نظریہ پاکستان سے زیادہ ریاست کی اہمیت؟

کالم نگار  |  محمد آصف بھلّی

گورنر خیبر پی کے بیرسٹر مسعود کوثر نے پشاور یونیورسٹی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ نظریہ پاکستان سے زیادہ ریاست کی اہمیت ہونی چاہئے کیوں کہ نظریہ وقت کے ساتھ بدلتا رہتا ہے۔ گورنر صاحب نے روس‘ چین اور یورپ کا بھی حوالہ دیا کہ ان ممالک نے وقت کے ساتھ ساتھ اپنے نظریات تبدیل کر لئے۔ روس میں کمیونزم تھا لیکن پھر اس میں تبدیلی آگئی۔ مسعود کوثر کا تعلق پیپلز پارٹی سے اور پیپلز پارٹی نے ہی انہیں صوبہ خیبر پی کے کا گورنر بنایا ہے۔ پیپلز پارٹی جب معرض وجود میں آئی تھی تو اس کی پالیسی اور اساسی اغراض و مقاصد کے دو بنیادی ستون یہ بھی تھے کہ اسلام ہمارا دین ہے اور سوشلزم ہماری معیشت ہے۔ سوشلزم ہماری معیشت ہے کے نعرے کو تو پیپلز پارٹی اب یقیناً چھوڑ چکی ہے۔ بے نظیر بھٹو کے دونوں ادوار اور پیپلز پارٹی کے موجودہ دور حکومت میں حکمرانوں کا ایک اقدام بھی سوشلزم کے مطابق نہیں کیا گیا لیکن جہاں تک اسلام ہمارا دین ہے کا تعلق ہے۔ اس حوالے سے میرا یقین ہے کہ پیپلز پارٹی نے آج بھی اپنا یہ اساسی اصول تبدیل نہیں کیا۔ اگر ”اسلام ہمارا دین ہے“ کے اصول کو سوشلزم کی طرح پیپلز پارٹی چھوڑ چکی ہے تو کم از کم مجھے اس کا علم نہیں۔ ویسے گورنر مسعود کوثر کے علم کے لئے گزارش ہے کہ دین اسلام سوشلزم یا کمیونزم نہیں ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ تبدیل ہو جائے گا۔ دین اسلام تو اپنی ازدلی اور ابدی صداقتوں کے ساتھ قیامت تک اسی شکل میں قائم رہے گا۔ میں گورنر مسعود کوثر کو قائداعظمؒ کی تعلیمات کا حوالہ بھی نہیں دینا چاہتا کیوں کہ جس شخص کو نظریہ پاکستان اور ریاست میں سے کس کی اہمیت زیادہ ہے کا صحیح شعور نہیں وہ قائداعظمؒ کے فرمودات کو کیسے سمجھ سکتا ہے۔ بیرسٹر مسعود کوثر کے بھائی احمد فراز نے مجھے ایک انٹرویو دیتے ہوئے سیالکوٹ کو شاعروں کا قبلہ و کعبہ قرار دیا تھا کیوں کہ علامہ محمد اقبال سیالکوٹ میں پیدا ہوئے تھے اور احمد فرار‘ فیض احمد فیض کی طرح علامہ اقبال کا بے پناہ احترام اور تعظیم کرتے تھے۔ لیکن میں گورنر مسعود کوثر کو علامہ اقبال کی شاعری اور نثری ارشادات کا حوالہ بھی نہیں دینا چاہتا کیوں کہ اگر وہ فکر اقبال کو سمجھنے کی صلاحیت سے بہرہ مند ہوتے تو ان کی زبان سے کبھی یہ کلمات ادا نہ ہوتے کہ نظریہ پاکستان سے زیادہ اہمیت ریاست کی ہونی چاہئے۔ میں گورنر مسعود کوثر کو صرف اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کا حوالہ دینا چاہتا ہوں جس آئین کے تحت انہوں نے اپنے منصب کا حلف اٹھا رکھا ہے۔ سب سے پہلے تو گورنر صاحب یہ سمجھ لیں کہ یہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کا آئین ہے۔ لفظ ”اسلامی“ نظریہ پاکستان ہی کی ترجمانی کرتا ہے۔ اگر گورنر مسعود کوثر کا یہ فرمان کہ نظریہ بدلتا رہتا ہے درست ہے تو پھر وہ سب سے پہلے یہ جرات کریں کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں سے اسلام کو نکال دیں۔ لیکن میرا ایمان ہے کہ گورنر مسعود کوثر تو کیا ساری پیپلز پارٹی اور اس کے حلیف بھی مل کر زور لگا لیں تو وہ جمہوریہ پاکستان سے اسلامی کے لفظ کو الگ نہیں کر سکتے۔ لیکن مجمول مطلق بیرسٹر مسعود کی منطق دیکھنے کہ وہ یہ ارشاد فرما رہے ہیں کہ نظریہ بدلتا رہتا ہے اس لئے نظریہ پاکستان سے ریاست کی اہمیت زیادہ ہونی چاہئے۔ شاید وہ یہ کہنا چاہئے ہیں کہ اسلام سے زیادہ اہمیت ریاست پاکستان کی ہونی چاہئے لیکن وہ یہ کہنے کی جرات نہیں رکھتے اس لئے وہ نظریہ پاکستان کی اصطلاح استعمال کر رہے ہیں۔ حالانکہ پاکستان ایک منفرد ریاست ہے جسے نظریہ پاکستان نے جنم دیا ہے۔
 اگر نظریہ پاکستان کا وجود نہ ہوتا تو کبھی متحدہ ہندوستان تقسیم نہ ہوتا اور نہ ہی پاکستان معرض وجود میں آسکتا تھا۔ اگر پاکستان کی اساس نظریہ پاکستان نہیں ہے تو گورنر مسعود کوثر وضاحت کر دیں کہ پاکستان کس بنیاد پر قائم ہوا تھا۔ گورنر مسعود کوثر کی عیادانہ جہالت دیکھئے کہ ان کا یہ بھی فرمان ہے کہ جس نظریہ کی بنیاد پر پاکستان بنا تھا وہ نظریہ آج پاکستان کو کمزور کر رہا ہے۔ پاکستان نہ تو طالبان کی انتہا پسند کے لئے بنا تھا اور نہ ہی سیکولر ”طالبان“ کے جاہلانہ تصورات سے پاکستان کا کوئی تعلق ہے۔ پاکستان کیوں بنا تھا؟ اس کی صحیح تشریح و تفسیر تو بانیان پاکستان ہی کر سکتے۔ گورنر مسعود کوثر یا کوئی اور نہیں۔ لیکن میں دوبارہ دستور پاکستان ہی کا حوالہ دینا چاہتا ہوں کہ اسلام کو دستور پاکستان میں ریاست کا مذہب تسلیم کیا گیا ہے۔ اسی طرح صدر پاکستان اور تمام صوبوں کے گورنر جو حلف اٹھاتے ہیں اس میں واضح طور پر اس امر کا اقرار کیا جاتا ہے کہ ”میں اسلامی نظریے کے تحفظ کے لئے بھرپور کوشش کروں گا جو قیام پاکستان کی اساس ہے۔“ تو کیا گورنر خیبر پی کے اسلامی نظریے کے تحفظ کی بھرپور کوشش اس انداز سے کر رہے ہیں کہ ہو نظریہ پاکستان پر ہی چڑھ دوڑے ہیں۔ گورنر خیبر پی کے اگر اسلامی نظریہ کو پاکستان کی اساس تسلیم نہیں کرتے تو گویا وہ اس حلف نامہ سے بھی انحراف کر رہے ہیں جو گورنر کا عہدہ سنبھالنے سے پہلے لازمی آئینی شرط ہے۔ گورنر مسعود کوثر اگر اپنا نظریہ بدل چکے ہیں یا وہ پہلے سے ہی اسلامی نظریے کو بطور اساس پاکستان تسلیم نہیں کرتے تھے تو انہیں بطور گورنر حلف نہیں اٹھانا چاہئے تھا۔اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 227 میں یہ واضح طور پر تحریر ہے کہ تمام موجودہ قوانین کو قرآن و سنت کی روشنی میں اسلامی احکامات کے مطابق بنایا جائے گا اور نیا کوئی قانون اسلامی تعلیمات کے برعکس نہیں بنایا جائے گا۔ گورنر مسعود کوثر ایک وکیل بھی ہیں یقیناً انہوں نے بطور وکیل اور پھر بطور گورنر پاکستان کے آئین کا مطالعہ ضرور کیا ہو گا اور انہوں نے آرٹیکل 227 بھی پڑھ رکھا ہو گا۔ پھر وہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ نظریہ پاکستان یعنی اسلام سے زیادہ ریاست کی اہمیت ہونی چاہئے۔ پھر نظریہ پاکستان اور پاکستان کو ایک دوسرے کے مدمقابل کھڑا کرنا بھی ایک احمقانہ بات ہے۔ یہ کہنا کہ جس نظریے پر پاکستان بنا تھا وہ نظریہ آج ہمیں کمزور کر رہا ہے بھی کتنے ظلم اور ناانصافی کی بات ہے۔ کیا پاکستان کے آئین کے اعلان کےمطابق اگر تمام موجودہ قوانین کو قرآن و سنت کےمطابق بنا دیا جائے تو اس سے پاکستان کمزور ہو گا یا پاکستان میں جو آگ اس وقت بھڑکی ہوئی ہے وہ گلستان میں تبدیل ہو جائےگی۔ پاکستان میں اسم محمد سے اجالے بکھر جائینگے اور اسم محمد کا اجالا ہی نظریہ پاکستان ہے۔ گورنر خیبر پی کے کو اگر اساس پاکستان اسلامی نظریہ سے دشمنی ہے تو وہ گورنر کا عہدہ چھوڑ کر آزادی تقریر کا مظاہرہ کریں۔ ویسے ان کی معلومات کےلئے عرض کردوں کہ آزادی تحریر یا آزادی تقریر کے نام پر بھی ریاست اور اسکی اساس کےخلاف خرافات کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔