ففتھ کالمسٹوں کا محاسبہ

کالم نگار  |  نعیم احمد

زیر نظر کالم کا مقصد صرف یہ ہے کہ اس کتاب کے فاضل مصنف بالخصوص اور اس کے قارئین بالعموم اصل حقائق سے لاعلم نہ رہ جائیں۔ جناب مجید نظامی اور ان کی زیرنگرانی سرگرم عمل تمام ادارے‘ الحمد ﷲ‘ پاکستان کے نظریاتی تشخص اور پاکستانی قوم کو بانیانِ پاکستان کی حیات وخدمات سے روشناس کرانے اور ان کے افکار و نظریات کی ترویج و اشاعت میں ہمہ وقت کوشاں ہیں۔ آج تک جب کبھی کسی نے بھی قیام پاکستان کو غیر ضروری اور اس کے ازلی دشمن بھارت کو دوست قرار دینے کی کوشش کی‘ بانی¿ پاکستان قائداعظم محمد علی جناحؒ کی ذات گرامی کو ہدف تنقید بنانے کی جسارت کی تو‘ جناب مجید نظامی اور ان کے اداروں نے فی الفور بغیر اس کا محاسبہ کیا۔ دراصل جب سے پاکستان ایک ایٹمی طاقت بنا ہے‘ تب سے اسے دشمنوں کی طرف سے ہمہ جہتی یلغار کا سامنا ہے جس میں ملک کے اندر میڈیا سے وابستہ چند مخصوص عناصر سرخیل کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ ان عناصر کی آنکھوں میں جناب مجید نظامی اور ان کے ادارے کانٹوں کی مانند کھٹکتے ہیں اور پاکستان کے دشمن ممالک کے پے رول پر کام کرنے والے نام نہاد دانشور اُن پر مسلسل آتش فشانی کرتے رہتے ہےں۔ اندرےں حالات محترم منےر احمد منےر جےسے محب وطن شخص کی جانب سے جناب مجےد نظامی اور پاکستانےت کو فروغ دےنے پر کمر بستہ ان کے اداروں کے بارے مےں جانے انجانے مےں گمراہ کن تاثر قائم کرنے کی کوشش انتہائی قابلِ افسوس ہے۔ جہاں تک نظرےہ¿ پاکستان ٹرسٹ اور تحرےک پاکستان ورکرز ٹرسٹ کے زےر اہتمام چوتھی سالانہ نظرےہ¿ پاکستان کانفرنس(منعقدہ16تا 18فروری 2012ئ) کا تعلق ہے‘ اس مےں ےہی روح تو کار فرما تھی کہ پاکستانی قوم کسی بےرونی طاقت ےا اس کے اشاروں پر رقص کناں مقامی شردھالوﺅں کو ہرگز ےہ اجازت نہ دے گی کہ وہ پاکستان کو نظرےاتی و جغرافےائی لحاظ سے کوئی نقصان پہنچائےں‘ بانےانِ پاکستان کے افکار کو توڑ مروڑ کر پےش کرےں ےا ان کی ذات اور اقدامات پر ہرزہ سرائی کریں۔ فروری 2012ءمیں ٹرسٹ نے اپنے ماہنامہ ”نظرےہ¿ پاکستان“ کا اےک خصوصی شمارہ بھی شائع کےا جو اس کانفرنس کی روداد پر مشتمل تھا۔ اس کے ادارےے مےں کانفرنس کی غرض و غاےت بےان کرتے ہوئے کہا گےا کہ ”ان کانفرنسوں کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ فی زمانہ کچھ عناصر پاکستان کے ازلی دشمنوں کے اشارے پر نظریہ¿ پاکستان کی من چاہی تشریح کرنے‘ اس میں سے دین اسلام کی روح نکالنے اور قائداعظمؒ کے حوالے سے قیام پاکستان کے حقیقی مقاصد کے متعلق غلط فہمیاں پھیلانے کی سازشوں میں مصروف ہیں۔ علاوہ ازیں عہد حاضر کی اس واحد نظریاتی مملکت کو ان دنوں چہار اطراف سے دشمنانِ دین و وطن کی یلغار کا سامنا ہے اور بدقسمتی سے ملک کے اندر سے بھی کچھ ففتھ کالمسٹس اس یلغار کو تقویت فراہم کرنے میں سرگرم ہیں۔ اس تناظر میں پاکستانی قوم کو وطن عزیز کی نظریاتی اساس کی ازسرنو یاد دہانی‘ حصول پاکستان کے لیے اسلاف کی عظیم الشان جدوجہد سے روشناس کرانے اور قیام پاکستان کے اصل مقاصد کے حصول کی خاطر جہد مسلسل کے لیے تیار کرنے کی خاطر ان کانفرنسوں کے سالانہ بنیادوں پر انعقاد کا فیصلہ کیا گیا۔ اس تاریخ ساز فیصلے کے پس پردہ یہ حقیقت کارفرما تھی کہ جس قدر پاکستان کی نظریاتی سرحدیں محفوظ ہوں گی‘ اسی قدر اس کی جغرافیائی سرحدیں ناقابل تسخیر ہوں گی۔“ لہٰذا کانفرنس کی روح اور اغراض و مقاصد کو سرے سے نظر انداز کرکے محض اےک قرارداد کی عدم موجودگی پر سےخ پا ہونے کو کسی طور بھی دانش مندی قرار نہےں دےا جاسکتا۔ایسا کرنا تو ففتھ کالمسٹوں کو خوش کرنے کے مترادف ہے۔     .... (ختم شد)