ہماری خوش نصیبی

کالم نگار  |  احمد جمال نظامی

پیپلزپارٹی نے سینٹ میں اعلیٰ عدلیہ کے اختیارات پر چیک اینڈ بیلنس ہونے کی تجویز پیش کر دی ہے یعنی پیپلزپارٹی کا باطن کھل کر ظاہر ہونے لگا ہے۔ پیپلزپارٹی کے فرحت اللہ بابر نے سینٹ کے اجلاس کے دوران کہا کہ ہم عدلیہ کا احترام کرتے ہیں وہ بھی وقار کا خیال رکھے۔ یہ تاثر تقویت پکڑ گیا کہ عدلیہ ضبط و تحمل کا مظاہرہ نہیں کر رہی تو یہ پارلیمنٹ اعلیٰ عدلیہ اور ججوں کے لئے بہتر نہیں ہو گا۔ کس کے لئے کیا بہتر ہے اس کا فیصلہ آئین اور قانون نے کرنا ہوتا ہے مگر پیپلزپارٹی کی بڑی شدت کے ساتھ دیرینہ خواہش ہے کہ وہی ہو جو اس کے شریک چیئرمین اور ایوان صدر میں بیٹھے آصف علی زرداری کے لئے بہتر ہے۔ عدالت عظمیٰ میں توہین عدالت بل کے خلاف رٹ پٹیشنز دائر ہیں اور اس امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا کہ ہو سکتا ہے آئندہ دنوں میں جس طرح تمام قانونی ماہرین کہہ چکے ہیں اور چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چودھری نے بھی ایک موقع پر کہا تھا کہ عدلیہ کو اختیار حاصل ہے کہ وہ آئین سے متصادم کسی بھی کارروائی کو ختم کر دے تو ہو سکتا ہے اسی پس منظر میں آئین کے مطابق توہین عدالت بل کو عدلیہ کی طرف سے کالعدم قرار دے دیا جائے۔ البتہ جہاں تک سینٹ میں پیپلزپارٹی کی طرف سے تجویز پیش کرنے کا تعلق ہے کہ عدلیہ کے اختیارات پر چیک اینڈ بیلنس ہونا چاہئے تو یہ بہت ہی مضحکہ خیز بات ہے۔ عدلیہ کے جتنے وسیع تر اختیارات ہوں گے اتنا ہی ملک میں انصاف کا بول بالا ہو گا اور انصاف کی حکمرانی قائم ہو سکے گی۔ مگر جب حکمران ہی عدلیہ کے اختیارات محدود کرنا چاہتے ہیں اور ان کی یہ روش واضح بھی ہونے لگے تو پھر کون نہیں کہے گا کہ حکمران انصاف کے دشمن ہیں اور وہ نہیں چاہتے کہ ملک میں انصاف کی فراوانی عام ہو۔ یہاں پہلے ہی عام آدمی کو شکایت ہے کہ اسے عدالتوں سے سالہا سال تک انصاف میسر نہیں آتا اور کئی کئی سال عدالتوں میں فوجداری اور دیوانی کے مقدمات زیرسماعت رہتے ہیں۔ کیا بہتر نہیں ہو گا کہ عدلیہ کے اختیارات چیک اینڈ بیلنس اور دیگر حیلے بہانوں کی آڑ میں محدود کرنے کی بجائے ان کو وسیع تر کرنے کے لئے اقدامات کئے جائیں اور انہیں اتنے وسائل فراہم کئے جائیں کہ عدالتوں سے عام آدمی کو زیادہ سے زیادہ ریلیف میسر آ سکے اور عدالتی نظام سے بھی کرپشن کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔ موجودہ حکومت کا المیہ یہ ہے کہ وہ صرف اور صرف عدلیہ کے ساتھ بار بار اس لئے ٹکرا جاتی ہے کہ اس کے شریک چیئرمین کے کروڑوں ڈالر سوئس بینکوں میں پڑے ہیں جن کو وہ محفوظ بنانا چاہتے ہیں۔ ہمارے نئے وزیراعظم کرپشن سے لتھڑے ہوئے ہیں ہر دوسرے وزیر کا نام کرپشن کے کسی نہ کسی سکینڈل میں آ جاتا ہے۔ حکومتی مشیر تک کرپشن کی بہتی گنگا میں اپنے ہاتھ دھو رہے ہیں اور اس قدر اقربا پروری اور بدعنوانی ہو رہی ہے کہ اس کی بدترین تاریخ پہلے کبھی موجود نہیں یہی وجہ ہے کہ عدلیہ کی طرف سے جب اصلاح احوال کے لئے آئین کے مطابق قانون کو حرکت میں لایا جاتا ہے تو اس پر حکمران بُرا مان جاتے ہیں اور جب عدلیہ بار بار حقائق پر انہیں آئینہ دکھاتی ہے اور آئینہ دکھانے کے بعد انصاف کی رو سے سزا کا راستہ بھی دکھایا جاتا ہے تو وہ بگڑ جاتے ہیں۔ ایسے میں پیپلزپارٹی انصاف کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ جو صرف اور صرف اپنے مخصوص مفادات کے لئے سرگرداں رہنا چاہتی ہے۔ اس کا ملک اور عوام کے مفادات سے قطعی طور پر کوئی تعلق نہیں ہو سکتا البتہ اگر حکومت عدلیہ کو زچ کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو پھر یہ ملک اور قوم کے لئے بہت بڑا نقصان ہو گا جس کا خمیازہ ہمیں مزید کئی سالوں تک بھگتنا پڑے گا کہ قومیں انصاف کی راہ پر زندہ رہتی ہیں اور جن ممالک میں انصاف ناپید ہو جائے وہاں ترقی کا عمل رک جایا کرتا ہے۔ ہم خوش قسمت ہیں کہ وفاقی حکومت کی طرف سے پیدا کردہ تمام بحرانوں مسائل کرپشن بدعنوانیوں اور اقربا پروری کے باوجود وہ ملک سے آزاد عدلیہ کے تسلسل کو ختم کرنے کی کوششیں ناکام رہی ہےں۔ اللہ کرے آئندہ بھی ایسا ہی ہو کیونکہ یہ ہماری بہت بڑی خوش نصیبی ہے۔