیا‘ (مٹی پاﺅ تے اگے ودھو“ کافی وزرائے داخلہ اور کافی حکومتیں یاد آ رہی ہیں مگر بات لمبی ہو جائے گی۔ چلتے چلتے دو تین وزرائے داخلہ کا ذکر کر لیتے ہیں۔ ایک وزیر داخلہ جنرل نصیراللہ بابر ہوا کرتے تھے۔ یہ وہ نصیراللہ بابر ہیں جن کی کوششوں، کاوشوں سے ان تمام شخصیات اور خاندانوں کا پتہ چلا تھا جو پاکستان میں اس جرم کے چشم دید گواہ ہیں جس کے سبب صدر غلام اسحاق خان مرحوم، جنرل (ر) نسیم بیگ اور جنرل (ر) نصیراللہ بابر کے بیان حلفی سے آگاہ و باخبر تھے۔ یہ بات اب کم لوگ ہی بیان کرتے ہیں کہ جنرل نصیراللہ بابر ان طالبان کو جنہیں موجودہ وزیر داخلہ ظالمان کہتے ہیں انہیں اپنے بچے کہتے نا تھکتے تھے۔ ایک اور وزیر داخلہ بھی یاد آ رہے ہیں جن کا نام نامی خان عبدالقیوم خان مرحوم تھا۔ مرحوم کی کافی باتیں یاد آ رہی ہیں مگر احتیاطاً ایک بات بتانے کے بعد اجازت چاہتے ہیں کہ اس وزیر باتدبیر کو جب ایک نالی دو نالی تھری ناٹ تھری کلاشنکوف کی بجائے توپ کا لائسنس دینے کی درخواست دی گئی و موصوف نے لائسنس دینے کی سفارش بغیر درخواست پڑھے ہی کر دی اور اب کی بار دیکھیں کہ ہمارے وزیر داخلہ بچوں کے ہاتھوں میں بھی پستول، بندوق جیسے کھلونے نہیں دیکھنا چاہتے ہیں کہ اس میں تربیت میں خلل پڑتا ہے اور یہ بچے بڑے ہو کر امن عامہ کو خراب کرنے میں جت جاتے ہیں۔بس قارئین! آپ ہی غور کریں جس طرح آج امن عامہ کی صورتحال خراب ہے اس سے بڑھ کر بھی کوئی خرابی آ سکتی تھی؟ احتیاطاً ہم نے موبائل کے بم بننے کی بات کرنا آج ٹھیک نہیں سمجھا۔