رحمتوں کے مہینے میں ’چوہدریوں‘ اور وزیر اعظم ’راجہ‘ سے اپیل!

کالم نگار  |  خواجہ ثاقب غفور

پیپلز پارٹی اور اتحادی جماعتوں (قاف لیگ، ایم کیو ایم، اے این پی) نے رمضان المبارک سے پہلے دعوی کیا تھا کہ اس ماہ مبارک میں گرمی سے مرتے عوام کو کم از کم سحر و افطار تراویح کے اوقات میں بجلی مہیا کی جائے گی تاکہ وہ کھانے پینے، عبادت کو مکمل کر سکیں لیکن جھوٹ بولنے، جھوٹے دعوے کرنے کا ریکارڈ رکھنے والے ”چار کے ٹولے“ نے گنہگار مسلمانوں کو عبادت، تلاوت قرآن، نیند اور سکون سے محروم کرتے ہوئے بجلی کی بندش مزید بڑھا دی! یہ عوام دشمن اور اپنے مفادات کے لیے نام نہاد ’اتحادی‘ غریب متوسط عوام کو جیتے جی مار رہے ہیں، نہ رات کو غریب، ملازمت پیشہ، مزدور سکون سے پانچ چھ گھنٹے سو سکتا ہے نہ مساجد میں نماز تراویح، درس قرآن و حدیث، وعظ سن سکتا ہے۔ اللہ کی پھٹکار کے حق دار فیصلہ ساز و پالیسی ساز انتہائی بدنصیب ہیں کہ مغفرت، رحمتوں، فضل و کرم کے مہینے کو دنیا میں ہی ’دوزخ کے نظارے‘ کا ’ٹریلر‘ چلانے والا مہینہ بنا دیا۔ نہ سکون، نہ آرام، نہ پڑھائی، نہ عبادت، یہ پیپلز پارٹی کا پنجاب کے عوام سے خصوصی انتقام ہے جو طویل لوڈشیڈنگ صوبہ پنجاب کے دیہات میں ہی کی جا رہی ہے، پیپلز پارٹی کے ایم این اے ندیم افضل چن نے شدید احتجاج و تنقید اپنی حکومت پر کر دی اور بجلی کے مراکز پر احتجاجی مظاہرے میں حد سے گزر گئے۔ کیا پیپلز پارٹی نے آئندہ صوبہ پنجاب سے ’ہارنے‘ کے لیے صوبہ پنجاب کے کسان، مزدور، تاجروں کا بیڑا غرق کرنے کا بیڑا اٹھایا ہے کہ صوبہ پنجاب کو ’بجلی‘ نہیں دینی، وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے راجہ، زرداری حکومت کی ’پھٹیاں اکھیڑ دی ‘ ہیں اور وفاقی حکومت کو ناکوں چنے چبوا دیئے۔ سیاسی طور پر ووٹروں کو پیپلز پارٹی کے خلاف کرنے میں وہ کامیاب ہیں کیا پیپلز پارٹی اور قاف لیگ کے ’چوہدری‘ عوام دشمن پالیسی اسی طرح جاری رکھیں گے۔ قاف لیگ کے لیڈران تو اپنے خاندانی مفادات، انکوائریوں، مقدمات وغیرہ کی بنا پر ’زرداری حکومت‘ کے دُم چھلے بنے بیٹھے ہیں، عوام دشمن پالیسیوں کا نتیجہ پہلے بھی 2008ءکے انتخابات میں سامنے آچکا ہے۔ اب بھی شاید ڈپٹی وزیر اعظم (بے اختیار، جگ ہنسائی) کا عہدہ آنکھوں پر ”پٹی“ باندھ گیا ورنہ کامل علی آغا ایم این اے جیسا دلیر، دبنگ، صاف گو آدمی بھی ٹی وی پروگراموں میں غریب عوام کا ’کیس‘ لڑتا نظر آیا کہ ہم طویل لوڈشیڈنگ پر حکومت سے الگ بھی ہونے کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔ آخر بجلی کی بندش سے دودھ، روٹی دوائی سے محروم ہوئے مزدروں کا ساتھ کوئی تو دے گا کہ نہیں؟ یا صرف ڈپٹی وزیر اعظم پرویز الٰہی چار ماہ اور ’امی میں سونٹا لینا اے‘ کے عوامی جملے کے مصداق صرف اقتدار کے ذریعے اپنی اور شجاعت حسین کی دو قومی نشستیں ’پکی‘ کرانے پر ہی توجہ مرکوز رکھیں گے؟ بجلی کے بحران کے حل کیلئے قاف لیگ کو کچھ سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور فوری طور پر فرنس آئل کی فراہمی کیلئے کم از کم تیس ارب روپے بجلی گھروں کو ’تیل‘ کی سپلائی کیلئے مختص کرانے چاہئیں۔ کیا قاف لیگ پچاس سے زائد اراکین کے ساتھ ”زرداری راجہ“ حکومت سے کھل کر بات کرکے بے روزگار مزدروں کے روزگار کیلئے یہ مطالبہ نہیں منوا سکتی؟ کیوں نہیں ایسا کیا جاتا؟ عوامی تاثر یہ ہے کہ ”چوہدریوں کے گینگ“ کو مونس الٰہی کے عدالتی مقدمات سزاﺅں سے غرض ہے یا اپنی گجراتی سیاست سے! یہ تاثر اسی صورت تبدیل ہوسکتا ہے کہ چوہدری شجاعت حسین مہنگائی، بے روزگاری، ملازمتوں کا نہ ملنا، بجلی پانی کے ’مسائل‘ حل کرائیں، عوام کے پاس ووٹ لینے جلد جانا ہے پھر وہاں کس منہ سے جائیں گے۔     آج وزیراعظم راجہ جی کے لیے بھی ایک موقع ہے (نا جانے کب ختم ہو جائے) کہ وہ اپنے اوپر سے راجہ لوڈشیڈنگ، راجہ اندھیر نگری‘ کے عوامی خطابات اور میڈیا کے طعنے ختم کرکے دکھائیں۔