میرے قائد کا نظریہ

کالم نگار  |  عزیز ظفر آزاد

حضرت قائداعظم محمد علی جناح کی کرشماتی شخصیت کا یہ اعجاز تھا کہ جو آپ سے ملا آپ ہی کا ہو کر رہ گیا ۔آپ کی محبت اور عقیدت ہی سرمایہ حیات بن گئی ۔ حضرت قائداعظم کی زندگی میں بڑے بڑے انگریز ہندو رہنما آپ کی او العزمی اور بصیرت کے قائل تھے مگر حضرت قائد کی شخصیت کا اہم پہلو یہ ہے کہ آپ کی زندگی کے بعد بھی جس نے آپ کی حیات کے مطالعہ سے رہنمائی طلب کی تو وہ بھی بامراد ہوا ۔ اس کا دامن فکر وعمل کے موتیوں سے لبریز ہوتا چلا گیا ۔ پھر وہ طالب علم سے سپاہی بن جاتا ہے ۔ حضرت قائد کی میراث کی حفاظت میں جت جاتا ہے ۔ پاکستان اور پاکستان مسلم لیگ کی بقااور استحکام اس کی زندگی کامحور و مرکز رہ جاتا ہے ۔ اس عظیم مشن میں مست بے شمار دیوانے نظر آئیں گے ۔شہر اقبال سیالکوٹ میں قائد کا ایک فرزند جلّی آصف بھلی عشروں سے اس دھن میں چل رہا ہے جل رہا ہے۔ اس نے علم اور قلم سے روشنیوں کے وہ الاﺅ دہکائے ہوئے ہیں جو بھٹکے ہوئے قافلوں کو منزل کی نشاندہی کرتے ہےں ۔آصف بھلی قائد کا قلمی علمی جانباز ہے ۔ کم عمری ہی میں نظریاتی دولت سے مالا مال کر ہو کر برسرپیکار ہوا ۔ ایم ایس ایف کے دوبارہ احیاءمیں مرکزی کردار ادا کیا۔ پھر عملی زندگی میں اپنے قائد کا پیشہ اور تیشہ اپنا لیاپھر نوائے وقت جیسے کندن ساز ادارے سے بندھ کر سونے پہ سہاگے کی مثل نکھرتا چلا گیا ۔ آج آصف بھلی نظریاتی قلم کاروں میں بڑا ہی اہم اور محترم مقام رکھتے ہیں ۔آپ نے مختلف موضوعات پر بیشمار کتب تصنیف کیںجو جمہوریت سیاست شعرو ادب پر مبنی ہیں ۔
برادر مکرم آصف بھلی نے اپنی نئی تصنیف " میرے قائد کا نظریہ " بڑی محبت سے ارسال کی مگر مجھ جیسے کم علم او ر مختصر مطالعے کے حامل سے تبصرے کا حکم صرف عزت افزائی ہے جس کے لئے احسان مند ہوں ۔ مصنف نے کتاب میں ایسے موضوع پر قلم اٹھایا جو آج کل نشتر اغیار کی زد میں ہے ۔ ایسے حالات میں جب کہ ہر سمت سے حضرت قائداعظم کے بنائے پاکستان میں نظام حکومت پر قائد کے حوالے سے کذب تراشی ناکام کی بہتات ہے ۔ آصف بھلی اور ان کی یہ کتاب ان بیہودہ حملوں کے مقابل مضبوط سپر اور آئینی ڈھال کی حیثیت رکھتی ہے۔ مصنف کی 184صفحات پر مشتمل یہ کتاب حضرت قائد کے فرمودات کے ذریعے مخالفین کے اوچھے وار کے دفاع اورپرکھوں سے عہد کے ایفاسے عبارت ہے ۔مصنف محترم نے کتاب کی ابتداءمیں مجھ حقیر کارکن کو جن الفاظ سے نواز ا وہ میرے لئے دارا اور سکندر کی سلطنت سے زیادہ قیمتی اور پرشکویٰ ہے۔ میری نظر میں یہ سرمایہ حیات بھی ہے انشاءاللہ آخرت میں باعث نجات بھی ہوگا ۔کتاب حب الوطنی جذبہ ایمانی سے سرشار ایسی دستاویز ہے جو ہر دور میں پاکستانیوں کے دل و دماغ کو اپنے اعلیٰ اوصاف کے قائد کی شخصیت حیات اور فرمودات سے روشن تاباں رکھے گی۔ مصنف حضرت قائد اور پاکستان کے بارے میںصفحہ 30پر فرماتے ہیں" قیام پاکستان میں برصغیر کے تمام مسلمانوں نے اپنے اپنے انداز اور توفیق کے مطابق کردار ادا کیا لیکن قیام پاکستان کا اعزاز اگر کسی فرد واحد کو دیا جاسکتا ہے تو وہ حضرت قائداعظم ہیں " ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کے بیان کہ پاکستان کا مطلب کیا لاالہ الااللہ کا نعرہ کبھی نہیں لگا اس کے جواب میں آصف بھلی صفحہ 39میں رقم طراز ہیں " مہاجرین سے تو پاکستان کا رشتہ ہی لا الہ الا اللہ کی وجہ سے ہے ۔ کسی ہندو سکھ نے بھی انڈیا چھوڑ کر پاکستان ہجرت کی ۔ مہاجرین کی ہجرت کی بنیاد لا الہ الاللہ ہے تو ان کا محبوب نعرہ بھی یہی ہونا چاہیے " مصنف صفحہ 41پر بڑے یقین کے ساتھ فرماتے ہیں " میرا ایمان ہے کہ جس طرح تحریک پاکستان انگریز ہندو اور کانگریسی علماءکی مخالفت کے باوجود کامیاب ہوئی اسی طرح پاکستان میں کارواں نظریہ پاکستان کامیاب ہو کر رہے گا سیکولر طبقہ نامراد رہے گا " آگے چل کر صفحہ 49پر کہتے ہیں " مجید نظامی وہی تعلیمات ہمارے سامنے دہرارہے ہیں جن کا اظہار حضرت قائد نے پاکستان بناتے وقت پوری دنیا کے سامنے کیا تھا " اردو کی حمایت میں مصنف کا کہنا ہے کہ قائداعظم نے اردو کے مقابلہ میں ہندی لٹریچر کی مخالف کی تو اس کی وجہ یہ تھی کہ قائد کو مسلمانوں کی معاشرتی مذہبی خصوصیات کا تحفظ عزیز تھا ۔ صفحہ 63پر لکھا ہے کہ یہ الفاظ کہ پاکستان کو اسلام کا قلعہ بنایا جائے گا کسی مذہبی جماعت کے لیڈر کے نہیں بانی پاکستان کے ہیں ۔اگلے باب کے صفحہ 63پر اقرار ہے کہ " قائد اعظم کا احسان ہے کہ میں پیدا ہوتے ہی ایک آزاد ملک کا شہری تھا ورنہ انگریز کے غلام ملک کا شہری ہوتا یا ہندو کی ذلت آمیز غلامی مقدر ہوتی " صاحب کتاب صفحہ 70پر فرماتے ہیں " قائدکے آئیڈیل حکمران آئیڈیل رہبر اور قانون عطا کرنے والی آئیڈیل شخصیت محمدعربی ﷺہیں ۔ پھر گمراہی کا شکار سیکولر طبقہ کس بنیاد پر یہ دعوی کرتا ہے کہ پاکستان ایک نظریاتی ریاست نہیں بلکہ سیکولر کے طور پر بنایا گیا " صفحہ 102پر تسلیم کیا " مجید نظامی نے نظریہ پاکستان کے فروغ کے لئے ٹرسٹ قائم کرکے تحریک پاکستان کو جاری و ساری رکھنے کےلئے قوم کو ایک پلیٹ فارم مہیا کیا " صفحہ 116نظریے کی حفاظت جغرافیے سے زیادہ اہم ہے اس لطیف نقطے کو سمجھنے کی ضرورت ہے ۔کتاب میں اہم ترین موضوعات اور مواقع پر حضرت قائداعظم کے فرمودات کے علاوہ آپ کے رفقاءکرام کے اپنے عظیم قائدکے بارے میں انٹرویوز کے اقتباسات اور حضرت قائد کی تقاریر کے اہم اقتباس بھی کتاب کی زینت ہیں۔ آخرمیں مولانا غلام مرشد کی حضرت قائد سے ملاقاتیں اور حضرت قائد کی قرآن فہمی کے ساتھ کتاب الٰہی پر غیر متزلزل ایمانی کیفیات سے مزین تحریر جناب آصف بھلی کی تخلیق کو چار چاند لگا دیتی ہے۔ برمحل بروقت کتاب تحریر کرکے آصف بھلی اپنی قلمی سپہ گری کا فریضہ ادا کرکے سبقت لے گیا۔ کتاب کی کمپوزنگ‘ اشاعت و طباعت بھی خوب ہے۔ انیس یعقوب نے اپنے قائد کے انس و عشق میں غرق ہو کر سرورق تخلیق کیا ہے۔ خاکی زمیں پس منظر میں سبز ہلالی پرچم سے ابھرتی قائد کے تصور کے مانند شفاف تصویر کے ساتھ ایک طرف عظمت و استقلال کا مظہر مینار پاکستان ہے تو دوسری سمت حضرت قائد کی روشن اور کشادہ پیشانی پر گہری بولتی آنکھیں لگتا ہے یوں کہہ رہے ہیں کہ....
ہم لائے ہیں طوفان سے کشتی نکال کر
اس ملک کو رکھنا میرے بچوں سنبھال کر
دور حاضر میں سیکولر افکار کی یلغار کے سامنے یہ کتاب مضبوط دیوار ثابت ہو گی۔
موضوع مدلل ہتھیار ہے۔ میڈیا کے مذاکرے ہوں یا درسگاہوں کے مباحثے گروہی صف بندی ہو یا نظریاتی لام بندی کتاب میں تخلیق پاکستان اور نظریہ پاکستان کے خلاف کھلنے والی ہر زبان اور لکھے گئے ہر بیان کا میزان موجود ہے ، مقابلے کا سامان ہے لہذا محبان نظریہ پاکستان کوشش کریں کہ یہ ہر درسگاہ ہر لائبریری‘ ہر لٹریری تک پہنچ سکے تاکہ نظریہ پاکستان عام ہو اور اس کے بدخواہوں کا قصہ تمام ہو سکے۔ یہ کتاب مصنف کی نظریاتی بصیرت اور طرز نگارش کے امتزاج سے الہادی یلغار کے سامنے ایک فولادی سپر اور سپاہ قائد کے ہاتھ میں آہنی نیزہ کے مثل ہے۔ جو دلائل کی انی سے مزین ہے ۔