نوٹس لینے کا ڈرامہ....

کالم نگار  |  عارفہ صبح خان

بالآخر ہنگاموں‘ احتجاج‘ توڑ پھوڑ اور مار دھاڑ کے بعد صدر محترم نے لوڈشیڈنگ کا نوٹس لے لیا۔ گزشتہ روز انہوں نے لوڈشیڈنگ کے دیرینہ مسئلہ پر از خود نوٹس لیتے ہوئے جہاں عوام کے زخموں پر پھائے رکھنے کیلئے لوڈ شیڈنگ پر میٹنگ کال کر لی وہاں عدلیہ کو بھی بتا دیا کہ ”از خود نوٹس“ صرف عدلیہ کے دائرہ اختیار میں نہیں۔ از خود نوٹس ایوان صدر میں بھی لئے جا سکتے ہیں اور سچ تو یہ ہے کہ جو نوٹس ایوان صدر میں لئے جاتے ہیں، ان کی طاقت زیادہ ہے۔ پاکستان میں طاقتور اور کمزور کا ہی تو سارا چکر ہے جو طاقتور ہے وہ نوٹس لے سکتا ہے اور وہی ہر وقت میٹنگز میں مصروف ہوتا ہے۔ پاکستان میں کمزور چھوت بن کر رہ گیا ہے۔ کرسی، عہدہ، اختیار، دولت یہ سب طاقت کی نشانیاں ہیں۔ اخلاق، کردار، سچ، ایمانداری، محنت یہ سب کمزور ہونے کی علامتیں ہیں۔ کمزور آدمی انہی کے سہارے جیتا ہے اور طاقتور اپنی سازش، جھوٹ، بددیانتی، مکاری اور منافقت سے خود کو علیٰ و برتر دکھاتا ہے۔ پورا ملک اندھیروں میں ڈوبا ہوا ہے لیکن صدر نے نوٹس اس وقت لیا ہے جب سینکڑوں افراد خود کشی کر چکے۔ ہزاروں احتجاج میں توڑ پھوڑ کر کے کروڑوں کی املاک تباہ کر چکے۔ لاکھوں طالب علم موم بتیوں اور ٹارچ کی روشنیوں میں امتحانات کی تیاریاں کرتے رہے ہیں۔ کروڑوں لوگ اکیسویں صدی میں بھی ہاتھ کے پنکھے جھل رہے ہیں۔ راتوں کو جاگتے اور دن میں سوتے ہیں۔ فیکٹریاں کارخانے دفاتر سکول کالج ہسپتال سب ٹھپ ہو چکے ہیں۔ اب وزیراعظم بھی اس شخص کو بنایا گیا ہے جو ایک ناکام وزیرثابت ہوا۔ جو شخص محض بجلی کا ایک محکمہ نہیں چلا سکا وہ بھلا پورا ملک کیسے چلائے گا لیکن یہ ہمارے ملک کی روایت ہے کہ سب سے نکما نااہل شخص سب سے زیادہ اہم اور بڑے عہدے پر براجمان ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں اہلیت اور قابلیت نہیں، نااہلیت اور نالائقی معیار ہے پھر نوٹس لینا اب ایک محاورہ بن گیا ہے کہ صدر پاکستان نے لوڈ شیڈنگ کا نوٹس لے لیا۔ وزیراعظم، وزیراعلیٰ نے مہنگائی بدامنی ڈکیتیوں کا نوٹس لے لیا۔ آپ نے دیکھا ہو گا کہ نوٹس لینے کے بعد ان واقعات میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے۔ ہر نوٹس کے پیچھے مفاد اور تشہیر کا جذبہ ہوتا ہے اور ہر میٹنگ کے پس پردہ نفسیاتی عوام کارفرما ہوتے ہیں یعنی خود کو مصروف برتر اور اہم ثابت کرنا۔ اب ایک نیا رواج پڑگیا ہے کہ جب کوئی کرپشن وہ یا کوئی کمام نہ ہو رہا ہو تو ایک کمیٹی تشکیل دیدی جاتی ہے۔ یہ کمیٹی دو سے دس بارہ افراد پر مشتمل ہوتی ہے۔ جونہی کوئی تحقیقی رپورٹ حاصل کرنے کےلئے کوئی کمیٹی عمل میں آئے.... سمجھ جائیں کہ اب اس معاملہ پر پیشرفت ناممکن ہے کیونکہ کمیٹی کے تین چار ممبران کو تحائف نذرانے پلاٹ کمشن بریف کیس پہنچ جاتے ہیں اور اس کے حل، انصاف، سچائی کی توقع دم توڑ جاتی ہے۔ کسی کمیٹی کے وجود میں آنے کا مطلب ہے کہ ممبران کی چاندی ہو گئی اور معاملہ ہمیشہ کیلئے کھٹائی میں پڑ گیا۔ پاکستانی قوم کب میٹنگ، نوٹس اور کمیٹی کے چکروں سے نکلے گی اورکب یہ ڈرامہ بند ہو گا....؟ یقیناً کبھی نہیں کیونکہ یہ عیوب ہماری قوم کی رگوں میں اتر گئے ہیں۔