مادرِ ملتؒ....ہماری قومی زندگی کا روشن چراغ

کالم نگار  |  نعیم احمد

مادرِملت محترمہ فاطمہ جناحؒ ہماری قومی و ملی تارےخ کا وہ روشن چراغ ہےں جس کی ضےاءسے اس ارضِ پاک کے درودےوار آج بھی منور و تاباں ہےں۔ اُنہوں نے اےک اےسے مرحلے پر اپنے عظےم بھائی قائداعظم محمد علی جناحؒ کی دےکھ بھال اور تےمار داری کا فرےضہ سنبھالا جب مسلمانانِ ہند کو حصولِ آزادی کے حوالے سے ”اب نہےں تو کبھی نہےں“ جےسی صورتحال درپےش تھی۔ محترمہ فاطمہ جناحؒ نے قائداعظمؒ کو گھرےلو تفکرات سے بالکل آزاد کردےا تاکہ وہ پوری ےکسوئی اور دلجمعی سے حصولِ پاکستان پر توجہ مرکوز کرسکےں۔ لہٰذا ےہ کہنا بے جانہ ہوگا کہ اگر قائداعظمؒ کو محترمہ فاطمہ جناحؒ جےسی شفےق اور غمگسار بہن کا سہارا مےسر نہ ہوتا تو غالباً وہ پاکستان اس قدر جلد نہ بنا پاتے۔وصالِ قائد کے بعد محترمہ فاطمہ جناحؒ نے عملی سےاست سے کنارہ کشی اختےار کرلی تھی۔ ملک مےں آئے دن حکومتےں بنتی اور ٹوٹتی تھےں اور سازش کے تحت اےک اےسا ٹولہ اقتدار پر قابض ہوچکا تھا جس کا نہ تو تحرےک قےامِ پاکستان سے دُور کا بھی کوئی واسطہ تھا اور نہ ہی وہ اس مملکت کے بنےادی مقاصد پر ےقےن رکھتا تھا۔ نتےجتاً ملک پر فوجی آمرےت مسلط ہوگئی۔ اپنے ناجائز اقتدار کو جائز کا جامہ پہنانے کی خاطر ملک مےں بنےادی جمہورےتوں کا نام نہاد نظام متعارف کراےا گےا اور بڑے بڑے نامی گرامی سےاست دان اسپِ اقتدار پر جنرل اےوب خان کی ہمرکابی کے مزے لوٹنے لگے۔
قائداعظمؒ نے پاکستان جمہوری عمل کی بنےاد پر حاصل کےا تھا اور اس کی بقاءو اتحاد کے لئے ناگزےر تھا کہ ےہاں جمہوری نظام کو پھلنے پھولنے دےا جائے اور عوام کو آزادانہ رائے دہی کے ذرےعے اپنے نمائندے منتخب کرنے کا موقع دےا جائے مگر آمرےت مےں عوام کو ان جمہوری و سےاسی حقوق سے محروم کردےا گےا تھا۔ مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناحؒ اپنے بھائی کی امانت پاکستان مےں اس خےانت کو برداشت نہ کرسکےں اور اُنہوں نے جمہورےت اور عوامی حقوق کی خاطر حزب اختلاف کی استدعا پر 1964ءمےں اےوب خان کے خلاف صدارتی انتخاب لڑنے کا فےصلہ کرلےا۔مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناحؒ نے پےرانہ سالی کے باوجود مشرقی ومغربی پاکستان کے طوےل دورے کئے اور قوم کو قےامِ پاکستان کے مقاصد کی ےاد دہانی کروائی۔عوام نے انہےں ہر جگہ سر آنکھوں پر بٹھاےا۔ تمام غےر جانبدار مبصرےن کو ےقےن تھا کہ شکست اےوب خان کا مقدر ہوچکی ہے مگر انتخاب کے بعد الےکشن کمےشن نے اےوب خان کی کامےابی کا اعلان کردےا۔ اس صرےح دھاندلی نے ملک کے محب وطن حلقوں کو شدےد ماےوسی مےں مبتلا کردےا۔ خصوصاً مشرقی پاکستان کے عوام تو اس سے بہت زےادہ بددل ہوگئے۔ اس اقدام نے ہم سے ہمارے مشرقی بازو کی علےحدگی کی بنےاد رکھ دی۔ ےہ اےک متفقہ رائے ہے کہ اگر محترمہ فاطمہ جناحؒ کو اس صدارتی انتخاب مےں دھاندلی کے ذرےعے ناکام نہ بناےا گےا ہوتا تو پاکستانی قوم کے ماتھے پر سقوط مشرقی پاکستان جےسا کلنک کا ٹےکہ کبھی نہ لگتا۔ قوم کی اس عظےم المرتبت ماں کے 120وےں ےومِ ولادت پر انہےں خراج عقےدت پےش کرنے کے لئے نظرےہ¿ پاکستان ٹرسٹ نے تحرےک پاکستان ورکرز ٹرسٹ کے اشتراک سے اےوانِ کارکنانِ تحرےک پاکستان لاہور مےں اےک خصوصی تقرےب کا انعقاد کےا جس سے تحرےک پاکستان کے سرگرم کارکن‘ نظرےہ¿ پاکستان ٹرسٹ کے چےئرمےن اور محترمہ فاطمہ جناحؒ کی خدمت مےں ”مادرِ ملتؒ“ کا خطاب نذر کرنے والے ممتاز صحافی جناب مجےد نظامی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ محترمہ فاطمہ جناحؒ اور جنرل اےوب خان مےں روز ِاول سے ہی اِٹ کھڑکّا تھا۔ وہ مادرِ ملتؒ کو اپنے راستے کا پتھر سمجھتا تھا۔ آہستہ آہستہ اس نے اپنے آپ کو بطور منتخب صدر پےش کرنا شروع کردےا۔ تب پاکستان کے مرد سےاست دانوں مےں سے کوئی بھی اُس کو للکارنے کی جرا¿ت نہےں کرپارہا تھامگر مادرِ ملتؒ نے ببانگِ دہل اُسے للکارا۔ جب مادرِ ملتؒ نے اےوب خان کے خلاف صدارتی انتخاب لڑنے کا اعلان کےا تو پورے ملک کے اخباروں مےں سے صرف روزنامہ نوائے وقت نے وہ اعلان شائع کےا اور جب اُنہوں نے بذرےعہ ٹرےن کراچی سے اپنی انتخابی مہم کا آغاز کےا تو تب بھی نوائے وقت نے اس کی بھرپور کورےج کی۔ اللہ کرےم کا شکر ہے کہ ہم نے مادرِ ملتؒ کے سپاہی کی حےثےت سے کام کےا اور آج تک کرتے چلے آرہے ہےں۔ الےکشن کے بعد اُنہوں نے مجھے کراچی مےں ناشتے پر مدعو کےا۔ دورانِ گفتگو اُنہوں نے الےکشن مےں حماےت پر شکرےہ ادا کرنے کی کوشش کی تو مےں نے عرض کےا کہ اےسا نہ کہےں کےونکہ آپ مےرے لئے ماں کی طرح ہےں بلکہ آپ تو مادرِ ملتؒ ہےں۔ مادرِ ملتؒ سے ےہ ملاقات بلاشبہ مےری زندگی کا خوشگوار ترےن لمحہ تھا اور آج بھی مےں اِسے اپنے لےے اےک اعزاز سمجھتا ہوں۔ اےک دن معلوم ہوا کہ وہ نےند کے دوران داعی¿ اجل کو لبےک کہہ گئےں۔ مےرا موقف ہے کہ ان کی وفات طبعی نہ تھی بلکہ انہےں گلا گھونٹ کر ہلاک کےا گےا تھا۔ جس خاتون نے ان کی مےت کو غسل دےا تھا‘ اس کا کہنا تھا کہ ان کے گلے پر دبانے کے نشانات تھے۔ دراصل ہمارے ملک مےں محسنوں کے ساتھ اےسا ہی سلوک روا رکھا جاتا ہے۔قائداعظمؒ بھی جب شدےد علالت کے دوران کوئٹہ سے کراچی تشرےف لائے تو ان کو فراہم کردہ اےمبولےنس خراب ہوکر کئی گھنٹے وےران سڑک پر کھڑی رہی حالانکہ ان کے ساتھ اےک اضافی اےمبولےنس ہونا ضروری تھی۔ اس سے بھی اندازہ لگا لےں کہ ہم نے اپنے محسن اعظم کے ساتھ کےسا سلوک کےا۔ تقرےب مےں مقررےن نے جناب مجےد نظامی کو مادرِ ملتؒ کے افکار اور حےات و خدمات کی تروےج پر زبردست خراج تحسےن پےش کےا۔ جن میں کرنل(ر)جمشید ترین ،ڈاکٹر رفیق احمد،سرتاج عزیز، مہنا رفیع، بشریٰ رحمن،ڈاکٹر پروین خان،بیگم ثریا خورشید اور بیگم صفیہ اسحاق شامل ہیں۔تقرےب مےں نئی نسل کی بھی بھرپور نمائندگی تھی۔ انہےں بتاےا گےا کہ جب مادرِ ملتؒنے اےوب خان کے خلاف صدارتی اُمےدوار بننے پر آمادگی کا اظہار کےا تو سب سے پہلے نوائے وقت اور اس کے جری مدےر جناب مجےد نظامی نے ان کی حماےت کا اعلان کےا اور مسلسل ان کی حماےت کرتے رہے۔ اُنہوں نے اس ضمن مےں کسی دباﺅ کو قبول نہےں کےا۔ جناب مجےد نظامی کی قےادت مےں 1993-94ءمےں مادرِ ملتؒ کا صد سالہ جشن ولادت مناےا گےا اور بعدازاں انہی کی تجوےز پر حکومت پاکستان نے سرکاری طور پر 2003ءکو سال مادرملتؒ کے طور پر مناےا۔ سال بھر کی سرگرمےوں مےں نظرےہ¿ پاکستان ٹرسٹ نے جناب مجےد نظامی کی قےادت مےں کلےدی کردار ادا کےا اور نئی نسلوں کے ذہنوں مےں ےہ بات راسخ کی کہ مادرِ ملتؒ ہمارے لئے رول ماڈل ہےں۔ مقررےن نے نظرےاتی محاذ پر جناب مجےد نظامی کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی قےادت مےں نئی نسل کی تعلےم و تربےت کا جو سلسلہ اےک تسلسل کے ساتھ جاری ہے‘ اسی سے نئی نسل مےں قائداعظمؒ، علامہ محمد اقبالؒ اور مادرِ ملتؒ جےسی شخصےات پےدا ہونگی جو قوم کی کشتی کو منزل مراد تک پہنچائےں گی۔