مجید نظامی عہد ساز شخصیت

کالم نگار  |  سعود ساحر

 نوائے وقت ماشاءاللہ 70 برس کا ہوگیا مگر اس کی نظریاتی اٹھان وہی روز اول والی ہے اسکے تیور جوانوںکی مانند ہے۔گزرے ہوئے مہ و سال نے اس کا لہجہ مدھم ہونے دیا نہ اپنے مقصد سے گریز کوئی شائبہ اس کے صفحات پر نظر آیا ہر کڑے وقت اور کٹھن لمحہ میں پورے وقار اور استقامت سے اپنی بات کہتے جانا ہی اس کا طرہ¿ امتیاز رہا۔برصغیر کے مسلمانوں نے علیحدہ وطن کی جدوجہد کا آغاز حضرت قائداعظم محمد علی جناحؒ کی قیادت میں کیا۔اس میں طلباءکی قیادت کا اعزاز ایک نوجوان حمید نظامی کے حصے میں آیا پھر محترم حمید نظامی نے تحریک پاکستان کے دوران نقیب پاکستان کا کردار اپنایا اور 70 برس گزرنے کے باوجود نوائے وقت کی وہی آن بان ہے سدا کون رہا ہے مگر کسی نظریہ اور حق کی آبیاری کرنے والے تاریخ کے صفحات پر ہمیشہ زندہ رہتے ہیں اور مبارک ہیں وہ لوگ جو اپنے جانشیں چھوڑ جاتے ہیں جو اپنے پرکھوں کے نظریات کا علم سر بلند رکھتے ہیں اور اس سفر کو کھوٹا نہیں ہونے دیتے۔سو حمید نظامی کی حیات شعار کی گاڑی موت کے سٹیشن پر ٹھہری تو ان کے بہادر اصغر محترم مجید نظامی نے ڈرائیونگ سیٹ سنبھال لی ۔محترم مجید نظامی بھی کلمہ حق کہنے کے جس جہاد میں مصروف ہیں وہ نصف صدی کا قصہ ہے دوچار برس کی بات نہیں تاہم ان کا عزم جواں ہے انکے ارادے مضبوط ہیں ان کے ادارے کی اٹھان اور اڑان وہی ہے۔قویٰ کے اضملال نے نظریہ اور اصولوں سے انکی وابستگی پر رتی بھر اثر نہ ڈالا۔نوائے وقت کو پڑھ کر بلا خوف تردید کہاجاسکتا تھا کہ اس کا مدیر پوری طرح چوکس ہے اپنے اصولوں،نظریہ اور عقیدے کی جزویات سے کماحقہ آگاہ ہے اس جریدے کے اجراءکے وقت جو پالیسی اختیار کی گئی تھی اس کے برخلاف ایک.... شائع نہیں ہوسکتا۔ آج کے دور میں جب صحافت ،عبادت سے تجارت میں بدل چکی ہے۔
لکھنے لکھانے کے ڈھنگ بدل چکے ہیں لکھاریوں کی ایسی کھیپ اخبارات پر مسلط ہوچکی ہے کہ اخبار کی کوئی متعین پالیسی نہ رہی۔صرف مطبوعہ بے توقیر ہوا۔اخبارات کی کوئی طے شدہ پالیسی نہ رہی اور مالکان نے بھی اصول نظریہ کو قصہ¿ ماضی سمجھ کر حصول زر کو اولیت دی۔کرایہ کے نقلی چوکیدار سیاسی مورچے لگا کر بیٹھ گئے یہ تماشہ بھی قارئین روز دیکھتے ہیں کہ ایک ہی صفحہ پر ایک افلاطون کسی سیاسی جماعت اور اسکے قائد کی تضحیک کر رہا ہے اس صفحہ پر دوسرا اسی کی قصیدہ گوئی میں مصروف ہے گویا جریدہ نہ ہوا چوں چوں کا مربہ ہوگیا صاف پتہ چلتا ہے کہ ہدایت کار مدیر اعلیٰ نہیں مختلف سیاسی جماعتوں کے میڈیا سیل ہیں گمان یہ ہوتا ہے کہ اخبار کے ادارتی صفحہ کو مختلف حصوں میں تقسیم کرکے ہر سیاسی جماعتوں کو ایک حصہ الاٹ کردیا گیا ہے۔اپنے اپنے ممدوح کے قصیدے لکھو اور دوہرا معاوضہ پاﺅ،مدیر اعلیٰ کے طورپر ایک نام توموجود ہے مگر ایک ایسی اضافی چیز جس کا کوئی مصرف نہیں مگر مجید نظامی کا نوائے وقت اس بدعت سے پاک ہے۔
 سچی بات یہ ہے کہ نظریہ،عقیدے اور اصولوں کی پاسداری کے حوالے سے محترم مجید نظامی ایک مثالی شخصیت کے مالک ہیں اور قابل تقلیدہیں۔محترم مجید نظامی کو محمدصلاح الدین سے جو تعلق خاطر تھا اس کی بنیادی وجہ یہی جذبِ مشترک تھا کہ راہ کتنی بھی کٹھن ہو صداقت شعاری اور سچ کہتے اور سچ ہی لکھتے جانا،محمد صلاح الدین شہید کے جانشین اسی راہ کے راہرو ہیں اور جابر سلطان کے سامنے یہ کہنے کی جرا¿ت اور حوصلہ رکھتے ہیں کہ ”اگر ہمارے اخبار کی پالیسی کی کوئی قیمت ہے تو وہ ادا کرنے کیلئے ہر وقت تیار ہیں“ وسائل درکار ہیں مگر ہر قیمت پر نہیں صحافت کو نری صنعت بنانا ہمارا مقصود نہیں۔
 ان کی امیدیں قلیل ان کے مقاصد جلیل
 نوائے وقت ہر اس پاکستانی کیلئے پڑھنا لازم ہے جسے پاکستان ،نظریہ پاکستان اور اسلام سے رغبت ہے اور جو امن کی آشا کے جھوٹے نعروں کے فریب میں نہیں آناچاہتا۔امن کی آشا فروغ صنعت اور منفعت کے حصول کا وہ راستہ ہے جو پاکستان کی ہمہ جہت بربادی کو جاتا ہے۔میں سال کے سال محمد صلاح الدین شہید کے یوم شہادت پر ان کے کردار،ان کی تحریروں کے حوالے سے اپنی بساط بھر کچھ نہ کچھ لکھتا رہتا ہوں۔سچی بات یہ ہے کہ محمد صلاح الدین کی شخصیت چند صفحات میں سمانے والی نہیں ہے ایک پوری کتاب کا موضع ہے۔میں عرصہ سے سوچ رہا تھا کہ نظریہ اور عقیدے کو مقدم سمجھنے والے جریدے اس کے بانی محترم حمید نظامی مرحوم اور ان کے جانشین محترم مجید نظامی پر کچھ لکھا جائے جو اس دور زبوں کا میں زباںو دل کی رفاقت کا بھرم رکھے ہوئے ہیں۔
مجھے یہ اعزاز حاصل ہے کہ میں نے نوائے وقت کے تین ادوار دیکھے ہیں۔محترم حمید نظامی تو ایوبی آمریت میں زیادہ نہ جئے! اور ایوب خان کے خانہ ساز دستور کی دھجیاں اڑا کر رخصت ہوئے کہ 62ءکا دستور کسی پارلیمنٹ کا منظور کردہ نہ تھا بلکہ اس انوکھے اعلان کےساتھ کہ ” میں فیلڈ مارشل ایوب خان قوم کو دستور دے رہا ہوں“ مدیران جرائد کی کانفرنس میں پیش کیا اور اس دستور کے تحت پاکستان، اسلامی جمہوریہ پاکستان نہیں تھا بلکہ ایوب خان مملکت خداداد پاکستان کو ایک سیکولر ریاست بنانے کے آرزو مند تھے مگر یہ ممکن نہ ہوا۔اس دستور کا ایک کارنامہ یہ بھی تھا کہ پاکستانی قوم کو بے شعور قرار دیکر بالغ رائے دہی کا حق سلب کرلیا گیا تھا۔ بہرحال محترم مجید نظامی نے لندن سے آکر اپنے برادر بزرگ کی حریت فکر کا علم تھاما اور نصف صدی سے کلمہ حق کہنے کی روایت نبھا رہے ہیں پھر 70ءکی دہائی میں نوائے وقت محترم حمید نظامی کی اہلیہ محترم محمودہ نظامی کی نگرانی میں چلا یہ عجب ابتلا کا دور تھا پالیسی میں جوہری تبدیلی نے نوائے وقت کی ساکھ اور اشاعت کو بے طرح متاثر کیا۔محترم مجید نظامی نے ندائے ملت نکالا اور حمید نظامی کے دیرینہ ساتھیوں نے ظہور عالم شہید،بشیر احمد ارشد اور ہدایت اختر نے راولپنڈی سے روزنامہ جاوداں نکالا جو بھٹو مرحوم کی جمہوریت کی نذر ہوگیا پھر نوائے وقت کو بچانے کی خاطر محترم مجید نظامی نے وہی کچھ کیا جو انہیں کرناچاہئے تھا۔ اس ملک نے جمہوریت اور آمریت کے رنگا رنگ ادوار دیکھے کوئی بندوق کے زور مسلط ہوا یا ووٹ کی بنیاد پر من مانی کی بساط بچھائی وہ سلسلہ نظامیہ کے قلم کی کاٹ اور منہ کی سچی بات سے بچ نہ سکا نوائے وقت جتنا بڑا اخبار ہے اس سے کئی گنا معاشرے میں اس کا وزن اور مقام ہے۔آمروں اور زمینی خداﺅں کی جیبیں جتنی بھی شکن آلود ہو ان کے ساتھ ناروا سلوک کی جرا¿ت میں کمی نہیں! یہ تاریخ کا ریکارڈ ہے کہ جب ذوالفقار علی بھٹو ، ایوب خان کی کابینہ سے الگ ہوئے اور گورنر موسیٰ خان نے بھٹو کے خلاف ایک طویل چارج شیٹ جاری کی تو بھٹو کا جواب شائع کرنے پر کوئی اخبار تیار نہ تھا نوائے وقت نے لفظ بلفظ یہ جواب شائع کیا۔
 ایوب خان سے لیکر پرویز مشرف تک کس کے منہ پر سچ نہیں بولا۔واقعات تو بہت ہیں مگر پرویز مشرف کے تکبر کی نفی جس ستھرے انداز میں کی گئی اس کا جواب نہیں۔ 9/11 کے بعد چند روزہ حکمرانی کے عوض ملک کی خود مختاری کا سودا ہوا تو مدیران جرائد کی ایک مجلس میں نظامی صاحب نے پرویز مشرف سے سوال کیا کہ ”ایک فون کال پر آپ نے حوصلہ کیوں ہار دیا؟ پرویز مشرف نے جواب میں استفسار کیا کہ ” آپ میری جگہ ہوتے تو کیا کرتے؟ نظامی صاحب کا تیکھا فقرہ پرویز مشرف کو بدمزا کرگیا“،”میں آپ کی جگہ کیوں ہوتا؟ اور اگر آپ بھی اپنی جگہ ہوتے تو یہ بربادی نہ ہوتی“۔ یہ سب باتیں پنجاب یونیورسٹی کی جانب سے محترم مجید نظامی کو ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری دینے پر یاد آئیں محترم مجیب الرحمن شامی نے درس کہا کہ یونیورسٹی نے اس ڈگری کا مان بڑھایا اور یہ توفیق بھی اللہ تعالیٰ نے سید بشیر حسین شاہ کے ہونہار فرزند ڈاکٹر مجاہد کامران کو عطا کی۔اپنے شاہ صاحب مرحوم و مغفور(جن کے گاﺅں کا نام مدینہ ہے) نے ساری زندگی صحافت کی آبرو رکھنے کی جدوجہد میں گزار دی۔ صحافت کے چمن میں سید بشیر حسین شاہ کے پودے کچھ اپنی مہلت عمل گزار کر رخصت ہوئے کچھ اب بھی بہار دکھا رہے ہیں۔شاہ صاحب کا پورا گھرانہ علم کی روشنی پھیلانے میں مصروف ہے۔ڈاکٹر مجاہد کامران یہ اعزاز حاصل نہ کرتے تو کون کرتا انہوں نے اپنی دنیا بھی سنواری اور اپنے والد گرامی کی روح کے سامنے سرخروئی بھی حاصل کی۔
محترم مجید نظامی کی شخصیت ،صحافت کیلئے ان کی خدمات ان کی تحریر کا تیکھاپن، اسلام اور پاکستان سے انکی محبت کا احوال چند صفحات میں سمانے والا نہیں، ایک پوری کتاب کا مواد ہے۔
جنرل ضیاءالحق نے ہندوستان کے دورے میں ساتھ چلنے کی دعوت دی تو کہا کہ ” آپ ٹینک پر بیٹھ کر ہندوستان جائیں تو میں ساتھ ہوں ورنہ جب تک پاکستان کی شہ رگ قبضہ¿ اغیار میں ہے میں دشمن پر لعنت بھیجتا ہوں“محترم مجیب الرحمان شامی کی اس بات پر کون شبہ کرسکتا ہے پاکستان میں نظامی صاحب جیسا کوئی دوسرا نہیں جس کے سماجی تعلقات اس سطح پر ہوں اور اس کا اتنا احترام کیاجائے۔ان سے اختلاف کرنے والے بھی ان کی خوبیوں کا اعتراف کرتے ہیں اور جب تک پاکستان ہے سلسلہ نظامیہ بھی چلتا رہے گا“ شامی صاحب کا یہ بھی کہنا ہے کہ ”میری آرزو ہے کہ میں بھی ان جیسا ایڈیٹر بنوں“ حالانکہ بھٹو مرحوم کی آمرانہ جمہوریت میں محترم شامی صاحب اپنے قلم کی کاٹ اور استقامت کی بہار دکھا چکے جو تاریخ کا حصہ ہے اور وطن میں جمہوریت کیلئے جدوجہد کرنے والوں کی تاریخ مرتب کرنے والا جن چند ناموں کونظر انداز نہیں کرسکتا ان میں مجیب الرحمان شامی کا نام بھی ہے۔محترم مجید نظامی اخباری برادری سے جس تعلق خاطر کا اظہار کرتے ہیں اس کا تجربہ مجھے بارہا ہوا اس رمضان میں میرے برادر بزرگ حکیم محمود احمد سروسھارنپوری کی وفات پر کسی ٹی وی چینل پر پٹی دیکھ کر سب سے پہلا تعزیت کا فون مجھے ملا وہ نظامی صاحب کا تھا دکھ کی اس گھڑی میں اس خیال سے بڑی تقویت ملی پھر نظامی صاحب کا خط ملا” حکیم سروسھارنپوری حمید نظامی کی نظر میں“ اللہ تعالیٰ نظامی صاحب کو تادیر صحت کے ساتھ سلامت رکھے۔محمد صلاح الدین شہید،نظامی صاحب کا بزرگوں کی طرح احترام کرتے تھے اور محمد صلاح الدین شہید کے جانشین بھی اسی راہ راست کے راہی ہیں اور پاکستان میں امن و سلامتی کے دشمنوں سے نبرد آزما ہیں....
 ستیزہ کار رہا ہے ازل سے تا امروز
 شرار بولہبی سے چراغ مصطفویٰ