اے خاصہ خاصان رُسل وقت دعا ہے

کالم نگار  |  محمد یسین وٹو

ابھی کشمیر کی روح فرسا چیخیں‘ فلسطین کی آہیں‘ افغانستان کی آہ و فغاں اور عراق کے نوحے ماند نہ پڑے تھے کہ برما کے مسلمانوں کے بَین دل دہلانے لگے۔ مرنے والے وہ مظلوم مسلمان ہیں کہ جو صدیوں اس خطے پر آباد ہو کر بھی اجنبی سمجھے جاتے ہیں ان ”بے ضرر“ بھکشو¶ں نے بیس ہزار سے زائد اراکانی مسلمانوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ املاک اور عزت و ناموس کا نقصان اسکے سوا ہے۔
یہ نسل کشی واضح طور پر برما حکومت اور فوجی جنتا کی آشیرباد سے ہو رہی ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق سرکاری ادارے حملہ آوروں کے دست و بازو بنے ہوئے ہیں۔ دکھ کی بات یہ ہے کہ برمی اپوزیشن رہنما سوچی بھی اس وحشت و بربریت پر مہر بہ لب ہیں۔ یہ وہی خاتون ہیں جو جمہوریت اور انسانی حقوق کے نام پر پوری دنیا کو پکارتی تھیں اب ان کے انسانی حقوق کے پرچار کہاں گئے۔ اس ایک عورت کے لئے برما کی فوجی جنتا سے مذاکرات کرنے والی ہلیری کلنٹن کو بھی ایک مذمتی بیان کی توفیق نہ ہوئی۔ کیا صرف اس لئے کہ مظلوم اقلیت مسلمان ہیں؟ یہ کھلی تعصب پسندی اور دوغلہ پن نہیں تو اور کیا ہے!
یہ وہی امریکہ اور یورپ ہے جو سوات میں کوڑوں کی ویڈیو پر طوفان بپا کر دیتا ہے۔ پاکستان کے ایک اقلیتی رہنما کے قتل کو انسانی حقوق کی پامالی کا مسئلہ بنا دیتا ہے۔ سعودی عرب میں خواتین کی ڈرائیونگ پر پابندی کو بنیادی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتا ہے۔ سوڈان کے اندرونی جھگڑے کو مذہبی رنگ دیکر عیسائیوں کے علیحدہ ملک کی راہ ہموار کرتا ہے۔ مشرقی تیمور کے عیسائیوں کے حقوق کے لئے ایک علیحدہ ملک کی حیثیت دلوا دیتا ہے۔ جمہوریت کے نام پر لیبیا کو خاک اور خون میں نہلا دیتا ہے۔ عراق میں آمریت کے خاتمے کے نام پر لاکھوں مسلمان جمہوریت کی بھینٹ چڑھا دیتا ہے۔ اپنے پانچ ہزار شہریوں کا بدلہ لینے کے لئے ساٹھ لاکھ افغانوں کو لاکھوں ٹن بارود کا نشانہ بنا دیتا ہے۔ انسانی حقوق کے نام پر ہر اسلامی ملک میں مداخلت اپنا فرض سمجھتا ہے مگر جہاں بات مسلمانوں کی حقوق کی ہو وہاں یکایک سانپ سونگھ جاتا ہے۔ مسئلہ کشمیر پر ثالثی سے صاف انکار کر دیتا ہے۔ فلسطینیوں کو تخریب پسند قرار دیکر اسرائیل کی پشت پناہی کرتا ہے۔ چیچن مسلمانوں کے قتل عام کو روس کا اندرونی معاملہ قرار دیتا ہے اور برما کے مسئلے پر ایک پریس کانفرنس کی زحمت بھی گوارا نہیں کرتا۔ میرے ملک کے مغرب زدہ ذہنی مرعوب دانشور بتائیں کہ میں کس طرح انہیں مہذب‘ روشن خیال اور غیر متعصب مان لوں!
اقوام متحدہ کا کردار دیکھ لیجئے کہ ایک ڈبیٹ کلب سے زیادہ کچھ نہیں قذافی مرحوم نے بجا طور پر اسے مردہ قراردادوں کا عجائب گھر قرار دیا تھا۔ اس عالمی ادارے کو بھی برما کے مظالم پر لب کشائی کی زحمت نہ ہوئی۔ خون مسلم کی فکر ہی کسے ہے!
عرب لیگ اور او آئی سی کے نمائشی اجلاسوں سے خیر کی توقع ہی عبث ہے۔ جنہیں اپنے مسئلے سلجھانے کے لئے اہل مغرب کی ضرورت پڑتی ہے وہ امت کے مسائل کیا سلجھائیں گے۔ ہمارے اپنے ملک میں دیکھ لیجئے کہ بے حسی کا عالم ہے اسلامی جمہوریہ پاکستان کی حکومت نے تو برما پر کیا آواز اٹھانی تھی‘ فارن آفس کو بھی بیان جاری کرنے کی ہمت نہ ہوئی۔ عمران خان اور میاں نواز شریف تو شاید اس خطرے کے پیش نظر نہیں بولے کہ انہیں ”کٹر مسلمان“ نہ سمجھ لیا جائے۔ پہلے ہی بیچاروں نے کیمرون منٹر کو بڑی یقین دہانیاں کروائی ہیں۔ سیکولر جماعتوں ایم کیو ایم اور اے این پی نے حسب معمول ”اندرونی مسائل“ کا رونا رو کر برما کے مظالم کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی حالانکہ یہ دو جماعتیں پچھلی ایک دہائی سے مسائل کے حل کے نام پر برسراقتدار ہیں۔ مذہبی جماعتوں میں سے بھی صرف جماعت اسلامی نے اس مسئلے پر احتجاج کرکے امت مسلمہ میں شامل ہونے کا ثبوت دیا۔ شاید ہم نے امت کے معاملات پر ردعمل صرف جماعت اسلامی کا ہی فرض سمجھ لیا ہے۔
اور میرے ملک کے سیکولر میڈیا کے تو کیا ہی کہنے‘ راجیش کھنہ کی موت پر دو دن ٹسوے بہاتے رہے مگر برمی مسلمانوں کی ایک خبر چلانے کا یارا نہ رہا۔ اداکارا¶ں کی موت پر صفحے کالے کرنے والے کالم نویس جانے کہاں گم ہو گئے۔ تقدیس مغرب بیان کرنے والے کیوں گنگ ہو گئے۔ صرف اس لئے کہ مظلوم کلمہ گو مسلمان ہے۔
آقائے دوجہان نے ارشاد فرمایا ”مسلمان جسد واحد کی طرح ہیں‘ ایک حصے میں تکلیف ہو تو سارا جسم بے چین رہتا ہے“۔ ہم امت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلمہیں اور برما کے مسلمانوں سے ہمارا کلمہ طیبہ کا رشتہ ہے۔ ان کا دکھ ہمارا دکھ ہے اگر آج ہم نے انکے درد کو پرایا مسئلہ سمجھ لیا تو یقین جانئے ہم امت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہونے کا اعزاز کھو بیٹھیںگے ہر فورم پر آواز اٹھائیے کیونکہ یہی اسلامی اخوت کا تقاضا ہے۔
اخوت اسکو کہتے ہیں چھبے کانٹا جو کابل میں
تو دہلی تک کا ہر پیرو جواں بے تاب ہو جائے
علم الاعداد اور علم الاسما کی روشنی میں سپریم کورٹ اور حکومت میں محاذ آرائی بڑھنے کا امکان ہے اور اس بڑھتی ہوئی محاذ آرائی کے نتیجے میں ماہ اگست کے آخر یا ستمبر کے شروع میں بساط الٹ سکتی ہے۔