امریکی مصنفین کہتے ہیں امریکہ زوال پذیر ہے

کالم نگار  |  قیوم نظامی

تھامس فریڈمین امریکہ کا معروف صحافی اور مینڈل بام نامور تعلیمی ماہر ہے۔ دونوں نے ایک تحقیقی کتاب "That Used to be USٰ" کے نام سے تحریر کی ہے۔ اس کتاب کا مرکزی خیال یہ ہے کہ امریکہ دنیا میں پیچھے کیسے رہ گیا ہے اور کھویا ہوا مقام کیسے حاصل کر سکتا ہے۔ امریکی مصنفین امریکہ کو درپیش خطرات سے آگاہ کرتے اور ان کا حل بھی پیش کرتے ہیں۔ دونوں مصنفین کا خیال ہے کہ امریکی عوام دنیا کے مقابلے میں پیچھے رہ گئے ہیں۔ امریکی سیاسی نظام مفلوج ہوچکا ہے۔ ادارے چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے قابل نہیں رہے۔ امریکہ کا سیاسی نظام بڑے مسائل کا ٹھوس حل پیش نہیں کرتا۔ امریکی مصنفین لکھتے ہیں ۔
"Our Country is in slow decline, just slow enouge for us to be able to pretend or believe that a decline is not taking place"
ترجمہ:۔ ”ہمارا ملک سست روی سے زوال پذیر ہے۔ اس کا انحطاط اس قدر سست ہے کہ ہم فریب میں مبتلا ہوکر یقین کر سکتے ہیں کہ امریکہ کی زوال پذیری واقع نہیں ہورہی“۔
امریکی مصنفین کے مطابق کثیر بجٹ خسارہ سیاسی بحران، معاشی انحطاط اور غیر معیاری تعلیم زوال کا سبب ہیں۔ فریڈمین اور مینڈل بام کہتے ہیں کہ امریکہ دنیا کے کئی ترقی کرنے والے ممالک سے پیچھے رہ گیا ہے اور اس کا مقدر ہی یہ ہے کہ 21ویں صدی میں مزید پیچھے چلا جائے۔ مصنفین نے امریکی پالیسی کی چار غلطیوں کی نشاندہی کی ہے جو سست زوال کا سبب بنی ہیں۔ نمبر 1۔ امریکہ نے سردجنگ کے خاتمے کو درست طور پر نہ سمجھا جس کے نتیجے میں نئے چیلنج پیدا ہوئے اور گلوبلائزیشن وجود میں آئی۔ نمبر 2۔ امریکہ نے ٹیکنالوجی میں پیش آنے والی تبدیلیوں کا درست اندازہ نہ لگایا جن سے دنیا کے مختلف ملکوں کے درمیان حائل رکاوٹیں ختم ہوگئیں۔ نمبر 3۔ 9/11 کے بعد غلط راستے کا انتخاب کرنا۔ نمبر 4۔ عظیم اولین امریکی نسل کی اخلاقی اقدار سے لاتعلقی۔
مصنفین کے خیال میں امریکہ کا تعلیمی نظام انحطاط پذیر ہے۔ 30 سال قبل کیلے فورنیا کا دس فیصد ریونیو ہائر ایجوکیشن کے لئے مختص کیا جاتا تھا اور 3 فیصد جیلوں پر خرچ کیا جاتا تھا۔ آج 11 فیصد جیلوں پر اور 8 فیصد ہائر ایجوکیشن پر صرف ہوتا ہے۔ مصنفین کو تشویش ہے کہ ایک فیصد امیر ترین امریکی ہر سال امریکہ کی کل آمدنی کا 25 فیصد ہڑپ کرجاتے ہیں۔ امیروں کو اجتماعی ترقی کی ضرورت نہیں رہی۔ انہوں نے اپنی دنیا ہی الگ بسا رکھی ہے۔ ان کے اپنے کنٹری کلب ہیں، اپنے سکول اور ہسپتال ہیں۔ ان کو پبلک سکولز کی ضرورت نہیں ہے۔ ان کا اپنا ٹرانسپورٹ سسٹم ہے۔ ان کو پرائیویٹ سکیورٹی کی سہولت حاصل ہے۔ امریکہ کے امیروں کو کوئی فکر نہیں ہے اگر پبلک سکولوں کا تعلیمی معیار گر رہا ہے اور پبلک ٹرانسپورٹ سسٹم تسلی بخش نہیں ۔ امریکی انتظامیہ نے گلوبل وارمنگ پر پوری توجہ نہیں دی اور نہ اس نے انرجی ٹیکنالوجی کو اپنی ترجیح بنایا ہے حالانکہ انرجی کی قیمتوں میں اضافہ بھی ہورہا ہے اور ماحولیات کا مسئلہ بھی سنگین ہوتا جا رہا ہے۔
امریکی مصنفین کے خیال میں معاشی اداروں کی ترقی کے لئے ضروری ہے کہ اجارہ داری کے بجائے شراکت داری کے اصول پر عمل کیا جائے۔ افراد پر سرمایہ کاری کرکے ان کی مہارتوں میں اضافہ کیا جائے۔ ملک تعلیم اور ورک فورس کی اہلیت اور مہارت میں اضافے سے ترقی کرتے ہیں ۔ مصنفین نے امریکہ کی دو بڑی سیاسی جماعتوں ڈیموکریٹ اور ری پبلکن کی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور کہا ہے خسارے کو کم کرنے اور ٹیکسوں میں اضافے کے بغیر معیشت مستحکم نہیں ہو سکے گی۔ امریکہ کو تاریخ سے سبق سیکھنا چاہئے۔ مصنفین نے ”کامیابی کے پانچ ستونوں“ کی نشاندہی کی جن کی بنیاد پر امریکہ دنیا کی عظیم قوم بننے میں کامیاب ہوا۔ نمبر 1۔ امریکہ نے شہریوں کو سائنس اور ٹیکنالوجی کی تعلیم فراہم کی۔ نمبر 2۔ امریکہ نے بہترین انفراسٹرکچر فراہم کیا۔ نمبر3۔ ایسے قواعد و ضوابط بنائے جن سے سرمایہ کے ذخائر جمع ہوئے اور سوسائٹی کو لوٹ مار کے عوامل سے بچایا۔ نمبر4۔ امریکہ انتظامیہ نے ریسرچ کی سرپرستی کی جس کے نتیجے میں ٹیکنالوجی کی نئی نئی ایجادات ہوئیں۔ نمبر5۔ امریکہ نے بائیو ٹیکنالوجی پر پوری توجہ دی۔ مصنفین کے مطابق امریکہ کے مستقبل کا انحصار اس بات پر ہے کہ وہ ان چار چیلنجوں کا مقابلہ کیسے کرتا ہے۔ نمبر1۔ گلولائزیشن۔ نمبر 2۔ انفرمیشن ٹیکنالوجی میں انقلاب۔ نمبر3۔ قومی خسارہ۔ نمبر4۔ انرجی کے استعمال کا بہتر انداز۔ امریکہ کو معاشی، سیاسی، سماجی، تعلیمی اور فنی بحرانوں کا سامنا ہے جن سے باہر نکلنا ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے۔
امریکی تھنک ٹینک اور رائٹرز امریکی انتظامیہ کو جگانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں مگر انتظامیہ ٹس سے مس ہونے کے لیے تیار نہیں ہے۔ دنیا پر حکمرانی قائم رکھنے کا جنون امریکہ کو لے ڈوبے گا اور اس کا انجام بھی روس کی طرح کا ہوگا۔ پاکستان کے مقتدر طبقے بھی امریکی مصنفین کے تجزئیے سے فائدہ اُٹھا سکتے ہیں۔ پاکستان حالات کا بے لاگ تجزیہ کرکے مستقبل کے لئے ٹھوس منصوبہ بندی کرے۔ جناب میاں نواز شریف اور جناب عمران خان اگر اپنی سیاسی جماعتوں سے اوپر اُٹھ کر سوچیں تو وہ 18 کروڑ عوام کو ایسا قومی ایجنڈا دے سکتے ہیں جو پاکستان کے لئے نسخہ کیمیا ثابت ہو۔