برطانوی امیگریشن پالیسی، پاکستان سمیت 7 ممالک کے شہری 3 ہزار پاﺅنڈ زرضمانت دینگے

لندن (خصوصی رپورٹ: خالد ایچ لودھی) برطانیہ کے امیگریشن قوانین میں نئی تبدیلیوں کے ذریعے ان قوانین کو مزید سخت بنایا جا رہا ہے اس سال نومبر میں برطانوی وزارت داخلہ ایک پائیلٹ سکیم کے تحت نئے امیگریشن قوانین کا نفاذ عمل میں لا رہی ہے، پاکستان، بھارت، نائیجیریا کے علاوہ ایشیا اور افریقہ کے دیگر ممالک کے شہری جو برطانیہ آنے کے خواہش مند ہونگے وہ برطانیہ کا وزٹ ویزا حاصل کرتے وقت بطور زر ضمانت 3 ہزار پونڈ کی رقم جم کرائیں گے اگر یہ شہری برطانیہ میں اپنے قیام کی مدت سے تجاوز کریں گے تو یہ رقم ضبط کر لی جائے گی مقررہ میعاد کے اندر واپس جانے والے شہریوں کو 3 ہزار پونڈ واپس کر دیئے جائیں گے۔ برطانوی امیگریشن قوانین کا اطلاق مرحلہ وار کیا جائے گا جس کے تحت پائیلٹ سکیم کے پہلے مرحلے میں پاکستان، بنگلہ دیش، بھارت، سری لنکا، گھانا اور نائیجیریا کے شہریوں کو شامل کیا جائے گا دوسرے مرحلے میں کینیا کو بھی شامل کر لیا جائیگا گزشتہ سال برطانیہ آنے والے وزیٹرز کی تعداد 296000 کے لگ بھگ تھی جن میں پاکستان کے 14000 کے قریب شہری شامل تھے۔ برطانوی وزارت داخلہ کے ترجمان کے مطابق برطانیہ آنے والے شہریوں کیلئے 3ہزار برطانوی پونڈ ویزا فیس کے علاوہ ہونگے اور اسکے باوجود ویزے کے اجرا کی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ آسٹریلیا میں اسی طرز کا امیگریشن سسٹم کام کر رہا ہے جس کو اب برطانیہ میں بھی نافذ کیا جا رہا ہے تاکہ برطانوی امیگریشن سسٹم میں بے ضابطگیوں پر قابو پایا جا سکے اور تارکین وطن کے سیلاب کو بھی روکا جا سکے۔