عوام اسلم بیگ اور اسد درانی کا احتساب بھول جائیں

کالم نگار  |  ادیب جاودانی

اصغر خان کیس میں سپریم کورٹ کا فیصلہ سانپ کے گلے میں چھچھوندر بن گیا ہے۔ اگر اس فیصلے پر حقیقی معنوں میں عمل کیا جائے تو پاکستان کی سیاسی گندگی کو صاف کرنے کا عمل شروع ہو سکتا ہے۔ عدالت عظمیٰ نے اپنے فیصلے میں خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے ذریعہ سیاستدانوں اور صحافیوں میں رقم تقسیم کی تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے بری فوج کے سابق سربراہ جنرل اسلم بیگ، آئی ایس آئی کے سابق ڈائریکٹر اور رقوم کی تفصیلات فاش کرنے والے جنرل اسد درانی اور قومی امانت کو لٹانے والے بینکار یونس حبیب کے خلاف کارروائی کا حکم دیا ہے جو ابھی تک شروع نہیں ہوا۔ اس کے بعد سے دونوں مرکزی ملزم اپنی صفائی میں کس طرح طرح کے جواز پیش کر رہے ہیں اس اعتبار سے اسکینڈل کے مرکزی کردار جنرل اسد درانی کا تازہ بیان خاص اہمیت رکھتا ہے۔ جنرل اسد درانی نے ایک نجی ٹیلی ویژن کو انٹرویو دیتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ آئی ایس آئی کے ذریعے سیاست دانوں میں رقم کی تقسیم کی تفصیلات کور کمانڈر کانفرنس میں زیربحث لائی جاتی تھیں جس کی صدارت جنرل اسلم بیگ خود کرتے تھے۔ اس انکشافی بیان سے ایک اور سوال پیدا ہو گیا ہے۔ عدالت عظمیٰ نے اپنے فیصلے میں اس کام کو چند جرنیلوں کا انفرادی فعل قرار دیا ہے اور فوج بحیثیت ادارے کو اس سے بری الذمہ کیا ہے لیکن آئی ایس آئی کے سابق جنرل کے بیان نے تمام کور کمانڈرز کو بھی اس میں شامل کر لیا ہے۔ اس مقدمے کے فیصلہ میں عدالت عظمیٰ نے بریگیڈائر حامد سعید کے بیان پر بھی تبصرہ نہیں کیا جس کے مطابق انہوں نے کہا تھا کہ بہت سی باتوں پر میں نے سرکاری راز افشا نہ کرنے کا حلف اٹھایا ہوا ہے۔ اگر میں نے ایسا کیا تو میں سزائے موت کا حقدار ہو جاﺅں گا۔ گویا اس فیصلے سے فوج جیسے ادارے کو بری الذمہ کرنے کے لئے بھی شفاف تحقیقات ضروری ہے۔ ماضی میں پاک فوج کے ادارے کی انتہائی ذمہ دار شخصیات کا اس گھناﺅنے الزام میں ملوث ہونا حیرانی کا باعث نہیں بلکہ پریشانی کا باعث ہے۔ کیونکہ اس کیس کے فیصلے سے پاک فوج جیسے معتبر ادارے کی طرف انگلیاں اٹھنی شروع ہو گئی ہیں حالانکہ سابق جرنیلوں کا یہ فعل ان کی ذاتی حیثیت میں تھا۔ پورے ادارے کو اس کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ عدالت کے حکم کے مطابق سلوک کیا جائے تاہم اس فیصلے کو سامنے رکھ کر پاک فوج کے ادارے کو بدنام کرنا کسی طور پر بھی قابل قبول نہیں ہے۔ سنیٹر رضا ربانی نے ایک بیان میں کا ہے کہ فوج سے ریٹائرڈ ہونے والے کرپٹ جرنیلوں کے خلاف فوج کو کارروائی کرنی چاہئے لیکن فوج ہر گز نہیں کرے گی اور اس سلسلے میں جی ایچ کیو کی قانونی برانچ نے بھی یہ رپورٹ جاری کر دی ہے کہ فوج اسلم بیگ اور اسد درانی کے خلاف مقدمہ نہیں چلا سکتی اس پر جماعت اسلامی کے امیر سید منور حسین نے کہا ہے کہ اصغر خان کیس کے فیصلے کے بعد جرنیلوں کے خلاف کارروائی نہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ فوج مقدس گائے ہے وہ جو چاہے کرے کوئی اسے پوچھنے والا نہیں ہے۔ حمودالرحمان کمیشن رپورٹ میں جنرل یحیٰی خان کو پاکستان کے دو ٹکڑے کرنے کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا تھا لیکن اس وقت کے حکمرانوں نے یحیٰی خان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی اور اس کے مرنے پر فوج نے 21توپوں کی سلامی دے کر اسے دفن کیا۔
 پرویز مشرف جس نے نواز شریف کی منتخب حکومت کا تختہ الٹا اور دو بار آئین کو توڑا۔ آرٹیکل 6 کی خلاف ورزی کی اس کے خلاف بھی کوئی کارروائی نہیں کی گئی بلکہ فوج نے اسے گارڈ آف آنر دے کر لندن روانہ کیا بلکہ پوری پیپلز پارٹی نے پرویز مشرف کو محفوظ راستہ فراہم کیا۔ عوام اسلم بیگ اور اسد درانی کا احتساب بھی بھول جائیں۔ پاکستان میں کبھی جرنیلوں کا احتساب نہیں ہوا۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق اسلم بیگ اور اسد درانی کا یہ عمل فوج کی بدنامی کا باعث بنا تاہم اگر سپریم کورٹ کے فیصلے پرمن و عن درآمد کیا جائے تو آئندہ کے لئے فوج کا سیاست میں مداخلت کا راستہ رک جائے گا اور ماضی کے مارشل لاﺅں سے ملک کو جو نقصان پہنچا ہے آئندہ اس سے بچنے کی بھی راہ ہموار ہو سکے گی تاہم اس فیصلے کی آڑ لے کر پاک فوج کے پورے ادارے بدنام کرنے کی مذموم سازشیں بند ہونی چاہئیں کیونکہ اصغر خان کیس میں پوری فوج ملوث نہیں تھی۔