سعودی حکمران بند گلی میں؟

کالم نگار  |  فضل حسین اعوان

 یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ گزشتہ سال اکتوبر میں ولی عہد شہزادہ سلطان امریکہ کے ایک ہسپتال میں 87سال کی عمر میں انتقال کرگئے ان کی جگہ شہزادہ نائف کو ولی عہد مقرر کیا گیا تھا وہ علاج کی غرض سے سوئٹزرلینڈ میں تھے کہ 16جون 2012کو چل بسے ان کی جگہ سلمان بن عبدالعزیز نے لے لی جو شاہ عبداللہ سے دس سال چھوٹے ہیں ان کو دو مرتبہ سٹروک ہوا جبکہ ان کے بارہ میں سے دو بیٹے دل کے عارضہ کے باعث فوت ہوچکے ہیں۔سعودی حکمرانوں کے خلاف ہونیوالی سازشوں کو سمجھنے کیلئے عالمی میڈیا میںپھیلائی جانیوالی افواہوں کا اندازہ ذیل کی رپورٹس سے لگایاجاسکتا ہے۔ امریکی کی بیرونی تعلقات کونسل( Foreign Relations Council ) کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے سعودی عرب کی کل آبادی ڈھائی کروڑ ہے اور بقول اس ادارے کے ، شیعہ مسلمانوں کا تناسب 15فیصد ہے اور اس حساب سے اس ملک میں شیعہ آبادی چالیس لاکھ افراد کے لگ بھگ ہے جو کویت،قطر،بحرین اور امارات کی مقامی عرب آبادی سے کہیں زیادہ ہے۔
 ادھر ہیومن رائٹس واچ نے اپنی رپورٹ میں زوردے کرکہا کہ سعودی عرب کی شیعہ آبادی کو بے روزگاری کی وجہ سے سخت دشواریوں کا سامنا ہے اور آل سعود کا امتیازی سلوک یہاں تک ہے کہ کوئی مقامی شیعہ باشندہ فوجی اکیڈمیوں کے قریب جانے کا مجا ز تک ہیں۔دوسری طرف ” بزنس ویک“ نے سعودی عرب میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور پامالیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ سعودی عرب میں اقلیتوں کے ساتھ بد سلوکیوں اور امتیاز طرہ سلوک کی بنا پر کوئی شیعہ باشندہ جج نہیں بن سکتا اور سرکاری یا فوجی اداروں میں کسی اعلیٰ عہدے پر فائز نہیں ہوسکتے۔
 عربی سعودی فنڈ کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب میں 2011کا بجٹ سرپلس تقریباً 49ارب ڈالر رہا جو اس ملک کی جی ڈی پی کا 9.1حصہ بنتا ہے لیکن اس کے باوجود معتبر بین الاقوامی جریدے ”اکانومسٹ“ نے لکھا ہے کہ سعودی عرب میں بیروزگاری کی شرح بدستور35فیصد ہے گو کہ آل سعود کی سرکاری رپورٹ کے مطابق اس ملک میں بیروزگاری کی شرح10.6فیصد ہے!۔ امریکہ کی جارج ٹاﺅن یونیورسٹی کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کی 22فیصد آبادی غربت و افلاس کا شکار ہے اور جریدہ ” ٹائم“ کے مطابق ہر سات سعودیوں میں سے ایک ” پڑھنا لکھنا نہیں جانتا یعنی ملک کی 14.28فیصد آبادی ناخواندہ ہے “۔
ہوسکتا ہے ان رپورٹس میں کوئی حقیقت بھی ہو۔دونوں صورت میں سعودی حکام کو ان کا تدارک کرناچاہئے۔مغربی میڈیا کی ایسی رپورٹس کو بڑھا چڑھا کر چند اسلامی ممالک بڑے زور شور اور اہتمام کے ساتھ پھیلائی جارہے ہیں۔وجہ اس کی بھی وہی، امریکہ کے زیر اثر سعودی پالیسیاں ہیں۔ ملک کے تمام اہم عہدے سعود خاندان کے پاس ہیں۔یوں سمجھئے کہ گورننس پر شاہی خاندان کی مکمل گرفت ہے اور شاید سعودی شہری نفسیاتی طورپر شاہی خاندان کی حکومت پر مضبوط گرفت سے مرعوب بھی ہیں اسی تناظر میں دی اکانومسٹ نے اپنے ایک آرٹیکل The long day closes میں جو لکھا وہ سعودی حکمرانوں اور شہریوں کیلئے ایک پیغام ہے۔” السعود تو شائد اپنے آپ کو نئی دنیا کے تقاضوں اور ضرورتوں کے مطابق ڈھال لیں لیکن ان کے اپنے لوگوں میں سے بہت سے اس حوالے سے مشکوک و شہبات کا شکارہیں۔ جدہ کے ایک وکیل نے اپنے آراستہ اور جھنڈیوں سے سجے دفتر میں بیٹھے ایک قرآنی آیت کے حوالے سے حضرت سلمان علیہ السلام کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ جن ان کے تابع تھے جن کو انہوں نے عبادت گاہوں اور تالابوں کی تعمیر پر لگا رکھا تھا۔جن محنت مشقت کرتے اور وہ اپنے عصا سے ٹیک لگائے کھڑے دیکھتے رہتے تاوقتیکہ دیمک لگنے سے عصا ٹوٹ گیا اور وہ گر پڑے، تب جنوں کو احساس ہوا کہ ان کے ساتھ ہاتھ ہوگیا۔حضرت سلمان علیہ السلام تو کب کے انتقال کر چکے اور وہ ان کو زندہ سمجھ کر کام میں جُتے رہے۔آج سعودی عرب میں حکمرانوں کیخلاف ایک مخصوص ذہنیت کے لوگ مظاہرے کر رہے ہیں‘ وہ بھی کسی بیرونی طاقت کے اشارے کے بغیر نہیں ہو سکتے۔ گویا آج سعودی حکمران ایک بڑے امتحان سے گزر رہے ہیں‘ اس سے سرخرو ہونے کیلئے 1932ءکے بعد کسی بھی دور سے زیادہ حکمت‘ دانش اور اہلیت و قابلیت اور اس کو بروئے کار لانے کی ضرورت ہے۔         (ختم شد)