نوجوانوں کی قیادت

کالم نگار  |  ماروی میمن

دنیا میں زمانہ قدیم سے جاری قدرتی وسائل پر زیادہ سے زیادہ قبضہ کرنے کی ہوس اور پیاس نے دنیا کے نقشے میں اکثر تبدیلیوں کو جنم دیا ہے۔ اس کے نتیجے میں سلطنتیں بنتی اور ٹوٹتی رہی ہیں۔ ملک معرض وجود میں آئے اور دو لخت ہوئے۔ لیکن وسائل کے لئے یہ دوڑ اور کشمکش ابھی تک جاری ہے۔ بہت سے ملک قدرتی وسائل کی زیادہ سے زیادہ دولت سمیٹ کر سرداری اور قیادت کی تمنا رکھتے ہوں گے لیکن ان میں سے محدودے چند ایک ہی ہوتے ہیں جو قیادت اور سرداری کی اس جیو پولیٹیکل ریس میں کامیاب و کامران ٹھہرتے ہیں۔ پاکستان جیسے ملک کا اپنے موجودہ حالات کے باعث اس کا حصول ممکن نہیں ہو سکتا۔ چوٹی کی بات تو دور رہی۔ اسے درمیانی پوزیشن کے لئے بھی نچلی تہوں سے اوپر آنے کے لئے اگلے دس سال کا عرصہ درکار ہے۔ یہ صورت بھی تب ہی ممکن ہے اگر ان بحرانوں سے نمٹنے کے لئے مناسب حکمت عملی تیار کی جائے جن کا آنے والے برسوں میں پاکستان اور دنیا کے دوسرے ملکوں کو سامنا ہو گا۔
اس وقت جبکہ دنیا پر امریکہ کی حکمرانی ہے‘ ہمیں بعض بڑے بحرانوں سے آگاہ اور چوکس رہنے کی ضرورت ہے تاکہ پاکستان اکیسویں صدی کے چیلنجوں سے سرخرو ہو سکے۔ ذاتی طور پر ہم اگرچہ پوری صدی دیکھنے کے لئے موجود نہ ہوں گے۔ تاہم ایک سیاست دان کے طور پر یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اپنی آنے والی نسلوں کے لئے منصوبہ بندی کریں۔ اس ذمہ داری کی روشنی میں ضروری ہے کہ تمام سیاسی پارٹیوں کے سیاست دان باہم سرجوڑ کر بیٹھیں اور ایک ایسے مشترکہ وژن کی دستاویز ترتیب دیں اور منشور مرتب کریں جس پر آگے چل کر پاکستان عمل پیرا ہو۔ انفرادی طور پر ہر سیاسی پارٹی کے منشور خوش کن ہوتے ہیں۔ وقت کی ضرورت ہے کہ ایک مشترکہ وژن‘ مینوفیسٹو پر دستخط ہوں۔ مستقبل کی پارلیمنٹوں کی لازماً ایک وژن مینوفیسٹو کمیٹی ہو جو اس امر کو یقینی بنائے کہ کوئی سیاسی پارٹی اپنے وعدوں سے انحراف نہ کرنے پائے تاہم اس گرفت کو قانونی تحفظ حاصل ہونا ضروری ہے تاکہ اسے سنجیدگی سے لیا جائے یہ وژن دستاویز پاکستان کو صدی کے بڑے چیلنجوں سے نبرد آزما ہونے کے لئے تیار کرنے والی ہو۔ تب ہی ہم اپنی سماجی شکست و ریخت کو منفبط اپنے لئے کرکے اسے فائدہ بخش بنا سکتے ہیں۔
دنیا میں قدرتی وسائل جیسے تیل‘ پانی اور معدنیات کے لئے دوڑ جاری ہے۔ یہ کوئی نئی بات نہیں۔ یہ ہر صدی میں ہوتا ہے اور ہر صدی میں اجارہ داریوں کے مختلف کمبی نیشنز نظر آتے ہیں جب مختلف ملک بقائے باہمی کے تخت ایک دوسرے سے مل جاتے اور جڑ جاتے ہیں تاکہ اس دوڑ میں موجود اور زندہ رہ سکیں۔ موجودہ صدی میں جبکہ امریکہ کی حکمرانی کا دور دورہ ہے‘ چین کو کچھ لوگ نئی سرد جنگ کا خطرہ قرار دے رہے ہیں‘ چین ایک دوسرا متبادل ہے جس سے دنیا کے ملک امریکی بالادستی ناقابل برداشت ہونے کے بعد رجوع کر سکتے ہیں۔ چین کی توانائی کے لئے تمام براعظموں میں امریکہ کی نسبت سیاسی مداخلت کے بغیر جاری کوششیں نسبتاً بارآور ثابت ہو رہی ہیں چینی تاجرانہ سفارت کاری کے ذریعے قدرتی وسائل کو زیادہ سے زیادہ حاصل کرنے کی کوششوں میں کامیاب ہیں جو امریکہ کی بالادستی کے لئے کسی خطرے کی گھنٹی سے کم نہیں۔ وہ نوجوان لیڈر جو ہر ملک میں کسی بڑے عالمی بحران کا حل پیش کریں گے‘ انہیں عبوری نسل کے لیڈر قرار دیا جائے گا۔ ان کا کام ہو گا کہ وہ وقوع پذیر ہونے والے بحرانوں کا ایسا حل پیش کریں جس سے ہمیں ایک صدی سے دوسری صدی میں سر اونچا کرکے داخل ہونے کا موقع ملے۔ ان کی ذمہ داری ہو گی کہ وہ ایسے حل کی نشاندہی کریں جو سیاسی بالادستی کے لئے صرف ووٹ حاصل کرنے اور وقتی سیاسی فائدے حاصل کرنے کے لئے نہ ہوں اور عوام الناس کو کسی ٹریجڈی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ نوجوان نسل جب ہر ملک میں قیادت سنبھال لے گی تو دنیا کے تباہی و بربادی کی طرف بڑھنے کے امکانات خاصے کم ہو جائیں گے۔ بڑے مسائل جیسے گلوبل وارمنگ‘ آبادی میں اضافہ‘ پانی کی کمی‘ قحط سالی غربت عالمی سطح پر نقل مکانی اسلحہ بردار غیر ریاستی اداکار‘ ایسے مسائل ہیں کہ اگر نوجوان نسل کے لیڈر ہر جگہ سامنے نہ آئے تو کچھ عجب نہیں ہم ایک بار پھر تاریک زمانوں میں پہنچ جائیں۔ جو بات ہمارے سوچنے کی ہے وہ یہ ہے کہ 21ویں صدی میں خوشحالی کے راستے میں رکاوٹ انسان کا کمایا سرمایہ نہیں بلکہ قدرت کے کیپیٹل کی کمی ہو گی۔ یہ ایک ایسی بات ہے جس کا اس وقت ابھی کسی کو پوری سمجھ اور احساس نہیں۔ دلچسپ امر ہے کہ اس وقت جب خطے میں بعض معاشی اجارہ دار اپنی جی ڈی پی بڑھائے جا رہے ہیں اور اس کا برملا فخریہ اظہار بھی کرتے ہیں لیکن نہیں جانتے کہ وہ اپنے قدرتی وسائل کی تباہی کا باعث بن رہے ہیں۔
یہ حقیقی کامیابی کا نسخہ نہیں کیونکہ ان کی اپنی آبادی کے لئے خوراک کی فراہمی کی کوششیں دم توڑ رہی ہیں۔ دوسری طرف موجودہ ترقی یافتہ ملکوں کو گوناگوں مسائل کا سامنا ہے۔ آج یورپ کو 35 فیصد پنشنروں کا پیٹ بھرنا پڑتا ہے۔ 2050ءمیں یہ شرح 75 فیصد تک پہنچ جائے گی۔ جن ملکوں کے سماج ابھی نوجوان ہیں‘ ان کے لئے یہ سنہری موقع ہے کہ وہ اپنی آبادی کو غیر ملکی کرنسی کمانے کے لئے اس طرح کے علاقوں میں بھیجیں۔ پاکستان اور بہت سے دوسرے مسلمان ملک قابل رشک حد تک نئی نسل کی دولت اور قدرتی وسائل سے مالا مال ہیں لیکن بدقسمتی سے ان کے ہاں انتظامی استحکام‘ پائیداری اور شفافیت موجود نہیں۔ ترقی یافتہ ملکوں کی خارجہ پالیسی کے فیصلے اپنے زیادہ سے زیادہ قدرتی وسائل کے استعمال کی بنیاد پر ہوتے ہیں۔ انہوں نے اپنی معیشت کو بڑھاوا دینے کے لئے اکنامک بلاک بنا رکھے ہیں۔ کیا مسلم امہ نے اس طرح کا کام کرنے کا کبھی کوئی بلیو پرنٹ بنایا؟ یورپ کے تمام ملک جغرافیائی طور پر باہم متحد ہیں اور انہوں نے ایک یورپی بلاک بنایا ہوا ہے جو اقتصادی طور پر ایک دوسرے کے مفادات کا نگران ہے۔ مسلم امہ کو باہم جوڑنے اور متحد کرنے والی قوت اس سے کہیں زیادہ بڑی ہے۔ مذہب اس کے باوجود ہم وسائل کو بڑھانے اور ترقی دینے میں کامیاب نہیں نہ باہم مل کر ایک دوسرے کے مفادات کے نگہبان رہے اور نہ مشترکہ جدوجہد سے ایک دوسرے کے شہریوں کے لئے خوراک کا انتظام کر سکے۔ جو حقیقتاً بطور مسلمان ہماری ذمہ داری تھی۔ اگر ہم اپنی مسلمان آبادی کو ٹھیک طریقے سے فیڈ کرنے میں مخلص ہیں تو ہمیں اپنے قدرتی وسائل اکٹھے کرنا ہوں گے۔ انفراسٹرکچر اور لیبر‘ محض مدرسوں کی فنڈنگ سے کام نہیں چلے گا جن میں سے کچھ شرپسندوں کے لئے محفوظ ٹھکانے اور پناہ گاہیں ثابت ہو رہے ہیں۔ ہمیں آنے والے دنوں کے وسیع تناظر میں اپنا جائزہ لینا ہو گا۔ یہ وقت ہے کہ مسلم امہ نئی نوجوان نسل کی قیادت کے حوالے سے سرجوڑ کر بیٹھے اور توانائی کے وسائل کے حصول کے لئے عام لوگوں کو متحرک کرے پاکستان کے علاوہ اور مسلمان ملکوں میں بھی پچاس فیصد سے زیادہ آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے جو ایک زبردست پیداواری لیبر اثاثہ ہیں۔ افغانستان‘ البانیہ‘ چاڈ دیو بوجی گیمبیا‘ ایران‘ اردن‘ مالی موریطانیہ‘ مراکش‘ اومان‘ صومالیہ‘ سوڈان‘ ترکی اور ازبکستان‘ ان تمام ملکوں میں قدرتی وسائل کے بے پناہ ذخائر موجود ہیں اگرچہ ان میں سے اکثر کی جی ڈی پی کے اعداد و شمار کچھ زیادہ قابل رشک نہیں۔ یہ ملک یا تو سماجی شکست و ریخت کا شکار ہوں گے یا پھر اگر صحیح قیادت مل گئی تو خوشحالی ان کا مقدر ہو گی۔ اپنے انفراسٹرکچر کے ذریعے اگر یہ قدرتی وسائل سے کماحقہ فائدہ اٹھانے کے لئے اپنے وسائل یکجا کر لیں تو اس سے ان کو زبردست مدد ملے گی۔ ان ملکوں میں سے ابھی کوئی بھی تیز رفتار ترقی کی فہرست میں شامل نہیں لیکن ہو سکتے ہیں۔ انہیں ایک دوسرے کی مدد کرنے اور لیبر فورس کی تربیت کا اہتمام کرنا چاہئے۔ ان کو سوچنے اور مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کو اپنے قدرتی وسائل کے پول کا انتظام کرنا ہو گا لیکن سب سے اہم بات جو ان کے لئے ضروری ہے وہ یہ ہے کہ ان کا سیاسی نظام‘ مستحکم اور پائیدار ہو جو آگے چل کر ان کی قومی خوشحالی اور روشن مستقبل کا ضامن ہو۔ پاکستان میں نئی نوجوان نسل کی قیادت کو تربیت یافتہ یوتھ کے ساتھ ساتھ قدرتی وسائل‘ انفراسٹرکچر اور اپنی اکنامی پر فوکس کرنا ہو گا۔ پاکستان کے لئے اس وقت مسلم امہ کو اکٹھا اور یکجان کرنے کے لئے اپنا کردار بحسن و خوبی ادا کرنے کا ایک سنہری موقع ہے۔